پاکستان میں تحریک انصاف کو ٹکر دینے کے لیے کنگز پارٹی کے قیام کا منصوبہ تیار ۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) نامور صحافی علیم عثمان اپنی ایک تحریر میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ارادے باندھتا ہوں ، سوچتا ہوں ، توڑ دیتا ہوں۔۔۔کہیں ایسا نہ ہوجائے کہیں ایسا نہ ہو جائے۔۔۔کے مصداق ملکی سیاست میں فیصلہ کن کردار کی حامل قوتیں اگلے عام انتخابات میں اپنے ہدف اور حسب منشا نتائج کے حصول کے لئے

نئے سے نیا متبادل منصوبہ بنانے میں لگی ہیں ، یوں آئے روز اسٹیبلشمنٹ کا ایک نیا مبینہ “پلان بی” سامنے آرہا ہے . اطلاعات کے مطابق مقتدر حلقوں کے تازہ ترین “پلان بی” کے تحت ایک نئی “کنگز پارٹی” کی تشکیل پر کام ہو رہا ہے جس کی قیادت “چوہدری برادران” کو سونپ دیئے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے . چوہدری برادران اسٹیبلشمنٹ کے پسندیدہ ترین سیاست کار ہونے کی شہرت تو رکھتے ہی ہیں ، ماضی میں جنرل پرویز مشرف کے ‘مارشل لاء ‘ دور میں مقتدر قوتوں کو سیاسی نظام میں ایک سویلین چہرہ فراہم کرنے کا کامیاب تجربہ بھی کر چکے ہیں ، سیاسی منحرفین پر مشتمل کسی نئے دھڑے کو لیڈ کرنے کے حوالے سے وہ اس قدر مؤثر ثابت ہوئے تھے کہ انہوں نے مبینہ طور پر ‘حسب ہدایت’ نہ صرف نئی “نون لیگ” کی قیادت جلد ہی صدر میاں اظہر سے چھین لی بلکہ ڈنڈے بردار بھیج کر راتوں رات مسلم لیگ ہاؤس کا قبضہ بھی حاصل کر لیا تھا . ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مقصد کے لئے بر سر اقتدار پاکستان تحریک انصاف ، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی سمیت ملک کی تینوں “بڑی” سیاسی جماعتوں سے لوگوں کو “توڑ” کر مجوزہ “کنگز پارٹی” میں شامل کیا جائے گا ، ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ان تینوں “بڑی” پارٹیوں میں کچھ عرصے سے ٹوٹ پھوٹ کا عمل اسی لئے جاری ہے .. آپ نے نوٹ کیا ہوگا کہ حکمران پی ٹی آئی میں ‘کپتان’ کی بعض قریبی شخصیات سمیت اراکین اسمبلی کی قیادت سے ناراضگی اگرچہ پچھلے کئی برسوں سے سامنے آتی رہی ہے

، اگر جہانگیر ترین جیسی غیر منتخب مگر اہم شخصیت اور پارٹی قیادت میں فاصلے پیدا ہوئے تو قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی کے بہت سے ارکان بھی ناراض دھڑے میں کھڑے نظر آئے لیکن اس بار پی ٹی آئی کے بعض ایسے لوگ بھی پارٹی قیادت سے “بغاوت” پر اترے دکھائی دے رہے ہیں جو منتخب ہونے کی وجہ سے سسٹم میں ان یعنی شامل ہیں اور قیادت کے قریب بھی سمجھے جاتے ہیں ، پنجاب کے ایک رئیل اسٹیٹ ٹائیکون علیم خان اور صوبائی گورنر چوہدری سرور جیسی شخصیات جو برسر اقتدار پی ٹی آئی میں اپنا وزن رکھتی ہیں ، پچھلی کچھ عرصہ سے نہ صرف مسلسل اختلافی لائن لے رہی ہیں بلکہ قیادت اور اپنی حکومت کی پالیسیوں پر کھل کر نکتہ چینی کرتی بھی دکھائی اور سنائی دیتی ہیں اور ان کی تنقید کو تواتر سے منظر عام پر بھی لایا جا رہا ہے کیونکہ ذرائع کے مطابق مقتدر حلقوں کا خیال ھے کہ پارٹی قیادت اگر “مزاحمت” کی راہ پر چل پڑے اور اسٹیبلشمنٹ کو ایک نئے نوازشریف کا سامنا کرنا پڑ جائے تو حکمران جماعت میں سے بھی کوئی “شین” نکال کر کپتان ہی نیا پیدا کر لیا جائے ، اس کی بڑی وجہ کپتان کی “مشکل شخصیت” بنی ھے کہ وہ اپنی انا پرستی اور غیر لچکدار شخصیت کی بنا پر اپوزیشن کی لیڈرشپ کے ساتھ براہ راست مکالمہ یا مذاکرات تو درکنار، ہاتھ ملانے تک کو تیار نہیں۔”ضدی” کپتان کو مولانا فضل الرحمن ، آصف زرداری اور نواز شریف کی شکل دیکھنا بھی گوارا نہیں ، حتیٰ کہ وہ حزب اختلاف کی پارلیمانی قیادت کی موجودگی میں

ایوان میں آنے پر بھی آمادہ نہیں اور اصل مسئلہ تب پیدا ہوا جب کپتان نے نہایت اہم و ہنگامی نوعیت کے ریاستی امور پر بلائے گئے بعض اہم مشترکہ اجلاسوں میں شریک ہونے سے صاف انکار کر دیا ، اپنی “ہٹ دھرم” شخصیت کے باعث وہ مبینہ طور پر نہ پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر عسکری قیادت کی کسی بریفنگ میں شامل ہوئے نہ جی ایچ کیو میں ہونے والے کسی اہم اجلاس میں شریک ، جن میں ملک کی پوری پارلیمانی سیاسی قیادت کو مدعو کیا گیا تھا ایسے اہم اجلاس بعض فوری نوعیت کے خارجہ امور پر مبینہ طور پر ملک کی مجموعی سیاسی قیادت کے ساتھ اہم پالیسی صلاح مشورے اور سیاسی قیادت کو اعتماد میں لینے کی غرض سے بلائے جانے رہے ہیں ، بتایا جاتا ہے کہ کپتان ایوان اور جی ایچ کیو سمیت ہر جگہ پہنچے ضرور مگر ایوان میں تمام وقت اپنے چیمبر جبکہ جی ایچ کیو میں الگ کمرے میں بیٹھے رہے کیونکہ انہیں شہباز شریف ، بلاول بھٹو زرداری اور خواجہ آصف کا سامنا کرنا گوارا نہیں حتی کہ کپتان کو مبینہ طور پر ان کی شکل ہی سے نفرت ہے۔ صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ‘ہٹ دھرم’ لیڈر کی “مشکل شخصیت” نے بعض آئینی و قانونی مسائل پیدا کرنا شروع کر دیئے ہیں۔سویلین سیٹ اپ نے اپنے طور پر اہداف کے حصول کی خاطر محض اس لئے قوانین میں صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ترامیم کی روش اپنا لی ہے کہ آئینی تقاضوں کے تحت کپتان کو اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے مشاورت کرنا گوارا نہیں۔ جس کے نتیجے میں نہ صرف اہم ریاستی امور سلجھانے میں مقتدر قوتوں کے لئے مسائل

پیدا ہوتے جا رہے ہیں بلکہ بالخصوص اپوزیشن اور بالعمْوم رائے عامہ کے حلقوں کی حکومت کے ساتھ ساتھ بالواسطہ اسٹیبلشمنٹ یا مقتدر اداروں پر تنقید بڑھتی چلی جارہی ہے۔یوں ذرائع کے مطابق فیصلہ کن کردار کی حامل قوتیں ایک نیا متبادل منصوبہ بنانے پر مجبور ہوئیں حالانکہ پچھلے “متبادل پلان” پر اب تک خاصا کام ہو چکا تھا. متذکرہ “پلان بی” پر کام کا آغاز سال بھر پہلے کراچی کے “محمود آباد نالے کی صفائی” کے انتظامات سے ہوا تھا جب دنیا نے یہ منظر بھی دیکھا کہ بظاہر کراچی کے محمود آباد نالے کی صفائی کے انتظامات کا جائزہ لینے کے لئے بلائے گئے اجلاس نہ صرف کور کمانڈر بلکہ اس سیکرٹ سروس کا چیف بھی موجود ہے۔ دراصل پیپلزپارٹی کو “پی ڈی ایم” سے توڑنے کی بنیاد رکھنے کے لئے پیپلز پارٹی کے اصل قائد آصف زرداری سے بالواسطہ رابطہ کر کے معاملات طے کئے اور کچھ عرصہ بعد پی ڈی ایم کی اعلی قیادت کے مابین اختلافات سامنے آنا شروع ہو گئے . پھر پیپلز پارٹی کے “رسمی سربراہ ” بلاول بھٹو اور پی ڈی ایم کے قائد مولانا فضل الرحمن کے علاوہ بلاول اور نون لیگ کی “علامتی” قائد مریم نواز کے مابین اختلافی بیانات منظر عام پر آنا شروع ہو گئے اور نتیجتاً ایک روز “پی ڈی ایم” ٹوٹ گئی۔پاور پالیٹکس کا کھیل ہی ایسا ہے کہ اس میں شریک کھلاڑی اپنے حریفوں کے خلاف اور سیاست میں فیصلہ کن کردار رکھنے والی قوتیں اپنے اہداف کے حصول کی غرض سے مختلف منصوبے بناتے رہتے ہیں اور اسٹیبلشمنٹ بدلتی صورتحال کی روشنی میں نیا پلان تشکیل دیتی رہتی ہے جس کے تحت اپنے اہداف من و عن حاصل کرنے کی غرض سے پورے جتن بھی کئے جاتے ہیں جو ضروری نہیں کہ مطلوبہ نتائج بھی دے دیں اسٹیبلشمنٹ کی یہ کوششیں ثمر اور ہو جائیں تو ٹھیک ورنہ منصوبہ سازوں اور ان سیاسی کھلاڑیوں کی قسمت جنہیں ان سے سیاسی فوائد فراہم کرنا مقصود ہوتا ہے۔

Comments are closed.