پاکستان کی ایلیٹ کلاس ان دنوں کیا سوچ رہی ہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار فیصل مسعود اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔انیسویں صدی کے اختتام تک ترقی یافتہ اور زوال پذیر اقوام میں تقسیم واضح ہو چکی تھی۔ بیسویں صدی میں اس امر سے قطع نظر کہ کس ملک میں کون سا طرزِ حکومت رائج ہے یہ طے ہو چکاتھا کہ وہی قومیں دنیا پر حکمرانی کریں گی

جہاں محدود Elitist گروہوں کے مفادات کی نگہبانی کرنے والا نہیں،’اخلاقیات‘ پر مبنی نظام اوروسیع البنیاد قومی ادارے کار فرما ہوں گے۔چنانچہ جاپان میں مغربی جمہوریت جبکہ چین میں یک جماعتی نظام رائج ہونے کے باوجود کے ہر دو ممالک نے حیران کُن ترقی کی ہے۔ وطنِ عزیز کی مختصر زندگی میںپہلا’ اہم دوراہا‘(Critical Juncture) استعمار کے استحصالی (Extractive)نظام سے آزادی کی صورت سامنے آیا۔چاہیئے تو یہ تھا کہ ہم قدرت کی طرف سے ملنے والے اس نادر موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عوامی مفاد عامہ کی نگہبانی پر معمور وسیع البنیاد قومی ادارے قائم کرتے۔ اس کے برعکس معاشرہ ایلیٹ گروہوں کے نرغے میں مزیدپھنستا چلا گیا۔نو سال تک ہم آزاد ادارے تو کیا، ایک آئین تک نہ بنا سکے۔بد عنوانی ،شخصی آمریت، سیاسی اکھاڑ پچھاڑ اور جاگیردارانہ مفادات نے فوجی آمریت کی راہ ہموار کی۔فوجی حکمران کا استقبال عوام نے کھلے بازوئوں کے ساتھ اس امید سے کیا کہ ان کے حالات بدلیں گے۔کچھ عرصہ میں فوجی جنتا مگر ایک نئے ایلیٹ گروپ کی صورت اختیار کر گئی۔ آمریت اورجمہوری ادوار ایک کے بعد ایک آتے جاتے رہے،وطن عزیزآج بھی ایک جدید اسلامی فلاحی معاشرہ نہیں، ایلیٹ طبقات کی چراگاہ ہے کہ جہاں مخصوص طاقتور گروہ ایک دوسرے کے مفادات کے نگہبان ہیں۔ زوال پذیر ملکوں میںجب کوئی فوجی آمر، جمہوری حکمران یا انقلابی رہنماء نظام کو بدلنے کا نعرہ لے کر کسی بد عنوان حکومت کا تختہ الٹ کر برسرِ اقتدار آتا ہے تودیکھا گیا ہے کہ جلد یا بدیر وہ خود بھی اسی بدعنوان نظام کا حصہ بن جاتا ہے۔ معاشی اور معاشرتی علوم کے ماہرین اسے Iron Law of Oligarchy کہتے ہیں۔

کہا جا سکتا ہے کہ حالات کے ہاتھوں ستائی ہوئی پاکستانی مڈل کلاس نے اکتوبر 2011ء کی ایک شام خاموش انقلاب برپا کیا تھا۔کہا جا سکتا ہے کہ آزادی کے کئی عشروں بعد ہم ایک بار پھرایک ’اہم دوراہے‘ پر کھڑے تھے۔ تاریخ دانوں کا خیال ہے کہ انقلاب شخصیات برپا نہیں کرتیں بلکہ برپا انقلاب کے نتیجے میں کوئی ایک فرد اچانک ابھر کر تبدیلی کا استعارہ بن جاتا ہے۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ اکتوبر 2013ء کی شام مینارِ پاکستان کے سائے تلے جمع ہونے والے ہجوم کو عمران خان کھینچ کر لائے تھے یا حالات سے اکتائے عوام نے محض ایک شخص کی ذات میں اپنا مسیحا ڈھونڈ لیا تھا۔ تین سالہ حکمرانی کے بعدطاقتورایلیٹ گروہوں کی طرف سے مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ’ عمران خان پراجیکٹ‘ ناکام ہو چکا ہے، لہٰذا ان کو ہٹایا جائے۔عمران خان محض ایک فرد ہیں، وہ چلیں جائیں گے تو کوئی اور آجائے گا۔افراد بدلتے رہیںگے، نظام ِ حکومت تبدیل ہوتے رہیںگے ،خود غرضی، اقرباء پروری، ٹیکس چوری اور بد عنوانی پرمبنی ایلیٹ گروہوں کے مفادات کا نگہبان ظلم اور جبر کا نظام جو ں کا توںقائم رہے گا۔یہی Iron Law of Oligarchy ہے۔ یہی صدیوں سے قوموں کے عروج و زوال کی داستان ہے۔اسی کو سنتِ الہٰیہ بھی کہا جاتاہے۔

Comments are closed.