پاکستان کا وہ ضلع جہاں ایک ہی شخص بیک وقت ڈپٹی کمشنر ، ڈی پی او ، اور جج ہے ۔۔۔۔

اسلام آباد (ویب ڈیسک)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سیفران نے چیف سیکرٹری خیبر پختون خواہ کی اجلاس میں عد م شرکت پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں اظہار وجوہ کا نوٹس جا ری کر دیا، قائمہ کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ صوبہ خیبر پختون خواہ میں فاٹا کے انضمام کے

بعد امن و امان کو یقینی بنانے کے لئے فنڈز ادا کیے جائیں،رکن کمیٹی فدا محمدخان نے انکشاف کیا کہ ملاکنڈ میں ایک ہی شخص بیک وقت ڈپٹی کمشنر، ڈی پی او اور جج کے عہدوں پر فائز ہے اور وہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد ان مختلف دفاتر میں کام کر رہا ہے۔ پولیس حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ فاٹا کا صوبہ خیبر پختون خواہ میں انضمام ہو نے کے بعد 29ہزارلیوی اہلکاروں کی سیٹیں خالی تھیں جن کا پولیس میں ادغام کر نا تھا جو ابھی تک نہیں ہو سکا۔منگل کے روز سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سیفران کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر تاج آفریدی کی سربراہی میں ہوا جس میں سینیٹر عثمان خان کا کڑ نے کہا کہ بلوچستان میں پولیس کے کنٹرول میں دس فیصد جبکہ نوئے فیصد علاقہ لیوی کے کنٹرول میں ہے۔ سینیٹر عثمان کا کڑ، اورنگزیب اورکرزئی،چیئرمین تاج آفریدی نے بھی فاٹا میں بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورت حال پر اظہار تشویش کیا۔ڈی آئی جی صوبہ خیبر پختون خواہ محمد علی نے کہا کہ فاٹا انضمام ہونے کے بعد ان علاقوں کا کنٹرول سنبھالے ابھی مجھے صرف دو سال ہوئے ہیں، حالات کنٹرول کرنے کے لئے وقت درکار ہے۔رکن کمیٹی فدا محمد خان نے کہا کہ ملاکنڈ میں ایک ہی شخص بیک وقت ڈپٹی کمشنر، ڈی پی او اور جج کے عہدوں پر فائز ہے۔اور وہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد ان مختلف دفاتر میں کام کر رہا ہے جس پر حکام نے بتایا کہ اس بارے میں سمری صوبائی حکومت کو بھیجی ہو ئی ہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *