پاکستان کی معروف خاتون صحافی قطرینہ حسین کے ساتھ کیا انوکھا واقعہ پیش آیا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) ملبوسات کے حوالے سے بی بی سی کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پاکستان کی ایک معروف دکان سے کپڑے لینے کے دوران میں نے سیلز گرل سے کہا آپ اس سے بڑا سائزکیوں نہیں بناتے تو مجھے جواب ملا کہ آپ اپنا سائز کم کر لیں۔ بس تب ہی میں نے خود

ایسے ملبوسات متعارف کروانے کا سوچا جو میری طرح کی قد و قامت کی خواتین کے کام آئے۔ اور پھر جونو کے نام سے کپڑے بنانے کا کام کیا۔’یہ کہانی معروف صحافی قطرینہ حسین کی ہے جنھوں نے صحافتی کیرئیر میں سے وقت نکال کر کپڑے بنانے کا بالکل مختلف تجربہ کیا تا کہ ان جیسی کئی عورتوں کی مشکل آسان ہو سکے۔ مشکل لیکن بدستور قائم ہے۔سلے سلائے کپڑے بنانے کی معروف مقامی برینڈز لارج سائز تک کپڑے بناتی ضرور ہیں لیکن یہ آخری سائز بھی نسبتاً زیادہ دراز قد یا زیادہ وزن کی خواتین کی ضرورت پوری نہیں کرتا۔ یعنی ڈبل ایکسل یا تھری ایکسل کپڑے نہیں ملتے۔ ان برینڈز کی ویب سائیٹس پر شائع کی گئی تصاویر کم عمر اور دبلی پتلی ماڈلز کی ہی ہیں۔ اور انھیں دیکھ کر لگتا ہے کہ پاکستان میں خواتین کی تقریباً تمام آبادی نوجوان اور سمال سائز خواتین کی ہے اور یہاں ملبوسات انھی کے لیے بنتے ہیں۔قطرینہ حسین کا کہنا ہے کہ حیرت کی بات ہے کہ آن لائن یا سٹور پر خریداری کے لیے جائیں تو لارج سائز عموماً بک چکا ہوتا ہے۔ یعنی اس سائز کے خریدار موجود ہیں لیکن برینڈز اس سائز کی خواتین کو اپنا’ چہرہ’ نہیں بنانا چاہتیں۔ اور اس کے پیچھے وہی معاشرے میں رچی بسی’ باڈی شیمنگ ‘ہے۔یہاں جنریشن نامی برینڈ کا ذکر بر محل ہے جنھوں نے تواتر سے ہر عمر اور قد کاٹھ کی خواتین کے ذریعے اپنے ملبوسات کی نمائش کی ہے۔ان کے حالیہ کلیکشنز میں ماڈلنگ کے لیے ایسی خواتین بھی شامل ہیں جنھیں جسمانی معذور کہا یا سمجھا جاتا ہے۔ بے مثال کا کہنا ہے کہ ہمیں یہ بات قبول کرنا ہو گی

کہ دنیا اب آگے بڑھ چکی ہے، اب وہ وقت نہیں رہا کہ کسی کے خلاف تعصب رکھا جائے۔خوبصورتی کسی ایک شکل یا سائز تک محدود نہیں ہے، ماڈل کی کوئی ایک قسم نہیں ہو سکتی۔ جتنا جلد اس بات کو مان لیا جائے اچھا ہے۔’بل بورڈ پر دکھائی جانے والی ماڈلز کے پیچھے جو لوگ کام کرتے ہیں وہ بھی ایسے دکھائی نہیں دیتے یہاں تک کہ خود ماڈلز بھی ایسی نہیں دکھائی دیتیں۔ ان کی تصاویر کو ایڈٹ کیا جاتا ہے’۔ اپنی تصاویر وائرل ہونے کے متعلق بے مثال کا کہنا ہے کہ چند ایک کے علاوہ انھیں بھی اچھا رد عمل ملا۔ اور کھاڈی کے بعد بہت سی دوسری برانڈز نے بھی انھیں اپنے ساتھ کام کرنے کی آفر کی۔کھاڈی برانڈ کی کارپوریٹ کمیونیکیشن کے لیے ڈائرکٹر انجم ندا رحمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم کہتے ہیں کہ عورت ہر روپ میں خوبصورت ہے۔ہم نے کوئی انوکھی چیز نہیں کی لیکن جب ایک بڑا نام ایسا کوئی کام کرتا ہے تو وہ ایک ‘سٹیٹمنٹ’ بن جاتا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ پاکستان میں یہ بیداری اس قدر سستی اور دیر سے کیوں آئی تو ان کا کہنا تھا کہ فیشن انڈسٹری کے لوگ ‘محفوظ’ کھیلنا پسند کرتے ہیں اس لیے آگے بڑھ کر کوئی موقف یا پوزیشن لینے سے گریز کرتے ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ وہی کرتے رہیں جسے قبول عام حاصل ہے۔اپنی گفتگو میں بے مثال نے کئی ایک کمپنیز کا نام لیا جو اب پلس سائز یا فربہ خواتین کے لیے ملبوسات تیار کر رہی ہیں۔کئی بین الاقوامی مصنوعات کے بعد امید پیدا ہوئی ہے کہ اب مقامی سطح پرریڈی میڈ کپڑے ہر عمر اور ڈیل ڈول کی عورت کے لیے دستیاب ہونے لگیں گے۔ اور ملبوسات کی تیاری میں یہ تبدیلی اسی وقت ممکن ہو گی جب ذہن بھی تبدیل ہوں، جب خوبصورتی کسی ایک معیار پر نہ پرکھی جائے اورجب عورت کو مخصوص زاویہ سے دیکھنا ترک کیا جائے۔(بشکریہ : بی بی سی )

Comments are closed.