پاکستان میں ٹک ٹاکرز اور یوٹیوبر کو معنی خیز اور شرمناک سوال کون لکھ کر دیتا ہے ۔۔۔۔۔؟ ایک خاتون صحافی کی خصوصی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) نامور خاتون مضمون نگار ڈاکٹر سعدیہ بشیر اپنے ایک مضمون میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔ڈرامہ یا فلم.کی کاسٹ ہو یا پھر آفس یا ادارے کے لیے ملازمین.کا انتخاب .اس کے لیے نہ صرف شرائط طے کی جاتی ہیں بلکہ قابلیت کا معیار بھی لکھا ہوتا ہے .ایم.بی .اے ایک سادہ ایم اے

محض خواہش کی بنا پر اپلائی کرنے کا حق نہیں رکھتا .ایسا ہی ہر شعبہ میں ہوتا ہے۔ کئی بار تو شارٹ لسٹنگ اور دو تین انٹرویو سے گزرنے کے بعد ٹریننگ بھی دی جاتی ہے تاکہ اپنی ذمہ داریوں کا تعین اور ادراک کیا جا سکے . فن کے شعبہ میں کتنے ہی ٹیک لیے جاتے ہیںتا کہ منظر میں حقیقت کا رنگ بھرا جا سکے .لیکن ٹک ٹاکرز کے حوالے سے یہ کیسا فن ہے‘یہ کون سا معیار ہے کہ آپ واہی تباہی بکتے رہیں اور اس پر بات بھی نہ ہو کہ ہماری مرضی عاشقی کے بھی آداب ہوا کرتے ہیں . ادب پہلا تقاضا ہے محبت کے قرینوں میں ٹک ٹاکرز کیلئے خصوصی سہولت ہے کہ کم سن بچے سے لے کر ہر صنف اپنی وڈیوز بنا کر فین فالوز کے خبط میں مبتلا ہے. پھر بات ہے ٹرینڈ کی . یہ ٹرینڈ کہاں سے طے ہوتے ہیں .یہ ذو معنی اور لغو سوالات کون بنا کر دیتا ہے .جس کیلئے مائک اٹھا کر جانوروں کی طرح ہر ایک کے پیچھے بھاگا جاتا ہے . اصول و ضوابط کی سراسر خلاف ورزی اور حدود کی پاس داری کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے اس اچھل کود کو پاکستانی زر مبادلہ میں اضافہ کا باعث قرار دیا جاتا ہے . دیکھیے سڑک پر تماشا کرنے کا بھی مقصد ہوتا ہے.جتنے تماشائی جمع ہوتے ہیں.شو اتنا ہی کامیاب ٹھہرتا ہے .آمدنی بڑھانے کیلئے ایسے شوز کیے جاتے ہیں لیکن اس کیلئے بھی اجازت لی جاتی ہے۔ ایسے کاموں.میں نا خوشگوار واقعات سب کے ساتھ ہو سکتے ہیں.

سڑک یا پارک کسی کی ذاتی ملکیت نہیں . یہ کیا کہ پارک میں ڈانس بھی کرو اور سب سے کہیں کہ آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیں۔ پبلک سے صرف تحسین کی خواہش نہیں رکھی جا سکتی .اب ٹک ٹاکر کے واقعہ کی طرف آ جائیں .کالجز کے فنکشن ہوں یا کوئی پروگرام کینٹین کے سامنے کھڑا ہجوم ہو یا سکول و کالج… گیٹ کھلتے ہی ایک ریلا باہر آتا ہے ‘کسی برانڈ پر سیل لگی ہو عورتیں خود ہی ایک دوسرے کو دھکے دیتی ہیں , بال نوچتی ہیں نہ جوتوں کا ہوش نہ کپڑوں کی پروا . اس سب میں کسی کی نیت جانچنے کا سوال ہی نہیں اٹھتا.بس پر چڑھنے .سیٹ لینے میں دھکم پیل ہوتی ہے .مفت میں کچھ بانٹا جا رہا ہو. یہاں تک کہ شادی بیاہ یا جلسوں میں کھانے کے حصول میں ایسی صورت سامنے آتی ہے کہ نہ ہی پوچھیے .اسرائیل میں ایک مذہبی تہوار کے دوران بھگدڑ مچنے سے کم از کم درجنوں افراد جان بحق ہو گئے ہیں۔بنارس میں مذہبی اجتماع میں بھگدڑ سے بیس افراد کی موت ہوئی .ممبئی ریلوے سٹیشن پر بھگدڑ سے اموات .ایتھوپیا میں بھگدڑ سے لوگ جان سے گئے۔ کربلا میں بھگدڑ مچنے سے 30 سے زائد زائرین جان بحق ہو گئے .ایسے بے شمار واقعات ہیں جن میں مشتعل ہجوم کے سامنے ٹھہرنا یا ان کو روکنا مشکل ہو جاتا ہے . یہاں تک کہ حج کے دوران کئی لوگ روندے جاتے ہیں .ریلا پانی کا ہو یا لوگوں کااسکے سامنے ہر بار بند باندھنا ممکن نہیں ہوتا .

ایک بڑے اخبار کی خبر کے مطابق خاتون نے لوگوں کی تعداد 4000 بتائی ہے .اس پر سب کو پہچاننے کا دعوی بھی کیا گیا ہے .میرے پاس اخبار موجود ہے .میرا مقصد واقعہ کی صداقت کو جانچنا نہیں.کیونکہ اس میں مبالغہ آرائی سے سو سوالات اٹھتے ہیں . بات صرف سک sick ٹاکرز کی ہے .چائلڈ لیبر کا رونا رونے والی این جی اوز کا کبھی دھیان بھی نہیں گیا کہ دس سال سے چھوٹے بچوں کا ٹک ٹاکر بنانا کیا ہے کہیں والدین انکی لا علمی میں چائلڈ لیبر کے مرتکب تو نہیں ہو رہے کیونکہ یہ قطعی طور پر صلاحیت یا فن نہیں . ہماری قوم کو کیمرہ کا ایسا چسکا پڑا ہے کہ شہر کے چوراہوں پر موجود گروہ بھی کٹورا تھامنے کے بجائے ٹک ٹاکر بن جائے تو چوراہے پر رکی گاڑیوں کے سامنے انھیں ہاتھ پھیلا نے کی ضرورت نہیں پڑے گی لوگ اتر کر انکے ساتھ سیلفیاں لیں گے اور زر مبادلہ کی صورت ڈالر برسنے لگیں گے،دروازے توڑ کر لوگوں کے گھروں میں داخل ہونیوالے اینکر نے ایک بار بھی نہیں پوچھا کہ اسپتال سے اتنی چھٹیاں کیسے مل جاتی ہیں .یوں تو وہ ہر وقت لوگوں کو ان کی ذمہ داریاں یاد کرواتے پائے گئے ہیں .تو ٹک ٹاکرز کی کوئی ذمہ داری کیوں نہیں . یہ وہ گروہ ہے جو ہر طبقہ زندگی کو للکار رہا ہے .کسی شعبہ میں یہ دم نہیں کہ وہ اپنے مطالبات پورے کروا سکیں سوائے ٹک ٹاکرز کے ‘سمجھ لیجیے کہ یہ انارکی آنے والے دنوں میں ایک بڑا چیلنج دینے والی ہے۔