جاوید چوہدری کی تحریر نے سوشل میڈیا پر دھوم مچا دی

لاہور (ویب ڈیسک) میں وزیراعظم کے بے شمار کارناموں کا ناقد ہوں‘ میں کھل کر ان پر تنقید بھی کرتا رہتا ہوں لیکن اس کا ہرگز ہرگز یہ مطلب نہیں عمران خان کے سارے فیصلے غلط ہوتے ہیں اور یہ اگر اڑنا شروع کر دیں گے تو بھی ہمیں ان کی اڑان میں ٹیڑھا پن دکھائی دے گا‘

نامور کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں۔۔۔۔۔وزیراعظم نے ماضی میں بے شمار غلط فیصلے کیے اور یہ ان شاء اللہ مستقبل میں بھی کرتے رہیں گے لیکن جہاں تک bhang کی کاشت کا تعلق ہے میں ان کے اس فیصلے کو صحیح سمجھتا ہوں‘ میں جانتا ہوں میں ایک اور غیر مقبول کالم لکھ رہا ہوں‘میری اس کالم پر بھی ٹھکائی ہو گی۔کیوں؟ کیوں کہ ہم غیر معقول اور جذباتی تحریروں اور نعروں کے عادی ہو چکے ہیں‘ ہمیں عقل کی بات بری اور ایجنڈا محسوس ہوتی ہے لیکن کسی نہ کسی نے تو استروں کا یہ ہار اپنے گلے میں ڈالنا تھا چناں چہ میں نے اپنی جان پر کھیلنا شروع کر دیا اور ظاہر ہے اس کی ایک قیمت ہے اور مجھے اب یہ چکانا پڑے گی اور میں اس کے لیے تیار ہوں چناں چہ آپ کو مستقبل میں ایسے بے شمار غیر مقبول اور غیر جذباتی کالم پڑھنے کو ملیں گے اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک میں ریٹائرمنٹ نہیں لے لیتا اور کسی بحری جہاز میں سوار ہوکر دنیا کو ایک سائیڈ سے دیکھنا شروع نہیں کر دیتا تاکہ عمر کی باقی نقدی چل چل اور گھس گھس کر تمام ہو جائے اور بلبلہ پھٹ کر پانی میں جذب ہو جائے اہرین ریسرچ کرتے کرتے ٹی ایچ سی کی سطح کو تین فی صد اور سی بی ڈی کو 97 فی صد تک لے آئے ہیں اور یہ بہت بڑا کمال ہے‘ امریکا کی کے متعلقہ ادارے نے اس کمال کے بعدنئی فصل کا معائنہ کیا۔لیبارٹریوں میں ٹیسٹ کیا اور اسے انسانی صحت کے لیے مفید قرار دے دیاجس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دسمبر2018 میں جدید bhang ( میری جوانا) کو امریکا میں لیگل قرار دے دیا‘ یہ ہیمپ (Hemp) بھی کہلاتی ہے لہٰذا حکومت کی اجازت کے بعد امریکا میں ہیمپ ایک نئی انڈسٹری بن گئی‘ ہیمپ کا منرل واٹر بھی آ گیا اور اس کی گولیاں ‘ چیونگم ‘ مرہم ‘ ان ہیلر ‘ شیمپو ‘ تیل اور کریمیں بھی آگئیں‘ مارکیٹ میں اب ہیمپ کے سگریٹ بھی دستیاب ہیں اور لوگ یہ تمام اشیاء کھلے عام استعمال کر رہے ہیں‘ ریسرچ کے مطابق یہ بلڈ پریشر‘ کولیسٹرول اور شوگر میں بھی

معاون ہے اور یہ ڈپریشن کی ادویات کی جگہ بھی لے رہی ہے‘ یہ بڑی تیزی سے فارما سوٹیکل انڈسٹری کی ہیئت بھی تبدیل کر رہی ہے‘ ماہرین کا خیال ہے ہیمپ چند برسوں میں کھانے اور پینے کی ہر چیز میں شامل ہو جائے گی‘ اس کی گیس بھی فضا میں چھوڑی جائے گی اور یہ تمام سگریٹوں میں بھی استعمال ہو گی۔پاکستان میں یہ آئیڈیا ہیوسٹن میں مقیم امریکی پاکستانی بزنس مین طاہر جاوید لے کر آئے‘ یہ ہیلری کلنٹن کے ساتھی ہیں‘ یہ عمران خان کے دوست بھی ہیں‘امریکا میں ان کی ایک کمپنی ہیمپ کے سگریٹ بناتی ہے‘ یہ آئیڈیا طاہر جاوید نے 2018 میں عمران خان کو دیا تھا اور وفاقی وزیر شہریار آفریدی نے بیان دے دیا تھا حکومت bhang , charas , afune کی فیکٹریاں لگائے گی ‘وفاقی کابینہ نے بہرحال یکم ستمبر 2020 کو پشاور‘ جہلم‘ اور چکوال میں bhang کی کاشت کی اجازت دے دی‘ یہ bhang صنعتی مقاصد اور ادویات کے لیے کاشت ہو گی اور ایکسپورٹ کی جائے گی۔یہ ایک اچھا فیصلہ ہے‘ ہم نے اگر اس پر بھی جم کر کام کر لیا تو مجھے یقین ہے یہ ایک قدم پاکستان کے سارے قرضے اتاردے گا‘ آپ اگر میری تجویز کو طنز نہ سمجھیں تو حکومت کو اب ان چیزوں کی انڈسٹری بھی اپنے کنٹرول میں لے لینی چاہیے‘ دنیا میں ان کی بھی بے انتہا لیگل ٹریڈ ہوتی ہے‘ یہ چیزیں بھی ادویات میں استعمال ہوتی ہیں‘ آپ ایک ہی ہلے میں یہ فیصلہ بھی کر دیں‘ یہ بھی ملک کے لیے مفید ثابت ہو گا‘ میں دل سے سمجھتا ہوں ملک میں اس نوعیت کے بولڈ فیصلے صرف عمران خان کر سکتے ہیں‘ باقی کسی میں اتنی ہمت اور جرات نہیں ہو سکتی چناں چہ ملک کو عمران خان سے زیادہ سے زیادہ فائدے اٹھا لینے چاہییں‘ ہمیں یہ موقع دوبارہ نہیں ملے گا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.