پاکستان نے اہم ترین مطالبہ پورا کر دیا

اسلام آباد ( ویب ڈیسک ) بد ھ کو حکومت اور اپوزیشن کے مابین شدید کشمکش کے باوجود دو اہم بلوں کی پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد ایف اے ٹی ایف کے مطالبات پورا کرنے کیلئے پاکستان نے قانون سازی کا عمل مکمل کر لیاہے، اکتوبر میں ہونے والے ایف اے ٹی ایف (فنانشل ٹاسک فورس )

کے اجلا س میں یہ فیصلہ ہو گا کہ پاکستان کو گرے لسٹ میں ہی رکھا جائے یا اسے نکال دیا جائے، فیٹف کے تقاضے پورے کرنے کیلئے پاکستان نے سب سے اہم پیشرفت انتظامی سطح پر 22 سے زیادہ شدت پسند تنظیموں پر پابندی، ان کے رہنمائوں کے گرفتاریاں، اثاثوں کی ضبطگی کے ساتھ قانون سازی کے شعبے میں کی ہے۔ حکومت نے اینٹی منی لانڈرنگ اور بدامنی کی مالی معاونت روکنے سے متعلق موجودہ قوانین میں ترمیم کیلئے 8 بل منظور کر لئے، اس اہم قانون سازی پر اتفاق رائے کیلئے حکومت اپوزیشن کے 24 پارلیمنٹرینز پر مشتمل وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی بنائی گئی تھی لیکن یہ کمیٹی اتفاق رائے سے قانون سازی کا عمل مکمل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی تاہم اس حوالے سے اپوزیشن کیساتھ پس پردہ رابطوں میں سب سے اہم قردار اسپیکر اسد قیصر اور مشیر پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان کا ہے۔بدھ کو اپوزیشن کے شور شرابے کے باوجود پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے 2 اہم بلوں کی منظوری سیاسی اور پارلیمانی تاریخ کا اہم واقع قرار دیا جائیگا،پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ایک روز میں2 اہم بلوں کی منظوری کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی ۔ مشترکہ اجلاس میں منظور ہونے والے بلز کے پاکستان پر دور رس اثرات مرتب ہونگے۔خاص طور پر انسداد منی لانڈرنگ کے بل کی منظوری سے منی لانڈرنگ کے خاتمے کیلئے ادارہ جاتی فریم ورک مضبوط ہوگا اور چیک اینڈ بیلنس کا ایک موثر نظام قائم کیا جائیگا جبکہ دارالحکومت اسلام آباد، علاقہ جات متروکہ وقف املاک کے انتظام سے متعلق بل کی منظوری سے اوقاف کے زیرانتظام مساجد اور امام بارگاہوں کی مانیٹرنگ بھی کی جاسکے گی اور اس سے وقف املاک سے متعلق قوانین میں جو خامیاں تھیں وہ بھی دور ہوجائینگی۔گو کہ اس بل کی منظوری صرف اسلام آباد کی حد تک ہوگی،لیکن ایک پالیسی فیصلے کے طور پر اسکے گہرے اثرات مرتب ہونگے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.