پاکستانی لکیر کے فقیر

لاہور (ویب ڈیسک) سیالکوٹ سانحہ انتہائی قابل افسوس، اتنا دل دکھانے والا کہ الفاظ نہیں کہ بیان کر سکوں۔ سر شرم سے جھک گئے، شرمندگی ایسی کہ دل نہیں چاہتا، اس پر کوئی بات بھی کرے لیکن اس ظلم کو کوئی کیسے بھول سکتا ہے؟ ہم نے اسلام کو بدنام کیا، پاکستان کی جگ ہنسائی کروائی

لیکن سب سے اہم یہ بات کہ ہم اللہ تعالیٰ کو کیا جواب دیں گے؟ نامور کالم نگار انصار عباسی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔مبینہ طور پر ایک سٹیکر اتارنے پر ایک فرد نے توہین مذہب کا الزام لگایا، باقیوں نے اس پر آنکھیں بند کرکے اعتبار کیا، نہ کوئی ایف آئی آر کٹی، نہ مقدمہ چلا، نہ عدالت بیٹھی، ہجوم نے خود ہی فیصلہ کیا اور سری لنکا سے تعلق رکھنے والے فیکٹری منیجر کو انتہائی ظالمانہ طریقہ سے زندگی سے محروم کر دیا اور پھر حوالہ آگ کر دیا ۔ ساتھ ساتھ وڈیو بھی بناتے رہے تا کہ دنیا بھر کو بتائیں کہ ہم کیسے مسلمان ہیں؟ مسلمانوں کی جو تصویر سیالکوٹ کے اس ہجوم نے پیش کی اُس کا اسلام سے کیا تعلق لیکن دنیا تو یہی کہے گی کہ دیکھیں یہ ہیں مسلمان اور یہ ہے اِن کا اسلام۔ اس سانحہ نے ہر پاکستانی کو شرمندہ کیا، حکومت ہو، اپوزیشن، علماء ہوں یا میڈیا سب اس واقعہ کی مذمت میں یک زباں ہیں لیکن دنیا تو اُس ظالمانہ وڈیو پر اعتبار کرے گی اور اُسی نظر سے مسلمانوں اور اسلام کو دیکھے گی جو تصویر ہم نے سیالکوٹ میں پیش کی۔ محترم مفتی تقی عثمانی اس سانحہ پر اپنے بیان میں کہتے ہیں توہین رسالت انتہائی سنگین جرم ہے لیکن ملزم سے اس کے ارتکاب کے ثبوت بھی اتنے ہی مضبوط ہونا ضروری ہیں، کسی پر الزام لگا کر خود ہی اسے وحشیانہ اور حرام طریقے سے سزا دینے کا کوئی جواز نہیں۔

پاکستان کے دیگر بڑے علمائے کرام بشمول محترم مفتی منیب الرحمٰن نے بھی اس واقعہ کو پاکستان اور اسلام کی بدنامی کا سبب قرار دیا۔ وزیراعظم عمران خان بھی بجا طور پر اس واقعہ پر انتہائی افسردہ ہیں۔ اس واقعہ کی مذمت تو ہر طرف سے ہو رہی ہے، یہ بھی تسلیم کیا جا رہا ہے کہ جو کچھ ہوا وہ اسلامی تعلیمات کے سراسر منافی اور ظلم ہے۔ سب مانتے ہیں کہ بحیثیت قوم ہم میں بہت سی خرابیاں سرایت کر چکی ہیں جس کی وجہ سے آئے روز یہاں نئے نئے سانحات جنم لیتے ہیں۔ ہم نام کے مسلمان تو ضرور ہیں لیکن ہمارے رویے، ہمارے اعمال ایسے ہیں کہ انسانیت شرما جائے۔ ہر قسم کے جرائم، گناہ، طرح طرح کی برائیاں، کوئی ایسی خرابی نہیں جو ہم میں موجود نہیں۔ جھوٹ،فراڈ، بے ایمانی، وعدہ خلافی، ملاوٹ ہر طرف پھیل چکی، معاشرتی برائیاں نئے نئے رنگ کے ساتھ اپنی تمام تر سنگینیوں کے ساتھ آئے دن ہمارا منہ چڑاتی ہیں۔انصاف نام کی کوئی شے یہاں نہیں۔ نہ یہاں کسی کی عزت محفوظ ہے، نہ جان نہ مال اور سیالکوٹ سانحہ ایسے ہی ایک گلے سڑے معاشرہ کا ایک نتیجہ ہے جو مکمل تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ ہم خراب معیشت، بُرے طرز حکمرانی اور ڈولتی جمہوریت کا رونا تو روتے رہتے ہیں لیکن اُس اصل اور بنیادی مسئلہ کی طرف کوئی توجہ نہیں جس نے ہم سے انسانیت تک چھین لی، ہم میں ہر خرابی کو پروان چڑھایا۔ بنیادی مسئلہ معاشرہ کی کردار سازی اور تربیت کانہ ہونا ہے۔

ہم نام کے مسلمان ضرور ہیں لیکن ہمیں نہ اسلام پڑھایا گیا اور نہ ہی اسلام کے سنہری اصولوں سے ہماری واقفیت ہے۔ ایک ایسا مذہب جو ہمیں سبق پڑھاتا ہے کہ ناحق ایک انسان کو زندگی سے محروم کرناپوری انسانیت کی جان لینے اور ایک انسان کی جان بچانا پوری انسانیت کی جان بچانے کے مترادف ہے، اُس سے ہمارا اور ہماری عملی زندگی کا کوئی تعلق نہیں۔ ہم نے پاکستان کو اسلام کے نام پر قائم تو ضرور کیا ، اسلام کا نعرہ بھی لگاتے رہے، آئین پاکستان میں بھی اسلام کو شامل کر لیا لیکن عملاً ریاست نے اسلام کو outsource کر دیا اور خود اسلام کے نفاذ اور اسلامی تعلیمات کے مطابق افراد اور معاشرہ کی تربیت سے ہاتھ اُٹھا لیا۔ جب اسلام کو outsource کر دیا تو ایک طرف تو معاشرہ کے افراد اور گروہوں نے اسلام کو اپنی اپنی مرضی کے رنگ پہنا دئیے جس سے طرح طرح کی خرابیاں پیدا ہو گئیں اور دوسری طرف کردار سازی اور تربیت کے نہ ہونے کی وجہ سے بحیثیت قوم ہم ہر طرح کے خرابیوں اور برائیوں کی دلدل میں دھنستے چلے گئے اور آج ہماری حالت ایسی ہے کہ کوئی معجزہ ہی ہمیں تباہی سے بچا سکتا ہے۔ یہ معجزہ کیسے ممکن ہوگا۔ اس کے لیے سب سے پہلے ریاست کو اپنی ذمہ داری پوری کرنا پڑے گی یعنی ایک طرف قرآن و سنت کی تعلیمات سے معاشرہ کو روشناس کرانا پڑے گا تاکہ ــ’’اپنا اپنا اسلام ـ‘‘ کا رواج ختم ہو،اس کے ساتھ ساتھ اسلامی اصولوں کے مطابق معاشرہ اور افراد کی تربیت کرنا ہو گی جس میں تعلیمی اداروں، مساجد و مدارس اور میڈیا کا اہم کردار ہو گا۔ اس معجزہ کو ممکن بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا ہو گا ورنہ تباہی کے لیے یہ معاشرہ بے قرار ہے۔

Comments are closed.