پاکستانی نوجوانوں کے کام کی خبر آگئی

اسلام آباد(ویب ڈیسک)وفاقی وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین اور وفاقی وزیر صنعت و پیداوار مخدوم خسرو بختیار نے کہا ہے کہ پاکستان کو مضبوط صنعتی بنیاد کی ضرورت ہے‘ مضبوط صنعتی بنیاد کے بغیر ہم معاشی مسائل سے باہر نہیں نکل سکتے، ہمیں امپورٹ اکانومی سے جان چھڑانا ہوگی ‘ وفاقی کابینہ اور پنجاب حکومت نے

پہلی بار چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز)کے لئے پالیسی منظوری کی ہے‘.ایس ایم ای پالیسی 2021ءکے تحت چھوٹے اور درمیانے درجے کے نئے کاروبار کرنے والوں کو ایک کروڑ روپے تک کا بلا ضمانت قرضہ فراہم کیا جائے گا‘پیداواری کاروباروں کو ٹیکسوں میں 57 فیصد سے 83 فیصد تک خصوصی چھوٹ دی جائے گی ‘نیا کاروبار شروع کرنے والوں کو این او سی سے بھی آزادی ہوگی‘.ایس ایم ایز کے شعبہ میں کاروبار کرنے والی خواتین کو ٹیکس میں 25فیصد خصوصی رعایت دی جائے گی ‘ ایس ایم ایز کے شعبہ تک رسائی لئے 23 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں.ملک کے مختلف شہروں میں ایس ایم ایز کے لئے 4200 ایکڑ اراضی مختص کی گئی ہے جہاں پر 19 ہزار 500 پلاٹس آسان اقساط پر فراہم کئے جائیں گے‘ایس ایم ایز کو تین درجوں لوئر رسک، میڈیم رسک اور ہائی رسک میں تقسیم کیا گیا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو یہاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ چوہدری فواد حسین نے کہا کہ ہم ملکی معیشت میں بہت بڑی تبدیلی لائے ہیں‘ د بئی اور سنگاپور کی طرح ہم درآمدات پر گذارا نہیں کر سکتے‘وزارت تجارت نے پالیسی ترتیب دی ہے جس سے ایس ایم ای سیکٹر میں سہولیات مہیا کی گئی ہیں۔اس موقع پرخسرو بختیار نے کہا کہ نیا کاروبار شروع کرنے والوں کو این او سی سے آزادی مل گئی، ایس ایم ای کاروبار کرنے والوں کو خصوصی مراعات دیں گے، ایس ایم ایز کے شعبہ میں کاروبار کرنے والی خواتین کو ٹیکس

میں 25 فیصد خصوصی رعایت دی جائے گی.ایس ایم ایز کے شعبہ تک رسائی لئے 23 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، ملک کے مختلف شہروں میں ایس ایم ایز کے لئے 4200 ایکڑ اراضی مختص کی گئی ہے جہاں پر 19 ہزار 500 پلاٹس آسان اقساط پر فراہم کئے جائیں گے، ایس ایم ایز کو این او سیز کے حصول کے لمبے طریقہ کار سے نجات حاصل ہو گی۔ایس ایم ای پالیسی کے تحت پیداواری کاروباروں کو ٹیکسوں میں 57 فیصد سے 83 فیصد تک خصوصی رعایت دی جائے گی تاکہ نہ صرف پیداواری لاگت کم ہو بلکہ پرافٹ مارجن بھی بڑھ سکے.انہوں نے کہا کہ حکومت کاروباروں کو ہر قسم کی مراعات فراہم کر کے ان کو خود مختاری دینے کے لئے کوشاں ہے۔ نیشنل ایس ایم ای پالیسی 2021ء اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔اس پالیسی کے تحت ایس ایم ایز کو قیام سے لے کر مصنوعات اور خدمات کی فروخت تک، ہر قدم پر بہت سی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ایس ایم ایز کے لئے خام مال کی درآمد اور تیار شدہ مصنوعات کی برآمد میں بھی حکومتی سطح پر مدد فراہم کی جائے گی۔ان پرنہ صرف ٹیکس کی شرح کم کی جائے گی بلکہ شفاف ای انسپیکشن کا نظام بھی متعارف کروایا جائے گا جس سے انسپیکشن افسران کے صوابدیدی اختیارات کم ہو جائیں گے اور صنعت کاروں کی ہراسگی کے امکانات نہیں رہیں گے حکومتی کنٹریکٹس اور پبلک پروکیورمنٹ میں ایس ایم ایز کی زیادہ سے زیادہ شمولیت کے لئے مخصوص کوٹہ مختص کیا جائے گا۔

Comments are closed.