پاکستان میں ان دنوں مشہور برانڈز کی مہنگی موٹربائیکس زیادہ بک رہی ہیں یا چائنا کی سستی موٹر بائیکس ؟

کراچی(ویب ڈیسک) بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے جہاں ملک میں کم قیمت موٹر سائیکلوں کی فروخت میں بھی کمی ہوئی ہے وہیں حیران کن طور پر مہنگی موٹر سائیکلوں کی فروخت میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔رواں سال مقامی طور پر تیار ہونے والی چینی اور جاپانی موٹر سائیکلوں کی قیمتوں میں کئی

مرتبہ اضافہ ہوا تاہم اس کے اثرات صرف کم قیمت موٹر سائیکلوں پر ہی دیکھے گئے ہیں۔ایٹلس ہونڈا لمیٹڈ (اے ایچ ایل) جہاں فروخت کے نئے ریکارڈ بنا رہی ہے تو وہیں چینی موٹر سائیکلیں تیار کرنے والے معمول کی فروخت برقرار رکھنے میں مشکلات کا شکار ہیں۔ای ایچ ایل نے نومبر کے مہینے میں ایک لاکھ 28 ہزار 503 یونٹس فروخت کرکے ماہانہ فروخت کا نیا ریکارڈ بنایا اور اکتوبر کے مہینے میں ایک لاکھ 25 ہزار 31 یونٹس کی فروخت کا اپنا ہی ریکارڈ توڑ ڈالا۔جولائی سے نومبر کے عرصے میں ای ایچ ایل کی فروخت 5 لاکھ 63 ہزار 575 یونٹس رہی جو کہ گزشتہ سال اسی عرصے میں 5 لاکھ 12 ہزار 10 یونٹس تھی۔ اس عرصے میں جاپانی کمپنی سوزوکی فروخت 71 فیصد اضافے کے ساتھ 8 ہزار 719 یونٹس سے بڑھ کر 14 ہزار 915 یونٹ ہوگئی جبکہ یاماہا کی فروخت 14 فیصد اضافے کے ساتھ 8 ہزار 733 یونٹس سے بڑھ کر 9 ہزار 962 یونٹس ہوگئی۔دوسری جانب چینی موٹرسائیکل بنانے والی کمپنی روڈ پرنس کی فروخت 23 فیصد کمی کے بعد 52 ہزار 289 رہی جبکہ یونائیٹڈ آٹو موٹر سائیکل کی فروخت 20 فیصد کمی کے ساتھ 1 لاکھ 36 ہزار 812 یونٹس رہی۔راوی موٹر سائیکل کی فروخت 53 فیصد کمی کے بعد 3 ہزار 879 یونٹس سے ایک ہزار 810 یونٹس پر آگئی۔لارج اسکیل مینوفیکچرنگ کے حوالے سے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق جولائی سے اکتوبر 2021 میں ملک میں موٹر سائیکلوں کی تیاری میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کی نسبت 5 فیصد کمی آئی اور یہ 8 لاکھ 7 ہزار 230 سے کم ہوکر 7 لاکھ 69 ہزار 802 یونٹس ہوگئی،

اسی طرح اکتوبر 2021 میں بھی موٹرسائیکلوں کی تیاری میں گزشتہ اکتوبر کی نسبت 13 فیصد کمی آئی اور یہ 2 لاکھ 21 ہزار 655 سے ایک لاکھ 92 ہزار 450 یونٹس رہی۔روڈ پرنس موٹر سائیکلز کے گروپ چیئرمین سہیل عثمان کے مطابق کئی خریدار اب چینی موٹر سائیکلوں سے ہونڈا سی ڈی 70 کی جانب جارہے ہیں جو کہ ہونڈا کی فروخت سے بھی ظاہر ہے، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ شہری علاقوں کے خریدار جن کی آمدن کم ہوئی ہے وہ اب کم قیمت کی چینی موٹر سائیکلیں بھی نہیں خرید رہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مقابلے میں اضافے کی وجہ سے چینی موٹر سائیکلیں بنانے والوں کے لیے معیار کو برقرار رکھنا مشکل ہوگیا ہے۔اکبر روڈ پر موجود ایک موٹر سائیکل ڈیلر محمد صابر شیخ کا کہنا تھا کہ بڑھتی مہنگائی کی وجہ سے متوسط طبقہ چینی موٹر سائیکلوں کو ہی ترجیح دیتا تھا تاہم گزشتہ کچھ مہینوں سے ان کی جانب سے بھی موٹر سائیکل کی خریداری کم ہوگئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ دیہاتوں میں اچھی فصل ہونے کی وجہ سے کسان چینی موٹر سائیکلوں کے بجائے ہونڈا کی موٹر سائیکلوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ان کا خیال تھا کہ مالی سال 2022 میں مجموعی طور پر چینی موٹر سائیکلوں کی تیاری کم ہی رہے گی اور جاپانی موٹر سائیکلوں کے لیے رواں سال کا اختتام پیداوار میں اضافے کے ساتھ ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ 70 سی سی کی چینی موٹر سائیکل کی قیمت 2 سال قبل 41 ہزار روپے تھی جو کہ اب 69 ہزار ہوچکی ہے جبکہ ہونڈا کی موٹر سائیکل کی قیمت 65 ہزار سے 94 ہزار 500 روپے ہوچکی ہے۔ہونڈا کی سی جی 125 کی قیمت ایک لاکھ 8 ہزار سے بڑھ کر ایک لاکھ 52 ہزار ہوچکی ہے، سوزوکی 150 سی سی کی موٹرسائیکل ایک لاکھ 68 ہزار سے بڑھ کر 2 لاکھ 32 ہزار کی ہوگئی ہے جبکہ یاماہا 125 سی سی کی قیمت ایک لاکھ 32 ہزار سے بڑھ کر ایک لاکھ 90 ہزار ہوچکی ہے۔جاپانی موٹر سائیکلیں بنانے والوں کے مطابق شہری علاقوں میں جاپانی موٹر سائیکلوں پر ملنے والے فوائد بھی ایک اہم عنصر ہیں۔کئی ڈیلر صارف سے 50 سے 70 ہزار روپے ایڈوانس لیتے ہیں اور بقیہ رقم آسان ماہانہ اقساط میں معمولی سود پر وصول کرتے ہیں۔ان کے مطابق طویل سفر کرنے والے افراد بھی 125 اور 150 سی سی کی موٹر سائیکلیں خرید رہے ہیں جبکہ کراچی اور لاہور کے صارفین بھی بہتر سسپینشن اور انجن کے باعث انہیں چینی موٹر سائیکلوں پر ترجیح دے رہے ہیں۔

Comments are closed.