پاکستان میں صاف اور شفاف الیکشن ناممکن ہیں ، مگر کیوں اور کیسے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار حسن نثار اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔آج کل بذریعہ ٹیکنالوجی فیئر اور شفاف الیکشنز کا اتنا چرچا، تذکرہ ہے کہ میں تنگ آ گیا ہوں۔’’جیو‘‘ کے مقبول پروگرام ’’رپورٹ کارڈ‘‘ میں بھی شفاف الیکشنز کی رَٹ بہت سنائی دیتی ہے جبکہ میری رائے یہ ہے کہ

پاکستان میں فیئر اور شفاف الیکشنز مدتوں تک ناممکن ہیں جس ملک، معاشرہ میں کروڑوں لوگ خطِ غربت پہ رینگ رہے ہوں وہاں ووٹ کیا اور اس کی اوقات کیا؟ اور جو خطِ غربت پر نہیں رینگ رہے، وہ بھی ’’رینگ‘‘ ہی رہے ہیں کہ جس کے پائوں تلے زمین اپنی اور سر کے اوپر چھت اپنی نہیں… اس کا ووٹ، اس کی رائے بھی اپنی نہیں ہو سکتی۔سرمایہ کیا، رائے چرائی جا سکتی ہے۔۔پانی میں بھی آگ لگائی جا سکتی ہے۔۔یہ شعر بھی میرا ہے اور رائے بھی جس سے آپ اختلاف کر سکتے ہیں لیکن میرا کوا سفید اور مرغا ایک ٹانگ پر ہی کھڑا رہے گا کیونکہ یہ فہم میرے سیاسی ایمان کا حصہ ہے کہ جب تک اس ملک کا عام ووٹر، خصوصاً پسماندہ علاقوں کا عام ووٹر غربت، جہالت، ضرورت کی زنجیروں اور مجبوریوں، محرومیوں، لالچ، خوف کی بیڑیوں میں جکڑا ہوا ہے تو سمجھ لو اس کا ووٹ بھی جکڑا ہوا ہے اور یاد رہے ذات برادری بھی جہالت کی ہی آوارہ اولاد ہے۔سو سطحی سوچ تو فیئر اور شفاف الیکشنز کے ٹوپی ڈرامے سے لطف اندوز ہوتے ہوئے لڈیاں ڈال سکتی ہے، مجھ جیسا حقیقت پسند اور سائنٹیفک انداز میں سوچنے والا اس گناہ کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔چلتے چلتے یہ بات بھی سن لیں کہ ہم ’’خطِ غربت‘‘ کی اصطلاح پڑھتے اور سنتے تو بہت ہیں لیکن شاید بھاری اکثریت اس اصطلاح کی DEFINITIONسے بھی واقف نہیں تو پیارے ہم وطنو! خطِ غربت پر رینگنے والے لوگ وہ ہوتے ہیں جن کیلئے اپنے مردوں کیلئے کفن اور قبر، چارپائی اور قاری صاحب کو ’’افورڈ‘‘ کرنا بھی جوئے شیر لانے سے بڑھ کر ہوتا ہے۔اس لئے ووٹ کی عزت، ووٹ کا تقدس اور جمہوریت کا استحکام وغیرہ سب دھوکہ، فریب اور سراب ہے۔74سال تو گئے، آئندہ 74سال بعد بھی اگر پاکستان میں شفاف الیکشن (جینوئن) ہو گئے تو میں مارے حیرت اور خوشی کے جنت میں دوبارہ چل بسوں گا۔

Comments are closed.