پاکستان میں ہونے والے غیر اخلاقی واقعات کی اصل وجہ بیان کردی گئی

لاہور (ویب ڈیسک) اپنے ارد گرد معاشرے پر نگاہ ڈالیں‘ چوریاں، لوٹ مار ، راہزنی، تاجروں‘ دکانداروں کی لوٹ کھسوٹ، اشیائے خوردنی میں مہلک ملاوٹیں، ناپ تول میں کمی، دھوکا بازی ہے، یہاں تک کہ جان بچانے والی ادویات میں بھی جعل سازی اور دو نمبریاںہیں‘ جو مریضوں کو قبروں میں اتار رہی ہیں۔

نامور کالم نگار منیر احمد بلوچ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ستم ظریفی دیکھئے کہ وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیراعظم عمران خان سے استعفے کا مطالبہ کرنے والوں کے اپنے دورِ حکومت میں لاہور کے کارڈیالوجی ہسپتال میں 212 سے زائد دل کے مریض جعلی ادویات سے موت کی نیند سلا دیے گئے‘ کسی نے استعفیٰ نہیں دیا، کسی نے پبلک میں آ کر معافی نہیں مانگی، کسی نے جعلی دوائیوں سے موت کے گھاٹ اتر جانے والے امراضِ قلب کے ان مریضوں کے خاندانوں کی کفالت کا ذمہ نہیں لیا (سوائے ایک نیک صفت انسان کے جنہوں نے اپنا نام کسی بھی صورت میں ظاہر نہ کرنے کی التجا کر رکھی ہے)انٹرنیٹ پر غیر اخلاقی فلمیں آٹھ سے چودہ برس کے بچوں کو وقت سے پہلے جوان کرنے کے ساتھ ان میں گندا جنون بھر رہی ہیں۔ ان وحشیوں نے پورے معاشرے پروحشت طاری کر رکھی ہے جو معصوم بچے‘ بچیوں کو نشانہ بنانے کے ساتھ زندگی سے محروم کر رہی ہے۔ اس کے با وجود بد قسمتی دیکھئے کہ خون کے آنسو اب بھی کوئی نہیں رو رہا، سب اپنی اپنی سیاست اور پارٹیوں کے نام پر گجرپورہ واقعے پر اسی طرح ٹسوے بہا رہے ہیں جس طرح ہمارے ملک کے کچھ حصوں نے خاص مقاصد کے لئے بہائے، وگرنہ تھیٹر کے نام پر جگہ جگہ غیر اخلاقی پن کو بھی رسوا کرنے والے ”ڈانس‘‘ سب کی آنکھوں کے سامنے شرافت کو نوچتے رہے، پھر یہی گندے ڈرامے اور ڈانس کیبل کے ذریعے ہر گلی‘ ہر محلے‘ ہر گھر اور ہر جھونپڑی تک پہنچ گئے۔ سب جاگتی آنکھوں سے دیکھتے رہے۔ اس کے بعد جگہ جگہ درندگی کے شکوے کیوں؟ سر پکڑ کررونا دھونا کیوں؟ آپ کے ہی تو دور میں ان ساری رسوائیوں کے بیج بوئے گئے تھے…”YOU ASKED FOR IT” ۔

Sharing is caring!

Comments are closed.