پاکستانی حکم نے وفد کے کس مطالبے پر صاف انکار کردیا ؟

اسلام آباد (ویب ڈیسک) امریکی نائب وزیر خارجہ وینڈی شرمن پاکستان کا دو روزہ دورہ مکمل کرنے کے بعد جمعہ کی شب اپنے وفد کے ہمراہ واپس روانہ ہوگئیں،سفارتی ذرائع دورہ پاکستان کے حوالے سے ابھی تفصیلات بتانے سے قدرے گریزاں ہیں۔تاہم انہوں نے افغانستان کے تناظر اور دونوں ملکوں کے درمیان بعض امور پر مکمل اتفاق رائے

حاصل کرنے کیلئے اس دورے کو غیر معمولی طور پر اہم قرار دیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ خطے میں ہونے والی وسیع پیش رفت کے حوالے سے امریکی نائب وزیر خارجہ کا دورہ نہ صرف نازک وقت پر ہوا ہے جو دورس نتائج کا حامل بھی ہوسکتا ہے۔ اسلام آباد میں اپنے وفد کے ہمراہ وینڈی شرمن نے شاہ محمود قریشی،معید یوسف اور آرمی چیف سے ملاقاتیں کیں تاہم وزیراعظم عمران خان سے ان کی ملاقات نہ ہونے پر بعض حلقے محض حقائق سے لاعلمی کے باعث بالخصوص سوشل میڈیا پر حیرت کے ساتھ قیاس آرائیاں کر رہے ہیں۔امر واقعہ ہے کہ یہ ملاقات سرے سے شیڈول ہی نہیں تھی ، اس سے قبل سی آئی اے چیف ولیم برنس نے رواں سال ہی پاکستان کا خفیہ دورہ کیا تھا۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی حکام کا خیال تھا کہ پاکستان امریکہ کو فوجی اڈے تک رسائی دینے میں اگر انکار یا مزاحمت کرتا ہے تو وہ محض رسمی اور ظاہری ہوگی لیکن مذاکرات کے بعد واشنگٹن کو بتایا کہ ’’پاکستانی حکام بہت سخت شرائط طے کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ امریکی عہدیداروں کے مطابق سی آئی اے سربراہ وزیراعظم عمران خان سے ملنے کے خواہشمند تھے لیکن انہیں واضح لفظوں میں بتایا گیا کہ صرف ’’ہم منصب ملاقات‘‘ ہی ممکن ہے تاہم بعض حلقوں کا خیال تھا کہ ہم منصب سطح پر ملاقات پر اصرار درحقیقت صدر بائیڈن کے وزیراعظم عمران خان سے رابطہ کرنے میں پس وییش اور نظرانداز کرنے کے طرز عمل کا ردعمل تھا۔ اب وینڈی شرمن کے دورہ کے حوالے سے ناقدین نے اس بات کا بھی نوٹس لیا ہے کہ جب وہ وزارت خارجہ پہنچیں تو ایک ڈائریکٹر جنرل نے ان کا استقبال کیا جبکہ وزیر خارجہ نے اپنے چیمبر کے باہر ان کا خیر مقدم کیا اس کے علاوہ بھی دورے کی بعض جزئیات پر نگاہ رکھنے والے اس دورے میں ’’بامقصد اور نتیجہ خیز گرمجوشی‘‘ کا فقدان محسوس کرتے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل زکر ہے کہ وینڈی شرمن نے جمعرات کو نئی دہلی میں ایک تقریب میں شرکت کے دوران کہا تھا کہ۔ ان کا دورہ پاکستان بہت مخصوص اور محدود مقاصد کیلئے اور وہ فی الوقت پاکستان سے وسیع البنیاد تعلقات کی متمنی نہیں ہیں اور نہ ہی ہمیں ایسا نظر آرہا ہے کہ فی الوقت پاکستان سے وسیع البنیاد تعلقات قائم کریں۔

Comments are closed.