پاکستان کو کونسی کھائی میں دھکیلنے پر کام شروع ہو چکا ہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار امتیاز عالم اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔کیا یہ محض خوش فہمی تھی کہ پاکستان افغان تالبان، امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مابین صلح صفائی کرائے گا اور یہ صلح امریکہ اور ’’اسلامی امارات افغانستان‘‘ کے مابین دوحہ معاہدے کی صورت کروائی بھی گئی۔

لیکن صلے میں ملا بھی تو کیا فقط کوئلوں کی دلالی میں منہ ہی کالاہوا۔ یہ صورت پیدا ہوچلی ہے کہ افغان تالبان پاکستانی انتظامیہ اور تحریک تالبان پاکستانمیں صلح اور لڑائی بندی کے لیے ثالث کا کرداراداکررہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان چونکہ کسی بھی تنازعہ میں فوجی حل کے مستقل مخالف ہیں، نے انکشاف کیا ہے کہ افغانستان میں تحریک تالبان پاکستان کے ساتھ عام معافی اور واپسی کے لئے بات چیت چل رہی ہے۔ ایسی بات چیت کے ماضی میں بھی کئی دور چلے تھے اور ہر بار تحریک تالبان پاکستان کے مختلف دھڑوں نے مختلف معاہدوں سے خوب فائدہ اٹھا کر اپنا اثر و رسوخ بڑھایا تھا اور ان کی پاکستان کے خلاف شرپسندی اسلام آباد کے قرب و جوار اور ملک بھر میں پھیلتی چلی گئی تھی۔ امریکی افواج کی افغانستان میں موجودگی کے وقت بھی وہ افغان تالبان، قاعدہ اورآئسز کے ہم رکاب رہے تھے اور اب بھی وہ خاص طور پر افغان تالبان اور ان کے امیر کی شرعی اطاعت و بیعت پہ قائم ہیں۔ گزشتہ مہینوں میں شرپسندی میں اضافے کے بعد، اب پاکستانی تالبان نے یکم اکتوبر سے 20 اکتوبر تک لڑائی بندی کا اعلان کیا ہے اور اپنی ڈیڈ لائن میں اضافے کو بات چیت میں پیش رفت سے منسلک کیا ہے۔ یہ افغان تالبان ہی ہیں جنہوں نے تحریک تالبان پاکستان کے مختلف دھڑوں کو متحد کیا، سینکڑوں کو قید سے رہا کیا اور اب بات چیت پر بھی راضی کرلیا ہے۔ افغان تالبان بھی ٹی ٹی پی کے تاریخی طور پربہت ممنون ہیں کہ

جب پاکستان شرپسندی کے خلاف امریکی لڑائی میں امریکہ کا اتحادی بنااور اس کی افواج کو تمام تر سہولتیں فراہم کی گئیں تو اس وقت تالبان پاکستان نے پاکستان کو شرپسندی اور بدامنی کے جہنم میں بدل دیا تھا۔ تحریکِ تالبان افغانستان نے اپنے مقتدی پاکستانی تالبان کو اپنے نام نہاد سرپرست (پاکستان) مگر امریکی اتحادی کے خلاف خوب استعمال کیا اور وہ تمام اسباب اور ضروری رسد فراہم کی جن کی ایک گوریلا تحریک کو سرحد پار سے ضرورت ہوتی ہے۔ مستقبل میں بھی ٹی ٹی پی بطور ایک پریشر گروپ اسلامی امارات افغانستان کو سیاسی و سفارتی اور ضرورت پڑنے پر حربی مدد فراہم کرتی رہے گی۔ آج افغان تالبان افغانستان کے تن تنہا مالک ہیں، کل کلاں تالبان پاکستان کے حکمران بھی ہوسکتے ہیں اور اس کے لئے بڑے بڑے جغادری تزویراتی ماہرین اور مولانا حضرات ابھی سے فضا بنارہے ہیں۔ ویسے بھی اجماع امت ہے کہ اللہ کے دین کا تمام دنیا میں بول بالا ہونا ہے اور پاکستان تو بنا ہی اس کے نام پر تھا۔ لگتا ہے کہ آرمی پبلک اسکول پشاور کے سانحہ کے بعد شرپسندی کے خلاف جس نیشنل ایکشن پلان پہ قومی اتفاق رائے ہوا تھا، اب اُس قومی مینڈیٹ کو اُلٹ دیا گیا ہے، جس پر حزب اختلاف نے جائز طور پر شدید ردِعمل کا اظہار کیا ہے کہ اتنی بڑی پالیسی کی تشکیل پارلیمنٹ کے اتفاقِ رائے کے بغیر ممکن نہیں تھی لیکن پارلیمنٹ ہے کس باغ کی مولی؟دوسری طرف افغانستان میں امریکہ کی طویل ترین لڑائی کے شرمناک ڈراپ سین پر امریکی کانگریس میں حکمران ڈیموکریٹک پارٹی

اور حزب مخالف اور ٹرمپ کی داعی ریپبلکن پارٹی کے مابین خوفناک الزام بازی کا بازار گرم ہے۔ لیکن سیانے کہتے ہیں کہ ہاتھیوں کی لڑائی میں گھاس روندی جاتی ہے۔ امریکی کانگریس میں ہر طرح کی ناکامیوں کے اعتراف کے بعد تان ٹوٹنے جارہی ہے بھی تو اسلامی امارات افغانستان اور پاکستان پر۔ صدر بائیڈن اور ڈیموکریٹک پارٹی تو بہت پہلے سے ہی پاکستان کے ’’مبینہ دوغلے‘‘ کردار کے شاکی رہے ہیں اور اس دوران بائیڈن انتظامیہ کے پاکستان سے تعلقات بدترین سرد مہری کا شکار رہے۔ اب اٹیک کیا ہے تو بھی تو 22 ریپبلکن سینیٹرز نے جنہوں نے ایک تادیبی بل افغان تالبان کو شرپسند قرار دیتے ہوئے، پاکستان کو بدامنی کی پشت پناہی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے پیش کیا اورتحقیقات کا مطالبہ کیا ہے بلکہ سخت تادیبی بندشوں (Sanctions) کا تقاضہ کیا۔ اسے کہتے ہیں کہ پھندہ تیار ہے! (Die is Cast)۔ امریکی کانگریس کی طاقتور کمیٹیاں تحقیقات کے لیے متحرک ہوگئی ہیں اور قربانی کے دو بکرے افغانستان اور پاکستان نئی امریکی تادیبی بندشوں کے لیے کمربستہ ہوجائیں۔ افغانستان تو بے حال ہے، اس میں اپنے پائوں پر کھڑا رہنے کی سکت نہیں اور اسلامی امارات افغانستان کے پاس سوائے وحشت ناک سزائیں دینے کے کوئی نسخہ کیمیا نہیں اور بیرونی امداد کی کنجی امریکہ بہادر کے پاس ہے۔ گو کہ ہم مسلمان صرف اللہ کے حضور ہی دعا گو ہیں۔ قرائن بتارہے ہیں کہ افغانستان میں تالبان کی حکومت اور اس کے وزرا، شرپسندوں کی فہرست میں شامل رہیں گے اور انہیں جو عالمی انسانی امداد ملے گی بھی

تو سخت شرائط کے ساتھ۔ افغانستان ویت نام تھا نہ افغان تالبان ویت کانگ جنہوں نے تین سامراجی طاقتوں کو شکست دے کر ایک ترقی یافتہ ویت نام کھڑا کردیا جو کسی کا محتاج نہیں ہے۔ افغانستان ایک بار پھر اپنے ہمسائیوں اور خاص طور پر پاکستان، ایران اور وسطی ایشیا کے لیے عذاب الٰہی بننے جارہا ہے۔ اوپر سے پاکستان پر پھر سے امریکی پابندیوں کا پرانا سلسلہ زیادہ شدومد سے بحال ہونے جارہا ہے۔ گو کہ پاکستان پہلے بھی پریسلراور کیری لوگر ترامیم کی صورت میں نتائج بھگت چکا ہے، لیکن اس بار یوں لگتا ہے کہ شکنجہ کئی اطراف اور کثیر جہتوں سے کسا جائے گا۔ کیری لوگر بل کا کچھ فائدہ سول حکومت کو ضرور ہوا تھا، لیکن اس بار سبھی ایک صفحے پہ ہوں گے اور ایک نشانے پہ بھی اور یہ ایسے وقت میں ہونے جارہا ہے جب امریکہ میں پاکستان کا کوئی بھی حامی نہیں اور ہماری سفارت کاری کبھی کی حربی پھرتیوں کے ہاتھوں اپنی عزت گنوا چکی ہے۔ ہمارے تزویراتی ماہرین نے چار دہائیوں سے زیادہ ایک موکل ریاست کے طور پر نام نہاد ’’گریٹ گیم‘‘ میں دونوں بڑی سپر طاقتوں کے خوب چھکے چھڑوائے اور ہمارے ذوق خدائی والے سالار فرنٹ فٹ پر کھیلنے کے بڑے ہی ماہر پائے گئے ، لیکن اب چھکا لگنے والا نہیں، اپنی وکٹ کی فکر کیجئے جسے گرانے کے لیے عالمی ایمپائر کی انگلی کھڑی ہونے کو بیتاب ہے۔ ایسے دگرگوں حالات میں ، میں پا بہ گِل، میں بے نشاں، پاک سرزمین پہ سایہ ذوالجلال کی دعا ہی کرسکتا ہوں!

Comments are closed.