پاکستان کے مسائل کے ذمہ دار سابق جرنیل

کراچی (ویب ڈیسک) وزیراعظم کے معاون نے پاکستان کے مسائل کا ذمہ دار سابق جرنیلوں کو ٹھہرادیا۔ وزیر اعظم عمران خان کے معاون علی نواز اعوان کا کہنا ہے کہ ایک جنرل نے قوم کو اللہ کی راہ میں لڑنے کا کہا جبکہ دوسرے نے ’روشن خیال اعتدال‘ کو راہ دی۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی

علی نواز اعوان نے پاکستان کے سابق جرنیلوں اور سابق آرمی چیفس کو ملک کو درپیش بعض مشکلات کا ذمہ دار ٹھہرایا۔علی نواز اعوان کو شو میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجد شعیب کے ساتھ بطور مہمان مدعو کیا گیا اور جلد ہی یہ بحث گرما گرمی میں بدل گئی۔اعوان کا کہنا تھا کہ آئیڈیل ازم نے اس ملک کو کتنا نقصان پہنچایا ہے اس پر آپ نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے لیکن میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جنونیت نے اس ملک کو جتنا نقصان پہنچایا ہے، اس کا کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مثال کے طور پر اسکندر مرزا، جنرل ایوب خان، جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کو لے لیں۔ اعوان نے سابق آرمی چیف جنرل ضیاء اور مشرف کا ذکر کرتے ہوئے تنقید کی کہ ایک عوام کو لڑائی فی سبیل اللہ میں حصہ لینے پر زور دیتا ہے جبکہ دوسرا کہتا ہے کہ وہ روشن خیال اعتدال چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق آرمی چیفس میں سے ایک پاکستان کو کسی اور کی لڑائی میں دھکیلنے کا ذمہ دار ہے جبکہ دوسرا ملک میں ہونے والے ڈرون اٹیکس کا ذمہ دار ہے۔ اعوان نے پرویز مشرف پر ایک اور طنز کرتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل پاکستان کے اپنے شہریوں کو گرفتار کرکے تفتیش کے لیے دوسرے ممالک کے حوالے کیا جاتا تھا۔ آئیڈیلزم کا دفاع کرتے ہوئے اعوان نے پی ٹی آئی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی 26 سال پہلے بنی تھی اور اس وقت سے لے کر اب تک محنت کے بل بوتے پر آگے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہماری تین سالہ حکومت کا ان کی جنونیت سے کیسے موازنہ کر سکتے ہیں جس نے پاکستان کو تباہ کر دیا؟ اس پر لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجد شعیب نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ تو پھر آپ نے بھی ملک کو تباہ کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے، اب یہ ٹھیک ہے نا؟ اعوان کا کہنا تھا کہ ہم آپ کو یہ بھی دکھائیں گے کہ ہم چیزوں کو کیسے ٹھیک کر سکتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ تم نے انہیں لڑائی فی سبیل اللہ کہہ کر پوری نسلیں تباہ کر دیں۔ ریٹائرڈ جنرل نے جواب دیا کہ علی اعوان آپ کو بتاتا چلوں کہ ملک کو تباہ کرنے کے لیے آپ کو صرف ایک سال درکار ہے، آپ کو اس کے لیے تین سال کی ضرورت نہیں ہے۔

Comments are closed.