پاکستانی سیاسی تاریخ کے چند حیران کن واقعات

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار اسد اللہ غالب اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔چوہدری پرویز الٰہی سے میرے تعلقات کی تاریخ اتنی طویل ہے کہ لکھنے بیٹھوں تو کتابیںبھر جائیں لیکن اس وقت میرا یہ مقصد ہرگز نہیں ہے۔میں انکی سیاست کا ایک طائرانہ جائزہ لینا چاہتا ہوں کہ انہوں نے کامیابیوں کا سفر اس قدر

تیزی سے کیسے طے کیا ۔ اور انہیں کن مشکلات کا سامنا رہا۔پرویز الٰہی کا مقابلہ ہمیشہ میاں شہباز شریف سے کیا جاتا ہے۔ مگر پرویز الٰہی سیاست میں کہیں آگے نکل گئے ہیں اور ستاروں پر کمندیں ڈال رہے ہیں۔دونوں پنجاب کے چیف منسٹر رہے اور دونوں کے بارے میں کہا جاتاہے کہ وہ مفاہمت کی سیاست کرتے ہیں ۔ مگر بد قسمتی کی بات ہے کہ شہباز شریف کو مفاہمت کا اجر کبھی نہیں ملا اور اس وقت بھی ان کی یہ سیاست ناکامی سے دوچار ہے جبکہ چوہدری پرویز الٰہی ترقی کے زینے تیزی سے طے کر رہے ہیں اور کامیابیاں ہمیشہ سے انکے قدم چومتی رہی ہیں ۔چوہدری پرویز الٰہی نے ہم عصر سیاست دانوں کی طرح اپنے کیریئر کا آغاز بلدیاتی اداروں سے کیا ۔مگر پہلے پہل تو قید و بند انکے حصے میں آئی ۔بھٹو کے دور میں پی این اے کی مزاحمت کی تحریک چلی تو پرویز الٰہی کو قید خانے کی ہوا کھانی پڑی۔ گجرات کا چوہدری خاندان سیاسی انتقام کا نشانہ بنتا رہاہے ۔چوہدری ظہور الٰہی پر بھینس چوری کا ایک مزاحیہ مقدمہ بنا، ہماری سیاسی تحریک کا یہ ایک سنگین مذاق تھا ۔ چوہدری خاندان کی چھوٹی چھوٹی ملیں بھی بھٹو صاحب کے ہاتھوں قومی ملکیت میں لے لی گئیں ۔ضیاء الحق کا مارشل لاء لگا تو چوہدری ظہور الٰہی کو مرکز میں وزارت سونپی گئی اور پنجاب کے گورنرغلام جیلانی نے چوہدری پرویز الٰہی کو اپنی کابینہ میں شامل کیا ،یہی وہ زمانہ ہے جب میری ان سے ڈھیروں ملاقاتیں ہوتی رہیں ۔صبح کا ناشتہ بھی انکے گھر پر ہوتا تھا اور رات کا کھانا بھی ،

کبھی میں دوپہر کو بھی انکے گھر جا دہمکتا تھا۔ روٹی شوٹی تو وہاں کھلی رہتی تھی۔چوہدری ظہور الٰہی کو زندگی سے محروم کیا گیا تو ہر سال انکی برسی گجرات میں منائی جاتی تھی ۔ یہ اتفاق کی بات ہے کہ ان دنوں انکے دوست صحافیوں میں سے صرف میرے پاس ہی ایک کار تھی وہ بھی چھوٹی سو زوکی۔ مگر میرے دل کی طرح اس کی کشادگی بھی بہت تھی ۔میں اس میں مجیب الرحمٰن شامی کو بٹھاتا، خواجہ افتخار کو بٹھاتا،شعیب بن عزیز کو بٹھاتا،شفیق جالندھری کو بٹھاتا اور برسی کے موقع پر ہم گجرات روانہ ہوجاتے ۔برسی کی تقریب میں مجیب شامی اور خواجہ افتخار جذباتی تقریریں کرتے اور محفل کو گرما دیتے، پرویز الٰہی تقریب کے اسٹیج سیکرٹری کے فرائض انجام دیتے تھے ،وہ میرا نام لے کر شکریہ ادا کرتے کہ میں بڑی بڑی نامور ہستیوں کو لاہور سے اس تقریب میں لیکر آیا ہوں ۔ یہاں میں یہ بتاتا چلوں کہ چوہدری ظہور الٰہی کی موت کی وجہ کیا بنی۔ جنرل ضیا ء الحق نے جس پین سے بھٹو کی سزا کے وارنٹ پر دستخط کیے‘ وہ پین ظہور الٰہی نے سوینیئر کے طور پر مانگ لیا اور ضیاء الحق نے انہیں دے بھی دیا ۔یہ پین آج بھی ظہور پیلس گجرات کے عجائب خانے میں موجود ہوگا جیسا کہ ظہور الٰہی کی وہ مر سیڈیز بھی یادگار کے طور پر وہاں کھڑی ہے جس میں ان کوزندگی سے محروم کیا گیا تھا۔ الذولفقار تنظیم نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ظہور الٰہی صاحب کو

زندگی سے محروم کیا ہے ،چوہدری ظہور الٰہی کی موت کے بعد ان کے بیٹے چوہدری شجاعت کو مرکز میں وزیر بنا دیا گیا۔ جنرل جیلانی دور میں میرے دوست شعیب بن عزیز ایک صبح اچانک میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ پرویز الٰہی آپکے دوست ہیں میرے ساتھ چلیں اور ان سے سفارش کریں کہ وہ مجھے رہائش کے لیے سرکاری گھر دلوائیں ۔شعیب بن عزیز صاحب کو گھر تو مل گیا لیکن یہ ناممکن سی بات تھی ۔ میرا خیال ہے کہ پرویز الٰہی جانتے تھے کہ یہ کام ذرا مشکل ہے تو انہوں نے اپنے ساتھ صوبائی کابینہ کے تین اور وزراء کو بھی شامل کرلیا جن میں چوہدری عبد الغفور، حامد ناصر چٹھہ، اور ملک اللہ یار شامل تھے،اتنا بڑا وفد ایڈیشنل چیف سیکرٹری کے کمرے میں پہنچا تو کوئی وجہ نہ تھی کہ شعیب صاحب کا کام نہ ہوتا مگر میں داد دیتاہوں چوہدری پرویز الٰہی صاحب کو ، انہوںنے خلوص نیت سے یہ سمجھا کہ شاید ان کے اپنے کہنے سے یہ کام نہ ہو انہوں نے وزراء کے ایک بھاری وفد کو اپنے ساتھ شامل کرلیا اس کا مطلب یہ بھی تھا کہ وہ میری یا شعیب صاحب کی بات کو ٹال مٹول کے نذر نہیں کرنا چاہتے تھے۔ میں نے یہ واقعہ اس لیے بیان کیا ہے تاکہ یہ ظاہر ہوسکے کہ چوہدری پرویز الٰہی دوستوں کے ساتھ کس قدر دوستی نبھانے کے قائل تھے۔ پچاسی میں جنرل ضیا ء الحق نے غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کروائے،چوہدری پرویز الٰہی بھاری ووٹ لیکر پنجاب کی صوبائی اسمبلی کے

لیے منتخب ہوئے ۔اب مسئلہ یہ آن پڑا تھا کہ نیا وزیر اعلیٰ کون ہوگا ،اس دوڑ میں پرویز الٰہی کے علاوہ میاں نواز شریف ،مخدوم حسن محمود ،ملک اللہ یار خان ، چوہدری حامد ناصر چٹھا جیسے تگڑے لوگ شامل تھے ،سب نے شو آف پاور کے لیے ارکان اسمبلی کی ضیافتیں شروع کر دیں ۔بہر حال جنرل ضیاء الحق اور جنرل غلام جیلانی کی طرف سے قرعہ فال میاں نواز شریف کے حق میں نکلا۔ چوہدری پرویز الٰہی کو ایک مرتبہ پھر صوبائی کابینہ میں شامل کیا گیا مگر میاں نواز شریف کے طرز حکومت کی وجہ سے ایک سیاسی بھونچال آیا اور پنجاب کے ارکان اسمبلی نے بڑے پیمانے پر میاں نواز شریف کی وزارت اعلیٰ کے خلاف علم بغاوت بلند کردیا ۔ جو لوگ اس تحریک میں پیش پیش تھے ان میں نصراللہ دریشک اور چوہدری پرویز الٰہی شامل تھے ۔باغی گروپ کا خیال تھا کہ میاں نواز شریف کو ہٹا کر چوہدری پرویز الٰہی کو وزیر اعلیٰ بنایا جائے، چوہدری پرویز الٰہی کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ لاہور میں انکے گھر کے باہر ارکان اسمبلی کی سینکڑوں کاریں صبح شام دیکھی جا سکتی تھیں ۔چوہدری پرویز الٰہی کی سیاسی زندگی کو پہلا جھٹکا لگا اور جنرل ضیاء الحق نے ایک بار پھر اپنا وزن نواز شریف کے پلڑے میں ڈالا ، پیر صاحب پگاڑہ کی حمایت بھی چوہدری پرویز الٰہی کے کام نہ آئی ۔ اور میاں نواز شریف نے اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ بڑی آسانی سے حاصل کرلیا ،میں اسے چوہدری پرویز الٰہی کی شکست خیال نہیں کرتا اس لیے کہ فیصلے کا اختیار اراکین اسمبلی کے ہاتھ میں نہیں تھا بلکہ فرد واحد جنرل ضیا ء الحق کی من مرضی چلی ۔

Comments are closed.