پاکستان کی نامور خاتون ڈاکٹر کی انوکھی تحقیق کے حیران کن نتائج

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار شہریار احمد خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔زندگی بھر ہم سنتے رہے کہ ڈاکٹر علاج کرتے ہیں لیکن گزشتہ دنوں معجزاتی صلاحیتوں کی حامل ایک ڈاکٹر سے سنا کہ اصل ڈاکٹر وہ ہوتا ہے جس سے مریض کی بیماری کا محض علاج نہ

ہو بلکہ اسے شفا حاصل ہو۔ انوکھے اور منفرد و ممتاز لوگوں سے ملنے کا اشتیاق ہمیں برسوں سے رہا ہے، چاہے ان کا تعلق مادی دنیا سے ہو یا روحانی دنیا سے، اسی شوق کی تلاش میں چند روز قبل عید میلادالنبیؐ کے موقع پر کسی دوست نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھیجی جس میں ہولسیٹک میڈیسن کی پاکستان میں بانی ڈاکٹر شگفتہ فیروز نے ایک ایسے راز سے پردہ اٹھایا جس کی وجہ سے راقم یہ کالم لکھنے پر مجبور ہوا ہے۔ اپنی اس 23 منٹ گیارہ سکینڈ کی ویڈیو میں ڈاکٹر شگفتہ نے عشق رسولؐ کی ایک ایسی جہت پر روشنی ڈالی ہےجس سے قبل ازیں کبھی آشنائی نہ ہو سکی۔ انہوں نے عشق رسولؐ کو جس حکیمانہ انداز اور سائنسی طریقے سے سمجھانے کی کوشش کی ہے وہ بے مثال ہے۔ اب تک بے شمار ہستیوں سے اس ضمن میں بہت کچھ سن چکا ہوں لیکن اس چند منٹ کی وڈیو نے حب رسولؐ کے حوالے سے وہ دریچے وا کئے ہیں جو آج سے پہلے کوئی نہ کر سکا۔ حیرانگی اس بات کی ہو رہی ہے کہ ڈاکٹر شگفتہ تو بنیادی طور پر ایک ڈاکٹر ہیں جو دلیل، تحقیق اور منطق کے بغیر بات ہی نہیں کرتے تو پھر انہوں نے کس طرح سے عشق رسولؐ کے حوالے سے یہ باتیں کر دیں۔ یہ سوچتے ہوئے ویب سائٹ پر ان کے متعلق کچھ جاننے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ ڈاکٹر صاحبہ بنیادی طور پر ایک فیملی فزیشن ہیں 1985ء میں ایم بی بی ایس کیا، تقریباً 15 برس تک

اپنے دوسرے ہم پیشہ دوستوں کی طرح دوائیوں سے مریضوں کا علاج کرتی رہیں لیکن چوں کہ فطری طور پر ایک حساس دل کی مالک ہیں جو محض احساس کی دولت سے ہی مالا مال نہیں بلکہ کچھ نیا کرنے کی تڑپ اور دکھی انسانوں کے لئے کچھ کرنے کا جذبہ رکھتی ہیں۔اس لئے جلد ہی یہ جان گئیں کہ دوائیوں سے تو بیماریوں کا محض علاج کیا جا سکتا ہے شفا حاصل نہیں کی جا سکتی۔ یہ سوچ کر تحقیق کے میدان میں قدم رکھا او امریکا سے ہولیسٹک میڈیسن میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر لی۔ تحقیق و جستجو کی آرزو بڑھتی گئی تو ایک ایسے مشکل اور پیچیدہ مضمون میں بھی پی ایچ ڈی کر لی جس کو کوانٹم سائنس فزکس کے نام سے جانا جاتا ہے۔ مقصد یہ تھا کہ یہ معلوم کیا جائے کہ روحانی لحاظ سے بھی بیماریوں کا علاج کیسے کیا جا سکتا ہے دواؤں کے بغیر طرز زندگی بدلنے اور اپنی ذہنی و روحانی قوت سے کام لیتے ہوئے مریض خود کو کیسے ٹھیک کر سکتا ہے یقیناً یہ ایک منفرد کام تھا جس میں ڈاکٹر شگفتہ جت گئیں اور اپنی سائنسی تحقیق کی روشنی میں بغیر دوائیوں کے گزشتہ 17 سال سے مریضوں کا علاج کرنے کے بجائے اللہ تعالی کی مدد سے شفا بانٹ رہی ہیں یقیناً پاکستان جیسے ملک میں جہاں صحت کی اچھی سہولیات ناپید ہیں ڈاکٹر شگفتہ کی تحقیق ریگستان میں ایک خوشگوار تازہ ہوا کے جھونکے کے مترادف ہے اس حقیقت سے ہم میں سے بیشتر لوگ واقف ہیں

کہ ہر دوائی کے کچھ نہ کچھ مضراثرات ضرور ہوتے ہیں۔ دوا بظاہر تو کسی مرض کو ختم کر دیتی ہے لیکج اپنے مضراثرات سے انسانی جسم کے کچھ حصوں کو نقصان بھی پہنچاتی ہے۔ ڈاکٹر شگفتہ کی تحقیق کے مطابق اگر ہم صرف اپنی خوراک اور خوراک کھانے کے اوقات کو سائنسی انداز میں مقرر کر لیں تو ہمارا جسم 80 فیصد بیماریوں سے بچ سکتا ہے اس طرح اگر ماضی کے صدمات کو ذہن سے بھلا دیا جائے تو جسم کو بیماریوں سے دور رکھا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ کی تحقیق کا ایک خوبصورت پہلو یہ ہے کہ وہ اس بات پر زور دیتی ہیں کہ کوئی بھی مریض اپنی ذہنی اور روحانی قوت کی مدد سے شفا حاصل کر سکتا ہے۔ عیدمیلادالنبیؐ کے دن جاری ہونے والی اپنی ویڈیو میں ڈاکٹر شگفتہ فیروز نے ایک عجیب نکتہ اٹھایا ہے۔وہ کہتی ہیں کہ ان کی تحقیق کی روشنی میں یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ بے شمار ایسے مریض جو عشق رسولؐ کا جذبہ اپنے سینے میں رکھتے ہیں وہ نسبتاً جلد صحت یاب ہو جاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ کئی ایسے مریض ان کے مشاہدے میں آئے جو بظاہر تو خاص روحانی مرتبے کے حامل نہیں تھے لیکن وہ عشق رسول کا شدید جذبہ سینے میں لئے ہوئے تھے اس لئے وہ جلد شفایاب ہو گئے جبکہ بے شمار ایسے بھی مریض دیکھنے کو ملتے ہیں جو بظاہر نیک زندگی گزار رہے ہوتے ہیں لیکن وہ اس قدر جلد شفایاب نہیں ہوتے۔ تحقیق کرنے سے پتہ چلا کہ مریضوں کے دونوں گروپوں

میں بنیادی فرق یہ تھا کہ جو گروپ حب رسولؐ کی دولت لازوال سے بہرہ مند تھا وہ تو بہت جلد صحت یاب ہو گئے جب کہ دوسرے نسبتاً دیر سے ہوئے۔ جب ڈاکٹر شگفتہ یونیورسٹی آف ایریزونا میں تعلیم حاصل کر رہی تھیں تو اس وقت ان کے ایک امریکی استاد نے ان سے کہا تھا کہ وہ اس بات پر تحقیق کریں کہ شفایابی کا اسلام کے روحانی عقائد سے کوئی تعلق ہے یا نہیں لہذا ڈاکٹر شگفتہ فیروز نے اللہ تعالی کا نام لے کر اس پر تحقیق شروع کی اور چند برس کی محنت شاقہ کے بعد یہ دریافت کرنے میں کامیاب ہو گئیں کہ اسلام کے روحانی عقائد خصوصاً عشق رسولؐ شفا کے عمل کو تیز کرنے کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔یاد رہے کہ ڈاکٹر صاحبہ کوئی واجبی تعلیم رکھنے والی ایک سیدھی سادھی مسلمان نہیں جنہوں نے اپنے مذہب اور نبیؐ سے اپنی محبت کی وجہ سے یہ سب کہا بلکہ وہ سائنسی انداز فکر رکھنے والی دنیاوی تعلیم کے اعلی ترین درجے کو حاصل کرنے والی خاتون ہیں جو تحقیق کے بغیر کسی چیز پر ایمان نہیں لا سکتیں۔ لہذا ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ اگر ہم اپنے طرز زندگی کو اپنے کھانے پینے کے انداز اور اوقات کو درست کر لیں اور اپنے سینے میں حب رسولؐ کی شمع روشن کر لیں تو ہم بہت سی بیماریوں سے نہ صرف بچ سکتے ہیں بلکہ بیمار ہونے کی صورت میں اللہ تبارک و تعالی کے حکم سے بہت جلد صحت یاب ہو سکتے ہیں۔ ڈاکٹر شگفتہ فیروز کی یہ ویڈیو یوٹیوب پر موجود ہے۔ اگلے کالم میں انشاء اللہ ان کے طریقہ علاج اور ان کی کتاب پر اظہار خیال کروں گا۔