پاکستان کا وہ بڑا شہر جو

اسلام آباد (ویب ڈیسک) )ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کراچی 2060 تک مکمل طور پر زیر آب آ سکتا ہے، کراچی میں اس سال درجہ حرارت 74سال میں سب سے زیادہ رہا، 2030تک سمندر کی سطح میں اضافہ دس گنا بڑھنے کا امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق برطانوی ہائی کمیشن کی جانب سے جاری کردہ ایک ریلیز

میں بعض ماہرین کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اگر سطح سمندر میں اضافے کا موجودہ سلسلہ جاری رہا تو کراچی 2060تک مکمل طور پر زیر آب آ سکتا ہے۔ کراچی میں اس سال درجہ حرارت پہلے ہی 74 سال میں سب سے زیادہ رہا اور 2030 تک ساحلی طوفان کی وجہ سے املاک کو پہنچنے والے نقصانات اور سمندر کی سطح میں اضافہ دس گنا بڑھنے کا امکان ہے۔ برطانیہ کی میزبانی میںCOP26 موسمیاتی تبدیلی سمٹ آج سے شروع ہو رہی ہے جس میں پاکستان اور برطانیہ کرہ ارض کے سرسبز مستقبل پر مل کر کام کر رہے ہیں۔ برطانوی ہائی کمیشن کے مطابق یہ اس وقت سامنے آیا ہے جب اس کی #26For26 مہم 26پاکستانی کمپنیوں کو 2030تک گیس وغیرہ کے اخراج کو نصف کرنے اور 2050تک خالص صفر تک پہنچانے کا اپنا ہدف جاری رکھے ہوئے ہے۔ اب تک اٹھائیس کمپنیوں نے اس مہم کا حصہ بننے پر اتفاق کیا ہے۔ COP26برطانیہ میں منعقد ہونے والا اپنی نوعیت کا اب تک کا سب سے بڑا بین الاقوامی ایونٹ ہے جس میں 25ہزار سے زائد مندوبین شہر گلاسگو پہنچ رہے ہیں جن میں عالمی رہنماء، رائے دہندگان اور اعلیٰ کاروباری شخصیات شامل ہیں۔یہ عالمی درجہ حرارت کو 1.5C سے اوپر بڑھنے سے روکنے اور زمین اور لوگوں کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے بچانے کے لیے کام کرے گا۔ برطانیہ نے اب تک قابل ذکر کامیابیاں حاصل کی ہیں۔دنیا کی معیشت کا تقریباً 70 فیصد اب خالص صفر کے اہداف میں شامل ہے، جب برطانیہ نے COP26کی صدارت سنبھالی تھی

تو یہ شرح 30فیصد سے بھی کم تھی۔ اس سے پاکستان جیسے سب سے زیادہ خطرے کے شکار ممالک کو مدد ملے گی۔ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے دنیا کا آٹھواں سب سے زیادہ خطرے کا شکار ملک ہے۔ 2100تک بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کا مطلب یہ ہے کہ ہندوکش اور ہمالیائی رینج کے ساتھ 36فیصد گلیشیئر ختم ہو جائیں گے۔ نازک صورتحال کا مطلب ہے کہ پاکستان کو اب باقی عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ برطانیہ پہلے ہی موسمیاتی تبدیلی پر پاکستان کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے اور اس سال 7ملین پاؤنڈ گرانٹ فنانسنگ اور تکنیکی مدد فراہم کرے گا تاکہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے مقاصد حاصل کرنے میں مدد ملے۔ اس سال کے شروع میں برطانیہ نے لاہور میں صاف ستھری اینٹوں کی پیداوار کے طریقوں کو فروغ دینے کے لیے ایک نیا پروگرام شروع کیا تھا جس سے ہوا کے معیار کو بہتر بنانے، سموگ کو کم کرنے اور موسمیاتی تبدیلیوں سے لڑنے میں مدد ملے گی۔ G7ممالک نے موسمیاتی فنانس کے اہداف میں 100ارب ڈالرز کے لیے نئے فنانس کا عہد کیا ہے جس میں موافقت کے لیے مزید فنڈنگ بھی شامل ہے۔ بین الاقوامی مالیات کو متحرک کرنے کے سلسلے میں برطانیہ پاکستان کو جدید موسمیاتی فنانسنگ آلات تیار کرنے بشمول نیچر پرفارمنس بانڈزمیں مدد کے لیے فنڈز دینے کا عہد کر رہا ہے۔ برطانیہ اگلے 5سالوں میں پاکستان میں مزید سرمایہ کاری کرے گا، جس سے کمیونٹیز کو موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ ہونے میں مدد ملے گی اور کمیونٹی کی سطح پر لچک کو بہتر بنایا جائے گا اور آبی وسائل کے موثر استعمال میں مدد ملے گی۔

Comments are closed.