پاکستان کی بیٹی ام رباب پھٹ پڑی

دادو(ویب ڈیسک) ام رباب کیس میں عدالت نے پیپلزپارٹی کے دو ارکان اسمبلی کو نامزد کرنے کا حکم دے دیا۔دادو کے علاقے میہڑ میں تہرے 302 کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے پیپلزپارٹی کے ارکان صوبائی اسمبلی سردار خان چانڈیو اور برہان خان چانڈیو کو مقدمے میں نامزد کرنے کا حکم دے دیا۔

مقدمے کی سماعت دادو کی کرمنل ماڈل ٹرائل کورٹ میں ہوئی، ٹرائل کورٹ قاضی ندیم بابر کی عدالت نے محفوظ فیصلہ سنایا۔ عدالت میں پیشی کے دوران ارکان اسمبلی سردار چانڈیو اور برہان چانڈیو کے حامیوں کی بڑی تعداد عدالت کے احاطے میں موجود رہی، عدالت کے اطراف پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات تھی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پیشی کے بعد رکن اسمبلی سردار خان چانڈیو نے کہا کہ عدالتی فیصلہ قبول ہے، فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کریں گے۔ دوسری جانب ام رباب چانڈیو نے کہا کہ آج پورے پاکستان کے شعورکی جیت ہوئی ہے عدالت کا فیصلہ انصاف پر مبنی ہے۔یاد رہے کہ سندھ کے ضلع دادو کی تحصیل مہیڑ میں تین سال قبل آتشیں ہتھیاروں سے لیس افراد نے ایک ہی خاندان کے تین افراد کو زندگی سے محروم کر دیا تھا۔ام رباب کا دعویٰ ہے کہ اُن کے والد، دادا اور چچا کو پاکستان پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے اراکین صوبائی اسمبلی نے زندگی کے حق سے محروم کروایا۔گذشتہ دنوں والد، چاچا اور دادا کے کیس کے انصاف کیلئے قانونی لڑائی لڑنے والی ام رباب قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی انسانی حقوق کے اجلاس میں پھٹ پڑیں تھیں۔ ام رباب نے کمیٹی کو بتایا تھا کہ تہرے کیس میں نامزد ایم پی اے کی گرفتاری کے لیے پولیس نے ریڈ کیا تو نثار کھوڑو حامی بن کر سامنے آ گئے اور ایس ایس پی کہتے ہیں کہ سندھ حکومت کا دباؤ ہے۔ام رباب نے کمیٹی کے شرکا سے سوال کیا تھا کہ اس کیس میں مداخلت کیوں کی جا رہی ہے اور سیاسی جماعتیں اس معاملے پر سیاست نہ کریں اور بلاول بھٹو قائمہ کمیٹی کےچئیرمین ہیں جبکہ امید ہے کہ وہ نوٹس لیں گے۔

Comments are closed.