پاکستان کے پہلے نابینا کالم نگار کا خصوصی سیاسی تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) سنا ہے کہ بین الاقوامی تعلقات میں دوستی اور مخالفت مستقل نہیں ہوتی۔ کل کے دوست آج کے دشمن اور آج کے دشمن کل کے دوست ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کے حوالے سے یہ تاریخی سچائی بین الاقوامی سیاسی تعلقات کی بجائے اندرونی سیاسی تعلقات کے حوالے سے زیادہ سچی لگتی ہے۔

پاکستان کے پہلے نابینا کالم نگار سید سردار احمد پیرزادہ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔ ایک زمانے میں ایم کیو ایم کراچی کی مطلق العنان واحد سپرپاور تھی۔ اب وہی ایم کیو ایم یعنی متحدہ قومی موومنٹ، منتشر قومی موومنٹ یا مختصر قومی موومنٹ کہلا کر مذاق بن رہی ہے۔ ایک زمانے میں عمران خان پسندیدہ برخوردار بنائے گئے تھے لیکن اُن پر انویسٹمنٹ کرنے والے اب عمران خان میں سیاسی میچورٹی نہ ہونے سے مایوس ہوکر کسی اور سیاسی جماعت کو درمیانی راستے کے طور پر تلاش کررہے ہیں۔ ایک زمانے میں پیپلز پارٹی ہر طرح کے رسک کے ساتھ ساتھ حفاظت رسک بھی تھی۔ لہٰذا اُس وقت کی جمہوریت میں پیپلز پارٹی کا رسک لینا کسی کو گوارہ نہ تھا۔ اب وہی پیپلز پارٹی درمیانی راستے کے طور پر سامنے آسکتی ہے۔ ایک زمانے میں پیپلز پارٹی کو سیاسی موت سلانے کے لیے اُس کے پرپرزے مسلسل کاٹے گئے۔ پیپلز پارٹی کے دیرینہ وفاداروں سے پیپلز پارٹی چھڑوا کر دوسری قابل قبول جماعتوں میں شمولیت کے اعلانات کروائے گئے۔ جنہوں نے پیپلز پارٹی سے وفاداری نہیں بدلی انہیں مختلف مقدمات کے شکنجے میں کس دیا گیا مگر اب پیپلز پارٹی بلیک ایریئے سے نکل کر پسندیدہ ایریئے کے کنارے پر پہنچ چکی ہے جبکہ پیپلز پارٹی والی پرانی صورتحال ن لیگ کو درپیش ہے اور ن لیگ پسندیدہ ایریئے سے نکل کر بلیک ایریئے کے کنارے پر کھڑی ہے۔ مختصر یہ کہ پاکستان کی اندرونی سیاست میں کل کے دوست آج کے دشمن اور آج کے دشمن کل کے دوست ہو سکتے ہیں۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *