پاکستانی شوبز کا حیران کن واقعہ

لاہور (ویب ڈیسک) سلطان راہی مرحوم کی کئی فلموں کے ہدایتکار حسن عسکری اپنی ایک تحریر میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ہولی وڈ کے پروموٹر جان بیک نے کہا کہ اس فلم کی کہانی کیا ہے۔ سلطان راہی نے انگریزی میں ان کو بتایا۔ جان بیک نے کہا کہ تم اس فلم کا نیگیٹو لے آئو،

ہم اس فلم میں تم کو ہیرو بنا کر اس کو ری میک کریں گے۔ اس واقعے کے بعد سلطان راہی اور آصف ریاض قدیر میرے گھر آئے اور میں نے ان کو فلم ’’طوفان‘‘ کا نیگیٹو دینے سے انکار کر دیا۔ میں نے سوچا کہ یہ فلم یہ کردار میرا ہے۔ جب یہ سب کچھ میرا سرمایہ ہے تو سلطان راہی کو کہنا چاہئے تھا کہ اس فلم کی خوبصورتی میری پرفارمنس کے نکھار کا کریڈٹ حسن عسکری کو جاتا ہے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ آصف ریاض قدیر اس واقعہ کے بعد بھی میرے گھر آتے رہے لیکن چونکہ وہ میرے بھی دوست تھے، اس لئے انہوں نے مجھ سے دوبارہ بات نہیں کی۔ میں نے سلطان راہی سے تھوڑا وقت مانگا لیکن نیگیٹو نہیں دیئے۔ اگر وہ مجھے اعتماد میں لے کر یہ کام کرتا تو شاید میں نیگیٹو دے دیتا۔ راہی صاحب نیگیٹو کے لئے بضد رہے اور میں اس پر بضد رہا کہ میرا نام بھی اس فلم کے حوالے سے لیا جانا چاہئے۔ سلطان راہی ایورنیو اسٹوڈیو میں نماز پڑھنے جا رہے تھے تو انہوں نے مجھ سے شکوہ کیا کہ حسنی تم نے میری ضرورت پوری نہیں کی لیکن تمہیں میری ضرورت پڑے گی۔ جس کے جواب میں، میں نے کہا کہ آپ کے توسط سے اگر مجھے رزق ملنا ہے تو مجھے نہیں چاہئے۔ مجھے یہ زعم تھا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے سلطان راہی کا وسیلہ بنایا ہے اور پھر ہم نے ایک طویل عرصے تک اکٹھے کام ہی نہیں کیا۔ راہی صاحب یہ سمجھتے رہے کہ ان کے بغیر کوئی فلم نہیں بن سکتی اور

میں نے اس دوران سلطان راہی کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ میں نے اردو فلمیں بنانا شروع کر دیں اور اس دوران میں نے ’’بے قرار‘‘،’’ بے تاج بادشاہ‘‘، ’’تلاش‘‘،’’ دوریاں‘‘، ’’سونے کی تلاش‘‘ بنائیں اور مجھے فلم ’’دوریاں‘‘ پر نیشنل ایوارڈ بھی ملا۔ اس دوران میرے پاس پنجابی فلموں کے پروڈیوسر آتے رہے لیکن میں ان کو انکار کر دیتا تھا کیونکہ ان دنوں سلطان راہی کے بغیر پنجابی فلم نہیں بنتی تھی اور میں نے ان کو لینا نہیں تھا۔ ایک دن پروڈیوسر حامی بٹ میرے پاس آئے، انہوں نے مجھ سے سلطان راہی کے ساتھ فلم کرنے کو کہا۔ میں نے اپنے اختلاف کا ذکر کیا اور کہا کہ شاید ہم دونوں اکٹھے کام نہ کریں، اس لئے میں جو کر رہا ہوں ۔ میں اس میں خوش ہوں لیکن انہوں نے کہا کہ سلطان راہی آپ کے ساتھ کام کرنا چاہتا ہے۔ حامی بٹ کے کہنے پر میں نے ہاں کر دی اور کہا کہ اس سے بھی تو پوچھ لیں کہ کیا وہ کام کرنا پسند کرتا ہے کہ نہیں۔ چوہدری اجمل کی فلم ’’قسمت‘‘ کے سیٹ پر ہماری ملاقات طے ہوئی۔ میں بادل نخواستہ حامی بٹ کے ساتھ وہاں پہنچ گیا۔ تو وہ ’’بابل تیری میری چھو‘‘ گیت کے گیٹ اَپ میں باہر آ گئے۔ مجھے دیکھ کر مسکرائے، وہاں موجود لوگوں نے کہا کہ آپ تو باپ بیٹا تھے، کیا ہوا۔ پھر وہاں پر حامی بٹ نے کہا کہ آپ سلطان راہی کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں، تو میں نے کہا، آپ ان سے پوچھیں،

پھر وہ مسکرائے اور ہم نے ایک دوسرے کو گلے لگا لیا۔ اس کے بعد ہم نے ’’میلہ، مفرور، پتر جگے دا، شیردل، گنڈاسہ‘‘ جیسی فلمیں بنائیں۔ ہم شاید دونوں ہی ایک دوسرے کا وسیلہ تھے۔ اس واقعے کے بعد ہمارے تعلقات پہلے سے زیادہ مضبوط ہوئے اور ہم ایک دوسرے کے اور بھی قریب آ گئے۔ چار سالوں میں وہ اپنے منہ سے کہا کرتے تھے کہ ایک ڈائریکٹر ہے جس کو سلطان راہی کی ضرورت نہیں۔ سلطان راہی کہا کرتے تھے کہ جس روز حسنی چاہے گا، دوسرا سلطان راہی پیدا ہو جائے گا۔ میری کبھی سلطان سے نفرت اس انتہا تک نہیں پہنچی کہ میں دوسرا سلطان راہی بناتا۔ حیدر چوہدری بہت بڑے ڈائریکٹر ہیں لیکن سلطان راہی نے ان کے ساتھ شاید ایک فلم کی ہے۔ سلطان راہی سے اگر کوئی زیادتی کرتا تھا تو کسی کو بددعا تک نہیں دیتے تھے، اللہ پر چھوڑ دیتے تھے، انہوں نے کبھی کسی سے شدید نفرت نہیں کی۔ ہمارے تعلقات کی تجدید ہو گئی، ہم پھر سے ایک ہو گئے۔ 1986ء میں سلطان راہی کا معاوضہ ساڑھے تین لاکھ روپے ہوتا تھا۔ ہم کسی فلم کی ڈبنگ کرنے جا رہے تھے۔ مجھے اس نے سیڑھیوں میں روک لیا اور کہنے لگے کہ مجھے احساس ہے کہ میرے فلم ساز ساڑھے تین لاکھ معاوضہ نہیں دے سکتے، میں رضاکارانہ طور پر اپنا معاوضہ تین لاکھ کر رہا ہوں۔ میں نے جو فلمیں مکمل کر لی تھیں اور ان سے ساڑھے تین لاکھ روپے لے چکا ہوں، ان کو بھی 50 ہزار واپس کر دیئے ہیں اور میں حیران رہ گیا۔ اس طرح کے کام انڈسٹری میں شاید کوئی اور نہ کر سکے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.