پاکستان کا سخی بادشاہ علیم خان :

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار توفیق بٹ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔اپنے گزشتہ کالم میں، میں یہ عرض کررہا تھا وزیراعظم اتنے بے خبرتو یقیناً نہیں ہوں گے پنجاب میں بدنظمیوں، بدانتظامیوں وبدعنوانیوں سے وہ آگاہ نہ ہوں، اللہ جانے کون سی ایسی مجبوری ہے جس کے تحت وہ پنجاب کی سیاسی قیادت کو تبدیل

کرنے پر تیار نہیں ہورہے، بلکہ اب تو لگتا ہے اُنہوں نے اِسے اپنی ضِد کا مسئلہ بنالیا ہے، میں دِل سے یہ سمجھتاہوں اگلے دو برسوں تک اِسی طرح اپنی ضِد پر وہ قائم رہے پی ٹی آئی کا پنجاب میں شاید وہی حال ہوگا جو آج کل پنجاب میں پیپلزپارٹی کا ہے، … جہاں تک عبدالعلیم خان کا تعلق ہے کسی عہدے کے ہونے نہ ہونے سے اُنہیں کوئی فرق نہیں پڑتا، مگر میں اطلاعاً عرض کررہا ہوں اُن کے لیے ایک خوشخبری ضرور ہے جس کا ایک وقت مقرر ہے اوروہ وقت اب زیادہ دور نہیں ہے، اب میں دوبارہ اُن کی فلاحی خدمات کی طرف آتا ہوں، ایک روز مجھے اُن کی کال آئی کہنے لگے’’میں عمرے پر جارہا ہوں، اِس وقت جہاز میں ہوں، یہاں اتفاق سے میرے ہاتھ میں آپ کا اخبار(روزنامہ نئی بات) لگ گیا، میں آپ کا کالم پڑھ رہا تھا، آپ نے ایک معروف شاعر کے بچے کی تھیلیسمیا سے وفات کا ذکر کیا ہے، شاعر کے کمزور مالی حالات کی تفصیلات بھی لکھی ہیں، میں نے یہ کالم پڑھنے کے بعد اپنے پی اے عمر سے کہہ دیا ہے وہ ابھی آپ کے پاس پانچ لاکھ روپے لے کر آرہا ہے، آپ یہ رقم شاعر صاحب کی خدمت میں پیش کردیں‘‘… میں نے عرض کیا ’’آپ نے یہ کالم شاید پورا نہیں پڑھا، کالم کے آخر میں شاعر کا اکائونٹ نمبر بھی دیا ہوا ہے،آپ اپنے پی اے سے کہیں وہ یہ رقم اُس اکائونٹ میں جمع کروادے، … تقریباً ایک گھنٹے بعد اُن کے پی اے کی مجھے کال آئی،

اُس نے بتایا پانچ لاکھ روپے شاعر صاحب کے اکائونٹ میں جمع ہوچکے ہیں، …کہاں تک سنو گے کہاں تک سنائوں؟ … ایک اور واقعہ بھی سُن لیں، ایک بار میں نے فیس بک پر ایک پوسٹ دیکھی پانچ بہنوں کا اکلوتا بھائی ایک ٹریفک حادثے کا شکار ہوگیا، میں اُس کا پتہ معلوم کرکے اُس کے گھر گیا، مجھے احساس ہوا اُن کی مالی حالت ٹھیک نہیں ہے، والدین بہت بوڑھے اور بیمار ہیں، تین مرلے کے چھوٹے سے مکان کے نچلے پورشن میں وہ رہتے تھے، میں خود اُن کے لیے جو کرسکتا تھا فوری طورپر میں نے کیا، وہ خواجہ سعد رفیق کے حلقے میں رہتے تھے جو اُن دِنوں ریلوے کے وفاقی وزیر تھے، میں نے اُن سے گزارش کی کہ ’’آپ کے حلقے کا رہائشی ایک نوجوان جو والدین کا اکلوتا بیٹا، اور پانچ بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا ایک ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہوگیا ہے، والدین اور بہنوں سے اُن کا واحد سہارا چھن گیا ہے ۔آپ اُن کا سہارا بنیں‘‘…افسوس وہ سہارا نہ بن سکے، پھر یہی واقعہ میں نے عبدالعلیم خان کو بتایا، اُنہوں نے فرمایا ’’ ابھی اُن کے گھر چلتے ہیں‘‘… ہم اُس نوجوان (مرحوم) کے گھر گئے، اُس کے والدین سے تعزیت کی، علیم خان نے اُن سے پوچھا بچہ (مرحوم) کیا کرتا تھا؟ اُس کے والد نے بتایا ابھی چند مہینے پہلے وہ پی آئی اے میں بھرتی ہوا تھا… خان صاحب نے پوچھا ’’اُس کی تنخواہ کتنی تھی ؟‘‘… اُ نہوں نے بتایا ’’تیس ہزار روپے ماہوار‘‘ تھی، ہم وہاں سے نکلے، گاڑی میں بیٹھتے ہی ’’سخی بادشاہ‘‘ مجھ سے کہنے لگے’’ کل تیس تیس ہزار روپے کے بارہ چیک میں آپ کو بھجوادُوں گا،

جیسے ہی ایک سال مکمل ہوگا اگلے سال کے بارہ چیک پھر آپ کو مِل جائیں گے۔ آپ مرحوم بچے کے والد کا اکائونٹ نمبر مجھے واٹس ایپ کردیجئے گا، اِس کے علاوہ اُنہوں نے میرے ذمے لگایا مرحوم نوجوان کی بہنوں کے اچھے سے رشتے تلاش کرو، ہم ان شاء اللہ اُن کی شادیاں بھی کریں گے، اور اگر اُس کی کوئی بہن جاب کرنا چاہے میرے تمام فلاحی ادارے اُس کے لیے حاضر ہیں، … یقین کریں اِس واقعے کو کئی برس بیت گئے یہ ’’سلسلۂ سخیا‘‘ابھی تک جاری ہے، … عبدالعلیم خان کو جو دعائیں مِلتی ہیں وہ اقتدارملنے سے ہزار درجے بہتر ہیں، اقتدار میں مستحق عوام کی کوئی خدمت نہ کرسکے اُسے اُتنی ہی بددعائیں ملتی ہیں جتنی آج کل حکمرانوں کو مِل رہی ہیں، اقتدار ایک آزمائش ہے اُس کے مقابلے میں دعائیں رحمت ہیں، بدقسمتی سے ہمارے کچھ حکمران اب صرف ’’رشوت‘‘ کو ’’رحمت‘‘ سمجھتے ہیں، … میں نام نہیں لکھتا کہ اقتدار اِس وقت اتنے کم ظرفوں کے ہاتھ میں ہے چھوٹی چھوٹی باتوں پر سرکاری افسروں کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنادیا جاتا ہے، ایک اعلیٰ سرکاری افسر جو اِس وقت بھی ایک اہم سیٹ پر ہیں، اُنہوں نے مجھے بتایا ’’ میں جب کمشنر لاہور تھا علیم خان نے زندگی میں پہلی بار مجھے فون کیا۔ میں سمجھا اُنہوں نے شاید کسی کی کوئی سفارش کرنی ہوگی، مگر میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب اُنہوں نے مجھ سے کہا ’’کمشنر صاحب کورونا نے لوگوں کا بُرا حال کردیا ہے، لوگ مالی لحاظ سے تباہ ہوتے جارہے ہیں،

بے روزگاری بڑھتی جارہی ہے، میں نے آپ سے صرف یہ گزارش کرنی ہے سرکاری وسائل اتنے نہیں ہرکسی مستحق کی مدد کی جاسکے، مستحقین کے لیے آپ کو جتنی مالی امداد کی ضرورت ہو آپ نے بس مجھے ایک مسیج کردینا ہے، جس علاقے میں ضرورت ہوئی میرے لوگ وہاں پہنچ جائیں گے‘‘…سو ایسا شخص جو صرف دیناجانتا ہو یا اللہ نے جس کا مقام صرف دینے والوں میں رکھا ہواُسے کوئی عہدہ اگر مِل جاتا اتنا کچھ اب تک لوگوں کو وہ دے چکا ہوتا، چاہے پلے سے ہی دیتا آج خصوصاً پنجاب میں غربت کے یہ حالات نہ ہوتے کہ بعض اطلاعات کے مطابق چوبیس گھنٹوں میں ایک وقت کی روٹی کے لیے کچھ لوگوں کو اپنی عزتیں حتیٰ کہ اپنے بچے تک بیچنے پڑرہے ہیں، یہ حالات صرف بدانتظامی و نااہلی کی وجہ سے پیدا ہوئے …’’ کاروبار بدعنوانی ‘‘ کا نقصان بھی صرف اور صرف عمران خان کو ہورہا ہے جسے اقتدار میں آنے سے پہلے لوگ تمام سیاستدانوں سے بہتر وایماندار تصور کرتے تھے، … اِس تصور پر اچھی خاصی اب زد پڑ چکی ہے … عبدالعلیم خان نے پنجاب کے سینئر وزیر کی حیثیت سے استعفیٰ دے دیا ہے، وزیراعظم عمران خان نے اُن کا یہ استعفیٰ ابھی تک منظور کیوں نہیں کیا؟ اِس کی وجوہات ذاتی طورپر میں جانتا ہوں، علیم خان کا کہنا ہے یہ استعفیٰ اُنہوں نے اپنی ذاتی مصروفیات کی وجہ سے دیا ہے، اصل کہانی وہ نہ بھی بتائیں اصل کہانی سب کو معلوم ہے،حیادار شخص کا مگر وہی رویہ ہوتا ہے جو علیم خان کا ہے، وہ ہرحال میں اپنا تعلق بچانے اور نبھانے کی کوششوں میں مصروف ہیں، وزیراعظم عمران خان بھی جانتے ہیں وہ اُن کا ’’اثاثہ‘‘ ہیں، اب دیکھیں وہ اپنا یہ ’’اثاثہ‘‘ ڈکلیئر کب کرتے ہیں ؟؟؟

Comments are closed.