پاکستان کے کن شہروں میں مثبت کیسز کی شرح تشویشناک ہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) ملک میں کورونا کی دوسری لہر کے دوران وائرس سے متاثرہ افراد کی شرح بڑھنے لگی،پاکستان کے مختلف شہروں میں کورونا کیسز مثبت آنے کی شرح 15؍ فیصد سے بھی بڑھ گئی، حیدرآباد میںسب سے زیادہ کورونا مثبت کیسز کا تناسب 16.59 فیصد ہے۔گلگت میں 15.38 فیصد، ملتان 15.97 فیصد،

مظفرآباد 14.12فیصد، میرپور 11.11 فیصد، پشاور 9.69 فیصد، کوئٹہ 8.03 فیصد، اسلام آباد 7.48 فیصد، کراچی 7.12 فیصد، لاہور 5.37 فیصد اور راولپنڈی 4.63 فیصد ہے۔ آج 1650؍ نئے کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ مہلک وائرس نے مزید 9؍ افراد کا انتقال ہوا ، سندھ میں مہلک وائرس سے مزید 3؍ مریض چل بسے جبکہ کراچی میں 503؍ نئے مریضوں کا اضافہ ہوگیا۔تفصیلات کے مطابق این سی او سی کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران 9 اموات ہوئیں۔ جاں بحق افراد کی مجموعی تعداد 6 ہزار 977 ہو گئی ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران ایک ہزار 650 نئے مریض سامنے آئے۔ 972 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔ 3 لاکھ 17 ہزار 898 مریض صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔ سندھ میں 1 لاکھ 50 ہزار 169، خیبرپختونخوا 40 ہزار657، پنجاب میں 1لاکھ 6 ہزار 922، اسلام آباد 21 ہزار 861، بلوچستان میں 16 ہزار 106 اور آزاد کشمیر میں 4 ہزار 758 مریض ہیں جبکہ گلگت بلتستان میں مریضوں کی تعداد 4 ہزار366ہو گئی ہے۔این سی اوسی کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹے کے دورانہ ملک بھر میں 47 لاکھ 9 ہزار 603 کورونا ٹیسٹ کئے جا چکے ہیں۔ ادھر نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹرکے اجلاس میں فورم میں کووڈ۔19 کے مثبت کیسز میں حالیہ اضافے اور این سی سی اجلاس کے بعد ایس او پیز کے حالیہ نفاذ کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ صوبوں کے چیف سیکرٹریز نے اپنے اپنے صوبوں میں زیادہ مثبت کیسز کے تناسب والے شہروں میں ایس او پیز پر انتظامی اقدامات اور خصوصاً چہرے پر ماسک پہننے کے سلسلے میں انتظامی اقدامات اور نفاذ کی کوششوں اور اوپن ایئر میں شادیوں کے طریقہ کار کے انتظامات کے بارے میں بتایا گیا۔کورونا کے بڑھتے ہو ئے کیسز پر احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے وفاقی ملازمین کو دو حصوں میں فرائض انجام دہی کا حکم دے دیا گیا ہے ،وفاقی وزارتوں اور ان کے ذیلی اداروں کے حکام کو ہدایت کی ہے کہ آدھے ملازمین پہلے دو ہفتے کام کریں گے جبکہ دوسرے اگلے دو ہفتے فرائض انجام دیں گے پہلا مرحلہ 10 نومبر سے 25 نومبر تک ہو گا ،تمام ذمہ داران کو ہدایت کی گئی ہےکہ وہ آپس میں مل بیٹھ کر طے کر لیں کہ پہلے کون سے افسران فرائض انجام دیں گے،بخار اور نزلے کا شکار سرکاری ملازمین کو دفتر آنے کی ضرورت نہیں تاہم وہ گھر پر آن ڈیوٹی تصور ہونگے اور وہ شہر میں موجود رہتے ہوئے آن لائن فرأض انجام دیں گے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *