پاکستان میں “ارطغرل غازی ” کو چلوانے کا سہرہ کس کے سر جاتا ہے؟

اسلام آباد (ویب ڈیسک) نامور صحافی انصار عباسی اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ وزیراعظم عمران خان نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اُن کی حکومت میں اسلامی تعلیمات سے متصادم کوئی قانون نہیں بنایا جائے گا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ گھریلو تشدد اور مذہب کی جبری تبدیلی کی روک تھام

کیلئے بنائے گئے قوانین کے مسودہ جات اور ایسے دیگر متنازع سرکاری قوانین کو منظور نہیں کیا جائے گا کیونکہ اُن میں ایسی شقیں موجود ہیں جو اسلامی تعلیمات سے براہِ راست متصادم ہیں۔ ذرائع کے مطابق، پیر کو کراچی میں علمائے کرام کے ساتھ ملاقات میں وزیراعظم عمران کان نے فیملی سسٹم اور پاکستانی معاشرے کی سماجی مذہبی اقدار کو بچانے کیلئے اپنی فکر و پریشانی کا اظہار کیا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کچھ غیر سرکاری تنظیمیں (این جی اوز) جدو جہد کرکے ایسے قوانین منظور کرانا چاہتی ہیں جو ملک میں مغربی نظام کو فروغ دینے اور انتہائی حد تک ہمارے خاندانی نظام اور سماجی مذہبی اقدار کو نقصان پہنچائیں گے۔ انہوں نے ملک میں وسیع پیمانے پر خصوصاً سوشل میڈیا کے ذریعے غلط چیزوں اور غیر شائستہ کلچر کے پھیلائو کی نشاندہی کی کیونکہ اس سے ہمارے خاندانی نظام کو خطرہ ہے جسے بچانا ضروری ہے۔ انہوں نے علما کی رائے معلوم کرنے کی کوشش کی کہ ہم کس طرح فیملی سسٹم سمیت اپنے معاشرے کی اقدار کو بچا اور مضبوط کر سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، اکثر علمائے کرام کی رائے تھی کہ غیر اخلاقی چیزوں کی سب سے بڑی وجہ ہے جسے خصوصاً سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلایا جا رہا ہے جس سے ہمارے خاندانی نظام کو خطرات لاحق ہیں۔ وزیراعظم کو مشورہ دیا گیا کہ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ میڈیا کو ریگولیٹ کریں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ خصوصاً سوشل میڈیا بشمول یوٹیوب ملک کے آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے خدمات فراہم کریں اور انہیں کسی بھی طرح سے بداخلاقی پھیلانے کی اجازت نہ دی جائے۔

علمائے کرام کے ساتھ بات چیت میں، وزیراعظم نے ترک ڈرامہ ارتغرل کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ انہوں نے یہ ڈرامہ پی ٹی وی پر چلوایا اور اس نے فوراً مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑ دیے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ نامناسب ڈرامے اور فلمیں ہی وہ واحد طریقہ ہیں جن سے پیسہ کمایا جا سکتا ہے۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ ترک ڈرامہ جس میں اسلامی تاریخ دکھائی گئی اور اس میں کوئی غیر شائستگی نہیں تھی، اس ڈرامے نے یہ بہانا ختم کر دیا کہ کامیاب پروڈکشن کیلئے غلط قسم کا مواد بنانا چاہئے۔ وزیراعظم اور علمائے کرام نے اس بات کی ضرورت پر زور دیا کہ ملک میں کردار سازی کیلئے ایک جامع پروگرام تشکیل دیا جائے جس کیلئے حکومت، مذہبی اسکالرز، ماہرین تعلیم اور میڈیا کو اہم کردار ادا کرنا چاہئے۔ وزیراعظم کی توجہ اس بات پر مبذول کرائی گئی کہ حکومت کی جانب سے کی گئی کچھ قانون سازی اور تیار کردہ قانون کے مسودے بشمول گھریلو سطح پر زدوکوب کیے جانے کے بارے میں بل اور مذہب کی جبری تبدیلی کا بل اسلامی تعلیمات کیخلاف ہیں۔ علمائے کرام نے واضح کیا کہ کس طرح یہ قوانین اسلامی تعلیمات کی خلاف ورزی ہیں۔ وزیراعظم نے علمائے کرام کو یقین دلایا کہ ان کے دور میں کوئی ایسا قانون منظور نہیں کیا جائے گا جو اسلامی تعلیمات کیخلاف ہو۔ انہوں نے علمائے کرام سے درخواست کی کہ وہ انہیں ایسے کسی قانون کے حوالے سے مطلع کریں تاکہ بروقت مداخلت کی جا سکے۔ وزیراعظم نے علمائے کرام سے کہا کہ عوام کو اسلامی تعلیمات سے آگاہ کریں تاکہ سب کیلئے بہتر معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔ اس ملاقات میں شریک چند علمائے کرام نے دی نیوز کو بتایا کہ وزیراعظم نے اپنی بات چیت سے علمائے کرام کو متاثر کیا۔

Comments are closed.