پاکستان نے آئی ایم ایف کی تمام شرائط پوری کردیں ،

اسلام آباد (ویب ڈیسک)بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف )کی شرائط پوری ‘بجلی کی قیمت میں 3روپے 90پیسے فی یونٹ اضافے اور کارپوریٹ سیکٹر کا انکم ٹیکس استثنیٰ ختم کرکے 150 سے 200ارب روپے جمع کرنے کے وعدے پر عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے پاکستان کا قرض پروگرام بحال کردیا۔

دوسری جانب وزیر خزانہ حفیظ شیخ نے بھی تصدیق کی ہے کہ فریقین اسٹاف سطح کے معاہدے پرمتفق ہوگئے ہیں‘یہ پاکستان کیلئے اچھی پیش رفت ہے۔تفصیلات کے مطابق آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان چھ ارب ڈالر کے قرضے کے جائزہ امور پر مذاکرات مکمل ہو گئے۔ آئی ایف ایم ایکسٹنڈڈ فنڈ فیسلیٹی کے تحت دوسرے سے پانچویں کے جائزے کے امور نمٹائے گئے۔ مذاکرات کے بعد پاکستان کو50 کروڑڈالر قسط کے اجرا کی راہ ہموار ہو گئی۔ آئی ایم ایف نے پاکستان کو 39مہینوں کے پروگرام کے تحت 6 ارب ڈالرکا قرضہ دینے کااعلان کیا تھا قرضہ کی 500ملین ڈالر کی حتمی منظوری آئی ایم ایف ایگزیکٹیو بورڈ دے گا۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ توانائی شعبہ میں جاری سبسڈیز کو کم کیا جائے گا‘پاکستان قرض پروگرام کے دیگر اہداف حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے، حکومت نیپرا کی خود مختاری کیلئے قوانین تبدیل کررہی ہے جبکہ حکومت اسٹیٹ بینک کی خودمختاری کیلئے بھی قانون سازی کررہی ہے۔آئی ایم ایف کے اعلامیے کے مطابق پاکستان کی جانب سے سرکاری اداروں کے نقصانات کو کم کرنے کیلئے قانون سازی کی یقین دہانی کرائی گئی ہے جبکہ کورونا وائرس کے اخراجات کے آڈٹ کی بھی کوشش کی جارہی ہے۔ پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے نمایاں پیش رفت کی ہے جبکہ اسٹیٹ بینک کی مانیٹری اور ایکسچینج پالیسیز نے کورونا وائرس کے دوران اہم کردار ادا کیا ۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کا آئندہ اجلاس اپریل میں واشنگٹن میں متوقع ہے جس میں پاکستان کو قرض دینے کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔آئی ایم ایف اعلامیہ کے مطابق رواں مالی سال کے دوران پاکستان کی معیشت1.5فیصدتک رہے گی۔

Comments are closed.