پاکستان میں آج کل یہ اصول کیسے سچ ثابت ہو رہا ہے،

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار علی عمران جونیئر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔حکومت جس طرح سے چل رہی ہے باباجی کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ جس طرح وال کلاک کے سیل کمزور ہوجاتے ہیں تو وہ رک رک کر چلتی ہے یہی حال حکومت کاہے۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں

جو یکدم خطیر اضافہ کیا ہے،اس پر ڈھٹائی کا عالم یہ دیکھنے والا ہے کہ حکومتی وزرا، مشیر اور ان کے چاہنے والے قیمتوں کا موازنہ عالمی منڈی سے کر رہے ہیں کہ بھارت، بنگلادیش، امریکا، یورپ میں تیل پاکستان سے کتنا مہنگا ہے؟لیکن کوئی یہ بتانے پر تیار نہیں کہ وہاں کی فی کس آمدنی کتنی ہے؟ وہاں عوام کو کیا کچھ سہولتیں مل رہی ہیں، وہاں تیل کے علاوہ کھانے پینے کی اشیا کے کیا نرخ ہیں؟ سوشل میڈیا پر اسی حوالے سے کسی دل جلے نے کیا خوب لکھا ہے کہ۔۔ قیمتیں عالمی منڈی کے مطابق، تنخواہ سبزی منڈی کے مطابق،سہولتیں ہیرامنڈی کے مطابق۔۔۔سہولتوں والی بات کچھ معیوب سی ہے لیکن موقع کی مناسبت سے بالکل درست لگتی ہے،جس طرح ہیرامنڈی میں جس کے پاس پیسہ ہوتا ہے وہی عیاشی کرسکتا ہے، اس ملک کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہوگیا ہے۔۔ بیوروکریسی، وزیروں،مشیروں کو تو سرکاری فیول ملتا ہے اس لئے انہیں تیل کی قیمتوں سے کیا لینا دینا، ان کو بجلی کے ہزاروں یونٹس فری دیئے جاتے ہیں،انہیں بجلی مہنگی سے کیا سروکار؟؟ انہیں سیلری پہلی تاریخ کو وقت پر مل جاتی ہے،(چاہے کام کریں یا نہ کریں)، دیہاڑی دار طبقہ توپیٹ پرپتھر باندھ کر زندگی گزار رہا ہے،جنہیں ایک دن مزدوری ملتی ہے تو تین دن فاقہ رہتا ہے۔۔۔پلس کنسلٹنٹ کی سہ ماہی سروے رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ معاشی پالیسیوں پر بھروسہ نہ کرنے والوں میں اضافہ ہوا ہے۔رواں سال جولائی میں 38 فیصد کو اور اب 57 فیصد پاکستانیوں کو حکومت کی معاشی پالیسیوں پر اعتبار نہیں ہے۔ سروے رپورٹ کے مطابق گزشتہ 3 ماہ میں حکومتی معاشی پالیسیوں پر اعتبار نہ کرنے والوں میں 19 فیصد اضافہ ہوا ہے۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ ملکی معاشی سمت درست نہ سمجھنے والوں کی مجموعی تعداد 75 فیصد ہوگئی ہے۔تعلیم مسلسل مہنگی سے مہنگی تر ہوتی جارہی ہے،لیکن حیرت انگیز طور پر دوسال سے اسکولزمسلسل بندہونے کے باوجود بچے سوفیصد مارکس حاصل کررہے ہیں ایسا لگتا ہے کہ ان کے امتحانی پیپرزٹیچرز نہیں بلکہ واپڈا کے میٹر ریڈرز چیک کررہے ہیں۔۔باباجی فرماتے ہیں۔۔ایک تازہ تحقیق سے ثابت ہوا کہ تعلیم انسان کو کالا کر دیتی ہے۔اسی لیے کہا جاتا ہے کہ فلاں چٹا ان پڑھ ہے۔تو اگر چٹے رہنا چاہتے ہو ان پڑھ رہو چٹے رہو گے۔اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔اگر آپ اپنے دوستوں کے دکھ، درد اور پریشانیوں سے واقف رہنا چاہتے ہیں تو کبھی کبھار دو چار ہزار ادھار مانگ لیا کریں۔۔خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔

Comments are closed.