تصویر کا ایک رخ یہ بھی ہے

لاہور (شیر سلطان ملک ) ہمارا بطور قوم ایک المیہ ہے کہ کوئی واقعہ ہو جائے اور میڈیا اسے ہائی لایٹ کردے تو سب کچھ چھوڑ کر اور لٹھ لے کر اسی کے پیچھے پڑ جاتے ہیں ۔موٹروے پر رات کے وقت ایک معزز خاتون کے ساتھ ہونے والے واقعہ کے بعد پوری قوم کا مطالبہ

تو یہ ہے کہ مجرموں کو سر عام تختہ دار پر چڑھایا جائے تاکہ ایسی ذہنیت رکھنے والوں کو عبرت حاصل ہو ، کچھ حلقے کہہ رہے ہیں کہ نظام ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے ان چیزوں سے کچھ حاصل نہیں ہو گا ، جب کہ تبدیلی سرکار نے تجویز پیش کی ہے کہ ایسے واقعات میں مجرموں کو اس صلاحیت سے ہی محروم کردیا جائے تاکہ وہ کچھ کر ہی نہ سکیں ؟ اس حکومتی تجویز پر بات کرتے ہوئے کل نامور میڈیا گروپ کا حصہ ہمارے ایک دوست نے مباحثے کے دوران بڑے کام کی بات کہی ۔ سینئر نیوز ایڈیٹر(ملک صاحب) کا کہنا تھا کہ سر عام ایسے مجرموں کو تختہ دار پر چڑھانے کا مطالبہ عوامی مطالبہ ہے اور جو بات خلق خدا کہے اسے حکم رب تعالیٰ سمجھنا چاہیے ، لیکن جہاں تک بات مجرموں کو صلاحیت سے محروم کرنے کی تجویز کی ہے تو اس کا الٹ اثر پڑے گا ، جو شرح ہمارے ملک میں ایسے جرائم کی ہے اس حساب سے تو پھر خاطر خواہ تعداد میں نامرد معاشرے کا حصہ بنیں گے ، کیا ایسے جرائم میں ملوث درندوں کو یہ سزا دینے کے بعد معاشرے میں کھلا چھوڑ دیا جائے گا ، اگر ایسا ہے تو پھر باہر آکر وہ اگرچہ بقول حکومت کچھ کرنے کے قابل نہیں ہونگے ، مگر دراصل وہ اور بہت کچھ کریں گے ۔ پاکستان میں خواجہ سراؤں کی اکثریت چونکہ کچھ کرنے کے قابل نہیں مگر ان کی وجہ سے کتنے مسائل جنم لے چکے ہیں ، آپ بخوبی جانتے ہیں ۔

ملک صاحب کا کہنا تھا کہ اگر ان درندوں کو نشان عبرت بنانا ہے تو پھر سر عام تختہ دار اور وہ بھی جرم ثابت ہوتے ہی جلد از جلد، لیکن اگر بعض مجبوریوں کی وجہ سے ایسا نہ کیا جائے تو پھر نامرد بنانے کی بجائے ان نام نہاد مردوں کو زندگی کی آخری سانس تک اندھیرے قید خانوں میں رکھنے کا قانون پاس کروایا جائے ، چاہے کوئی شخص 25 سال کی عمر میں اس جرم میں قید میں جائے تو پھر وہ کفن میں لپٹا ہوا ہی باہر آئے ، دوسروں کو عبرت سکھانے اور ایسے جرائم کے سد باب کا یہ بہترین طریقہ ہے ۔ بات مزید آگے چلی تو ملک صاحب نے ایک حیران کن بات کہی ۔۔۔۔ پاکستان کے کئی علاقوں میں بچہ بازی یعنی خوبرو لڑکوں کو ساتھ رکھنے کا شرمناک رجحان ہے ، (ملک صاحب نے جن شہروں و اضلاع یا علاقوں کا نام بتایا ان کا ذکر مناسب نہیں ۔) ان علاقوں میں خوبرو کم عمر 10 سے 18سال کی عمر کے لڑکوں کے ساتھ ادھیڑ عمر لوگ دوستیاں کرتے ہیں ، انہیں قیمتی تحائف موبائل موٹر سائیکل حتیٰ کہ گاڑیاں تک تحفے میں دیتے ہیں ۔ اس دوستی کا مقصد کیا ہوتا ہے ،ان علاقوں کا ہر فرد بخوبی جانتا ہے ۔ حکومت کو چاہیے کہ معاشرہ کو خراب اور تباہ کرنے والے ایسے رجحانات کے سد باب اور خاتمے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کرے ۔۔۔۔۔۔ ملک صاحب کی باتیں ہمارے تو دل کو لگی ہیں ، آپ کا کیا خیال ہے ۔ ؟؟؟

Sharing is caring!

Comments are closed.