پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک یادگار واقعہ ملاحظہ کریں

اپنی کتاب سچ تو یہ ہے میں چوہدری شجاعت حسین ایک حیران کن واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ پرویزالٰہی اور مجھے بھی پہلی بار بھٹو دور میں ہی گرفتاری اور جیل کا سامنا کرنا پڑا۔ ہوا یوں کہ قومی اسمبلی میں خان عبدالولی خان اپوزیشن لیڈر اور میرے والد ڈپٹی اپوزیشن لیڈر منتخب ہوئے۔

ان دنوں وزیراعظم بھٹو چوتھی آئینی ترمیم منظور کرانے کی تیاریاں کررہے تھے۔ ان کی شدید خواہش تھی کہ اپوزیشن اس کی مخالفت نہ کرے اور یہ ترمیم متفقہ طور پر پاس ہو جائے مگر ان کو اچھی طرح سے علم تھا کہ میرے والد کی موجودگی میں یہ ممکن نہیں ہو گا۔ اس پر بعض لوگوں نے ان کو مشورہ دیا کہ جس روز یہ ترمیم اسمبلی میں پیش ہو، اس سے ایک روز قبل چودھری صاحب کے بچوں کو گرفتار کر لیا جائے۔ چودھری صاحب اس پریشانی کی وجہ سے اسمبلی میں پہنچ نہیں سکیں گے اور یوں حکومت بآسانی چوتھی ترمیم متفقہ طور پر پاس کرانے میں کامیاب ہو جائے گی۔شام کا وقت تھا۔ میں، پرویزالٰہی، ان کے والد (میرے تایاجان) چودھری منظورالٰہی فیکٹری میں بیٹھے تھے۔ اچانک پولیس اندر داخل ہوئی اور کہا کہ آپ کی فوری گرفتاری کا حکم ہے۔ ہم نے پوچھا کہ ہمیں کیوں گرفتار کیا جارہا ہے اور وارنٹ کہاں ہیں؟ اس پر پولیس افسر نے کہا کہ فی الحال تو گرفتار کرنے کا حکم ہے، تفصیلات تھانے جا کر بتا دیں گے۔ ہمیں سول لائن تھانہ لے جا کر بند کردیا گیا۔ تھوڑی دیر بعد ایک عادی شخص کو بھی اندر دھکیل دیا گیا۔ وہ آتے ہی گردے کے کش لگانے لگا۔ اس کے دھوئیں سے سانس لینا بھی مشکل ہو گیا۔ ہم سمجھ گئے کہ پولیس کی یہ حرکت ہمیں تنگ کرنے کے لیے ہے لہٰذا ہم خاموش رہے۔ رات سونے کا وقت آیا تو اوڑھنے کے لیے جو کمبل دیئے گئے ان میں سے بدبو کے بھبکے اُٹھ رہے تھے،

ان کمبلوں کو اُوپر اوڑھنا تو درکنار، پاس رکھنا بھی ناممکن تھا۔ کمرے میں ٹوائلٹ بھی نہیں تھا، جنگلے کے باہر ایک نالی بہہ رہی تھی اور ہمیں کھڑے ہو کر جنگلے کے اندر سے ہی رفع حاجت کرنی پڑتی ۔ہم نے اپنے وکیل سے ملنے کی اجازت مانگی، جواب ملا، ابھی ملاقات نہیں ہوسکتی۔ کچھ دن بعد ہمیں کیمپ قید خانے منتقل کردیا گیا، وہاں حکم تھا کہ ان کو کوئی بستر یا سہولت نہ دی جائے لیکن اتفاق یہ ہوا کہ انہی دنوں ہمارے عزیز گُل محمد روکڑی کے کچھ حامی بھی مقید تھے، جب انہیں پتہ چلا تو وہ اپنے کمروں سے رضائیاں اور چادریں لے کر پہنچ گئے، صفائی اور کھانے پینے کا انتظام بھی کردیا۔نواز شریف سے پہلی ملاقات کے حوالے سے انہوں نے لکھا کہ میاں نواز شریف سے ہماری پہلی ملاقات 1977ء میں اس وقت ہوئی جب جنرل ضیاء الحق نے بھٹو حکومت کا تختہ اُلٹنے کے فوراً بعد نوے روز میں الیکشن کرانے کا اعلان کیا تھا۔ میرے والد لاہور میں بھٹو کے مقابلہ میں الیکشن لڑرہے تھے، ایک روز ہم انتخابی مہم کی تیاری کے سلسلہ میں اپنے گھر کے دفتر میں بیٹھے تھے کہ ایک ملازم نے آکر بتایا کہ باہر کوئی نوجوان آیا ہے اور کہہ رہا ہے کہ اس نے چودھری ظہورالٰہی صاحب سے ملنا ہے۔ والد صاحب چونکہ میٹنگ میں مصروف تھے، انہوں نے پرویزالٰہی سے کہا کہ وہ اس نوجوان سے جا کر مل لیں۔پرویزالٰہی باہر آئے تو ایک گوراچٹا کشمیری نوجوان برآمدے میں بیٹھا تھا۔ اس نے پرویزالٰہی کو اپنا وزیٹنگ کارڈ دیتے ہوئے کہا کہ اسے اس کے والد میاں محمد شریف نے بھیجا ہے اور کہا ہے کہ وہ چودھری ظہورالٰہی کی الیکشن مہم میں فنڈز دینا چاہتے ہیں۔ پرویزالٰہی نے اس نوجوان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ الیکشن مہم کے لیے ہم کسی سے فنڈ نہیں لیتے اور یوں یہ سرسری سی ملاقات ختم ہو گئی۔انتخابی میٹنگ سے فارغ ہونے کے بعد میرے والد نے پوچھا کہ باہر کون تھا، تو پرویزالٰہی نے بتایا کہ اس طرح میاں محمد شریف صاحب کا بیٹا آیا تھا اور کہہ رہا تھا کہ ان کے والد الیکشن کے لیے فنڈز دینا چاہتے ہیں۔ والد صاحب نے کہا، تم نے اس کو بتایا نہیں کہ ہم الیکشن کے لیے فنڈز نہیں لیتے۔ پرویزالٰہی نے کہا، میں نے تو اس کو یہ بات بتا دی تھی لیکن آپ بھی بتا دیں، یہ کہہ کر اس نوجوان کا وزیٹنگ کارڈ میرے والد کو دے دیا۔ یہ نوجوان میاں نواز شریف تھے۔1977ء میں اس ملاقات سے پہلے ہم کبھی ان سے ملے، نہ ان کے بارے میں سُنا تھا۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *