پاکستان تو امریکہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا لیکن امریکہ کس طرح سے پاکستان کا ناطقہ بند کر سکتا ہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار امتیاز عالم اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔خارجہ تعلقات ضرورت کے رشتے ہیں۔ امریکہ کا مقصد پورا ہوا، بسترا لپیٹا اور چلا گیا جیسے وہ سوویت یونین کی فوجوں کی واپسی پر افغان لڑاکوں کے نقصان کو ہماری گود میں ڈال کر چلتا بنا تھا۔ امریکی شکست خوردہ اور نالاں ہوگئے ہیں۔

وہ عالمی سطح پر تالبان کا شکنجہ کسنے میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھیں گے اور پاکستان کو اس عالمی شکنجے کو مضبوط کرنے کے لئے ہر طرح کا دبائو ڈالیں گے، نہ کہ افغانستان سے اُمڈنے والے کسی نئے خطرے کے باعث پاکستان کو گلے لگالیں گے۔ پاکستان تو بدامنی کے خطرے کو امریکہ پر دبائو ڈالنے کے لئے استعمال نہیں کرسکتا، البتہ امریکہ کئی طریقوں سے پاکستان کا ناطقہ بند کرسکتا ہے۔ اسلام آباد اور راولپنڈی بھول جائے کہ پاک امریکہ تعلقات کا ’’امریکہ تیرا شکریہ‘‘ والا دور واپس آسکتا ہے۔ نئی عالمی صف بندیاں ہوچکی ہیں، چین کے خلاف امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی سرد لڑائی کا باقاعدہ اعلان ہوگیا ہے اور ایشیا، بحرالکاہل کے علاقے میں امریکہ نے بھارت کو چین کے خلاف بنیادی اسٹرٹیجک پارٹنر کے طور پر منتخب کرلیا ہے، چاہے امریکہ نواز پاکستانی حلقے کیسی ہی نفیریاں بجایا کریں۔ البتہ، یہ بھی غنیمت ہے کہ افغانستان کے ناطے بدامنی کی روک تھام کے لئے ہمیں جو چھوٹا موٹا کردار مل سکتا ہے تو اس کے باعث شاید ہم کسی بڑی مشکل سے بچ پائیں۔ امریکہ سے اچھے تعلقات کے دنوں میں بھی امریکہ نے ہمیں بار بار دغا دیا تھا اور قریبی تعلقات کے ادوار کے خاتمے پر پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا تھا۔ ایسے میں چین، روس، ایران، وسطی ایشیا، ترکی اور عربوں سے تعلقات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے اور امریکہ سے کسی نظر کرم کے طفیل انہیں بحران کا شکار کردینے کی للچائی نظروں سے بچنا چاہئے۔ اب امریکہ بھی جیو اکنامکس کی جانب گامزن ہونے کے لئے پر تول رہا ہے اور اس کے لئے عالمی معاشی نظام میں چین سے تعلقات کو منقطع کرنا بھی ممکن نہیں۔ ایسی صورت میں پاکستان کو بھی اپنے فرسودہ جیواسٹرٹیجک عزائم سے خلاصی چاہئے۔ اور اگر معاشی ترقی اور بقا ہی اول ترین ہے تو پھر خطے میں ماحول کو گرم رکھنے کی بجائے ہر ایک سے اچھے تعلقات کے لئے تمام بند دروازوں کو کھولنے کی سعی کی جائے۔ گڈ بائی امریکہ!

Comments are closed.