اصل کہانی

لاہور (ویب ڈیسک) نوجوان خاتون صحافی جویریہ صدیق اپنے ایک کالم میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔پاکستان میں بہت اعلیٰ کپڑا تیار ہوتا ہے‘ جوکہ بہت دبیز اور نفیس ہوتا ہے۔ بہت سے علاقوں میں چھوٹی بڑی صنعتیں قائم ہیں‘ جہاں لان ‘ لٹھا‘ کاٹن‘ کیمبرک‘ ٹوئل‘ شیفون‘ راسلک‘ وائل‘ جیکارڈ‘ سلکوول‘ گریپ‘زری ‘

پولی ایسٹر‘وسکوس‘سلب‘پولی نیٹ‘سوئس کاٹن‘جارجٹ‘لیکرا‘بال فائر‘ ویلویٹ‘ ڈوبی ‘کرنڈی‘کھڈی ‘اورگنزا وغیرہ تیار ہوتا ہے‘ لیکن سب سے زیادہ پاکستان میں لان پہنی جاتی ہے۔ اگر یہ کہا جائے تقریباً نوماہ لان ملک میں پہنی جاتی ہے‘ تو غلط نہ ہوگا۔پہلے یہ صرف بڑے کارخانوں میں بنتی تھی‘ لیکن آہستہ آہستہ اس میں اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے ڈیزائنر بھی شامل ہوگئے اور یوں لان اب ڈیزائنر لان ہوگئی ہے اور ہزار روپے میں ملنے والا جوڑا اب‘ آٹھ ہزار سے شروع ہوتا ہے۔پری سپرنگ لان کولیکشن ‘ موسم بہار کی کولیکشن ‘ پری سمر کولیکشن پھر گرمیوں میں لان کی لانچنگ پھر پری فال متعدد بار لان لانچ ہوتی ہے اور سردی میں ایک دو ماہ کیمبرک کاٹن اس کی جگہ لے لیتی ہے۔لان کے فوٹو شوٹ اکثر مغربی ممالک میں کئے جاتے ہیں ۔ماڈلز نے لان کو مغربی انداز میں پہن رکھا ہوتا ہے اور لان کے ڈیزائنر نے ماڈلز کو لاکھوں مالیت کی مغربی ڈیزائنرکی جیولری اور بیگز پہنا رکھے ہوتے ہیں۔اس پورے ایڈ کمپین میں صرف لان ایک واحد برینڈ ہوتا ہے‘ جو پاکستانی ہوتا ہے‘ باقی سب کچھ مغربی ہوتا ہے۔ بعض اوقات ماڈلز بھی بھارتی اداکارائیں لی جاتی ہیں۔کیا ہی اچھا ہو‘ اگر لائن کے ڈیزائنرز پاکستان کی ثقافت کو اجاگر کریں۔اب ‘جب یہ ڈیزائن فیس بک یو ٹیوب اور انسٹاگرام پر پوسٹ کئے جاتے ہیں تو خواتین کا دل کرتاہے کہ یہ ہی خریدے جائیں۔اچھے کپڑے پہننا ہر خاتون کو پسند ہے اور اس ہی پسندیدگی میں وہ آٹھ سے دس ہزار کے جوڑا فوری طور پرخرید لیتی ہیں‘جوکہ ان کے گھر کے بجٹ کو بری طرح متاثر کرتا ہے اور بعض اوقات گھر میں لڑائی جھگڑے کی نوبت آجاتی ہے۔

ان ہی جوڑوں کو رپلیکا کرکے بھی بیچا جاتا ہے‘ یعنی کاپی اور بہت سی خواتین ان کو قدرے کم قیمت میں وہاں سے خرید لیتی ہیں۔ یہ بزنس فیس بک پر زیادہ عام ہے۔مہنگی لان کے جوڑے لان کم اور پارٹی ڈریس زیادہ لگتے ہیں۔ان کو سلائی کروانا بہت مشکل ہے۔ پانچ سے چھ ٹکڑوں میں ڈیزائن کر کے ان کو مارکیٹ میں لایا جاتا ہے اور درزی اس کو جوڑنے کے ہی تین سے چار ہزار مانگ لیتے ہیں۔لان ڈیزائنر ز کوچاہیے‘ تو یہ کہ گلا‘ بازو کی لیس دامن کی پٹی جوڑ کر بھی سوٹ بنا سکتے ہیں‘ لیکن نہیں‘ کیونکہ کسٹمر زکے حقوق کا کس کو خیال ہے۔اس وقت لان کے جوڑے کی قیمت تین ہزار سے بارہ ہزار تک پہنچی ہوئی ہے۔سلے ہوئے تھری پیس جوڑے نو ہزار سے شروع ہوکر تیس ہزار تک جاتے ہیں اور عام سلی ہوئی قمیص تین ہزار سے شروع ہوتی ہے‘اگر بات کریں ہم اس کی کوالٹی کی تو کپڑا اتنا باریک ہوتا ہے کہ بدن نظرآتا ہے ‘ جو بہت بڑا گناہ ہے‘ جس میں پوری قوم کو مبتلا کیا جارہا ہے۔ایسے لباس کا کیا فائدہ‘ جسے انسان پہن کر بھی بے لباس رہے۔کپڑا اتنا باریک کرتے جارہے ہیں کہ لان ململ لگتی ہے۔اکثر جوڑوں کے ساتھ بازو نیٹ کے لگادیتے جاتے ہیں اور ان کو پہن کر ایسا لگتا ہے کہ جیسے قمیص سلیو لیس ہے۔کپڑا ایسا ہونا چاہیے‘ جس سے بدن نظر نہ آئے اور لباس کے ساتھ بازو‘ اگر نیٹ کے ہو ں تو نیچے کپڑا لگا ہونا چاہیے ‘کیونکہ خواتین لباس خود نمائی کیلئے نہیں‘ بلکہ بدن کو ڈھانپنے کیلئے لباس پہنتی ہیں۔

اس وقت نیٹ کے ٹراؤزرز‘ٹیولپ شلوار اور لیس والے پاجامے بھی فیشن میں ہیں۔ ان کی وجہ سے بھی آدھی ٹانگ برہنہ ہوجاتی ہے۔قوم کو کپڑے لباس کے طور پر دیں ‘جسم کی نمائش کیلئے نہیں۔اکثر خواتین ورکنگ لیڈیز ہوتی ہیں اوران کو سلے ہوئے کپڑے چاہیے ہوتے ہیں؛ یہ برینڈز ان کو بھی خوب لوٹ رہے ہیں۔ایک قمیص تین ہزار سے شروع ہوکر بائیس ہزار تک جاتی ہے۔اس کے ساتھ اکثر دوپٹہ‘ شمیض اور شلوار نہیں ہوتی ہے‘ وہ علیحدہ سے خریدنی پڑتی ہے؛ حالانکہ دوپٹہ ہمارے کلچر کا حصہ ہے۔ برینڈز کو دوپٹہ ہر قمیص کے ساتھ بنانا چاہیے‘ لیکن پریٹ قمیصوں کے ساتھ دوپٹہ ناپید ہوگیا۔اس لئے ہمارے کلچر سے دوپٹہ لینے کی روایت بھی دم توڑ رہی ہے۔اکثر ڈیزائنرز اگر دوپٹہ بنائیں تو وہ نیٹ یا شفون کا ہوتا ہے‘ جو سر پر ٹکتا ہی نہیں‘ ان پر پن لگائی جائے تو یہ پھٹ جاتے ہیں۔بہت سے ڈیزائنرز مغربی ڈیزائنرزکو کاپی کرتے ہیں‘ جن پر چہرے‘ اشکال اور جانور بنے ہوتے ہیں۔ ایسے لباس عبادت کرتے وقت نہیں پہنے جاسکتے۔ اس کے ساتھ سائز کا بھی مسئلہ ہوتا ہے ‘جن خواتین کا وزن زیادہ ہوتا ہے‘ ان کو سلی ہوئی قمیص اور شلوار بمشکل ملتی ہے‘ اکثر ڈیزائنرز بڑے سائز کے کپڑے بناتے ہوئے لمبائی اتنی زیادہ کردیتے ہیں‘ جوکہ غلط ہے لازمی نہیں کہ زیادہ وزن والا شخص لمبا بھی ہو۔اس کے ساتھ حاملہ خواتین کو بھی اپنے لئے کپڑے خریدنے میں مشکل ہوتی ہے۔زیادہ تر ڈیزائن سمال میڈیم میں ہوتے ہیں اور حاملہ خواتین کیلئے اور ایکسٹرا لارج کولیکشن بہت کم لانچ ہوتی ہے۔

ڈیزائنرز لان میں اکثر پرنٹ بہت زیادہ کڑھائی اور ڈیزائن سے بھرپور ہوتے ہیں ‘جوکہ جوڑا کم دسترخوان زیادہ لگتے ہیں۔ ڈیزائنرز کو جوڑے روزمرہ معمول کے مطابق بنانا چاہیے۔ لان ہم نے شادی میں نہیں پہننی ہوتی لان ہمیں گھر دفاتر میں پہن کر جانا ہوتی ہے‘جن جوڑوں کے رنگ ہلکے ہوتے یا ان پر ڈیزائن کم ہوتا ہے‘ وہ اتنے باریک کپڑے کے ہوتے ہیں کہ بدن نظر آتا ہے۔لان کے ڈیزائنرز کو اعتدال پسندی کی طرف آنا ہو گا ‘ نیزان کے سب کسٹمرز صرف ایلیٹ کلاس سے تعلق نہیں رکھتے ‘انہیں متوسط طبقے کیلئے بھی لان سوٹ تیار کرنے چاہیے۔لان کا کپڑا ایسا ہونا چاہیے کہ بدن نظر نہیں آئے‘ نیز دھلائی کے بعد رنگ پھیکا نہیں پڑنا چاہیے اوراس کو سلوانا آسان ہو ‘ قیمت مناسب رکھی جائے اور سیل لگاتے وقت صارفین کے ساتھ دھوکے بازی نہیں کی جائے۔اس کے ساتھ مردانہ اور بچوں کے کپڑوں کی بھی ورائٹی دستیاب ہونی چاہے۔کپڑا بنائیں ہر کسی کیلئے بنائیں‘ اپنے کپڑوں سے طبقاتی تفریق پیدا نہ کریں۔پاپا کی شہزادی ڈیزائنرز کے پاس‘ اگر وسائل ہیں تو اس کو مثبت طریقے سے استعمال کرنا چاہیے۔میرا حکومت اور ایف بی آر سے سوال ہے کہ جو لان کے برینڈ زاور ڈیزائنرز ایک قمیص دس ہزار کی فروخت کر رہے ہیں‘ جن کا دوپٹہ الگ سے پانچ ہزار کا ہوتا ہے اور شلوار کی قیمت تین ہزار سے شروع ہوتی ہے تو وہ ٹیکس کتنا دیتے ہیں؟ صارفین سے خریداری کے وقت یہ سترہ فیصد جی ایس ٹی بھی لیتے ہیں تو کیا یہ سرکار کے خزانے میں جمع ہوتا ہے یا یہ بھی جیب میں ڈال لیتے ہیں؟(ش س م)

Sharing is caring!

Comments are closed.