پاکستان پر واجب الادا غیر ملکی قرضوں میں اضافہ

اسلام آ باد( یب ڈیسک) قومی اسمبلی کو بتایا گیاہے کہ جو لائی 2018 سے جون2021تک کل سرکاری قرض میں14.9ٹریلین روپے کا اضافہ ہوا۔قرض میں اضافہ کی چاروجوہات بیان کی گئی ہیں۔ یہ بات وقفہ سوالات کے دوران وزیرخزانہ نے ڈاکٹر نفیسہ شاہ کے سوال پر تحریری جواب میں بتائی ۔ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے

اجلاس کی صدارت کی۔مشیر خزانہ نے بتایا کہ کووڈ۔19 کی وجہ سے معیشت میں سست روی کے اثرات کی وجہ سے بنیادی خسارے میں تخمینے سے زیادہ اضافہ ہوااور بنیادی خسارے کی فنا نسنگ کیلئے 3.4ٹریلین روپے ادھار لیا گیا۔ ( اضافے کا23فیصد) ۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ حکومت نے سود کے عوض 7.5ٹریلین روپے ( اضافے کا50فیصد) کی ادائیگی کی۔ ایکسچینج ریٹ میں کمی کی وجہ سے 2.9ٹریلین (20فیصد ) اور ہنگامی ضروریات سے نمٹنے کیلئے کیش بیلنس میں اضافے کی مد میں ایک ٹریلین ( سات فیصد ) کا اضافہ ہوا۔ وزیر منصو بہ بندی و ترقیات اسد عمر نے بتایا کہ وزیر اعظم نے علاقائی ترقی کیلئے چار اہم ترقیاتی پیکجز کاا علان کیاجن میں کراچی ٹرا نسفا رمیشن پلان ، جنوبی بلوچستان کیلئے تیز ترقی ، گلگت بلتستان ترقیاتی پلان اور سندھ کیلئے 14تر جیحی اضلاع کا تر قیاتی پلان شامل ہے۔شازیہ مری کے سوال پر انہوں نے بتایا کہ لیبر فورس سروے 2018.19 کے مطابق موجودہ حکومت کے پہلے سال کے دوران23 لاکھ20ہزار ملازمتیں پیدا کی گئیں۔ عالمی وبا کے اثرات کا جائزہ لینے کیلئے کئے گئے سروے کے مطابق جن دو کروڑ چھ لاکھ افراد کا روزگار ختم ہوا ۔ ان میں سے ایک کروڑ84لاکھ نے اگست۔ نومبر 2020 میں دو بارہ کام کا آ غاز کردیا،سی پیک اب دوسرے فیز میں داخل ہوچکا ہے۔ سماجی و اقتصادی ترقی کے27 منصو بوں پر عمل درآ مد کیلئے معاہدہ ہوگیا ہے۔ یہ منصوبے زراعت ، تعلیم ، میڈیکل ، تخفیف غربت ، واٹر سپلائی اور پیشہ وارانہ تعلیم کے شعبوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

Comments are closed.