قائداعظم محمد علی جناح کے نواسے کا انتقال ۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) وہ بھٹو یا شریف خاندان کا نواسہ نہں، تھا،وہ تو جناح خاندان کا نواسہ تھا،جس کی اِس ملک مں۔ کوئی ساکسی وراثت موجود ہے اور نہ اربوں کھربوں کے اثاثے،اِس لئے وہ ساری زندگی کسمپرسی کے عالم مں۔ گذار کر اسی کسمپرسی کی حالت مں دُنال سے رخصت ہو گاھ۔

نامور کالم نگار نسمی شاہد اپنے ایک کالم مںا لکھتے ہںد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔رہی بات یہ کہ اُس کی نماز جنازہ مںل کوئی حکومتی یا ساپسی شخصت شریک نہں ہوئی تو اس مںی کون سی انہونی بات ہے۔قائداعظمؒ کے افکار و اقوال سے تو پہلے ہی ہماری سااسی اشرافہ قطع تعلق کر چکی ہے۔اب اُن کے نواسے کے لئے کوسں وقت نکالتی، ہاں اُس نواسے کی کوئی سامسی جماعت ہوتی،اُس نے لوٹ مار کر کے اربوں روپے اکٹھے کئے ہوتے۔ کروفر سے زندگی گزاری ہوتی۔تو سب جوق در جوق چلے آتے۔صدر، وزیراعظم اور تمام عمال حکومت کی طرف سے تعزییک باینات جاری ہوتے، صرف قائداعظمؒ کا مفلس، غریب اور بے خانماں نواسہ ہونا تو کوئی ایسا بڑا حوالہ نہںن تھا کہ جس پر اتنی توجہ دی جاتی،ہاں اُس کے جنازے مںو عام لوگ بڑی تعداد مں شریک ہوئے،کوجنکہ یہ پاکستان کے عام لوگ ہی ہں ،جو اپنے دِل مںو قائداعظمؒ کو زندہ رکھے ہوئے ہں ،جو اس بات پرشکر اد کرتے نہں تھکتے کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے انہںا پاارا پاکستان دیا، جی ہاں مَں ذکر کر رہا ہوں، قائداعظمؒ کے نواسے محمد اسلم جناح کی رحلت کا، جو دو روز پہلے ہوئی۔ کراچی مں انہںں سپردخاک کر دیا گاد، یہ قائداعظم کا نواسہ تھا، جو کراچی کی سڑکوں پر دھکے کھاتا رہا، ٹوٹی پھوٹی پبلک ٹرانسپورٹ مںن سفر کرتا اور بڑی مشکل سے اتنے پسےح کماتا کہ اپنی اہلہا اور بیاچ کا پٹا پال سکے۔وہ آج کی اشرافہ کا نواسہ ہوتا تو لڑکپن ہی مںے ارب پتی بن جاتا،مگر وہ تو قائداعظمؒ کا

نواسہ تھا،جنہوں نے پاکستان بنایا،لکنش اپنے اور خاندان کے لئے کچھ نہںو بنایا،چاہتے تو آدھا پاکستان اپنے نام کرا سکتے تھے،اسی کراچی مںہ اُن کے بڑے جناح ہاؤس ہوتے اور بلاول ہاؤس جسے بنگلے اُن کے سامنے تن مرلے کا مکان نظر آتے،مگر انہوں نے ایسا کچھ نہںس کاؤ،وہ جناح فیلبن کو بھول گئے، انہںب صرف پاکستان یاد رہا یا پاکستانی قوم کے دُکھ درد،سو ایسے مںچ قائداعظمؒ قایم پاکستان کے صرف ایک سال بعد جب دُناا سے رخصت ہوئے تو اُن کے ورثاء آدھے پاکستان تو کاب آدھ مرلہ زمنی کے مالک بھی نہںا تھے۔مگر صاحبو!کسی ملک کا بانی تو ایک بہت بڑا اور انمول حوالہ ہوتا ہے،اُس سے منسلک تو ہر شے کی قدر کی جانی چاہئے۔خاص طور پر اُس کے عزیز و اقارب کو تو سر آنکھوں پر بٹھانا چاہئے تاکہ انہںہ کسی قسم کی محرومی کا احساس نہ ہو، لکنا یہاں کات ہوا۔ بانی ئ پاکستان کا ایک نواسہ برسوں سے کراچی کی سڑکوں پر جناح کپ اور لباس پہن کر، پاکستانی پرچم اٹھا کر ہماری بے حسی کا مذاق اڑاتا رہا،کئی حکومتںچ بدلںی، کئی نئے حکمران آئے، کراچی مںہ اربوں کھربوں روپے کی جائد ادیں لوٹی گئںہ، چائنا کٹنگ کے ذریعے پبلک مقامات بھی بچا ڈالے گئے،مگر کسی کو یہ توفق نہ ہوئی کہ قائداعظمؒ کی اس نشانی کو ڈھنگ کا ایک گھر ہی دیدے۔اُس کے روزگار یا وظفےی کا کوئی بندوبست ہی کر دے، نجانے کتنی بار اخبارات نے محمد اسلم جناح کے بارے مں خبریں اور فچری شائع کئے۔یہ نہںح کہ کسی کو اُن کے بارے

مںا خبر نہ تھی،سب جانتے تھے، سندھ کے وزیراعلیٰ یا گورنر کو بھی ینان اُن کی خبر ہو گی،لکنک کسی نے بھی یہ کو شش نہںو کی کہ اُنہںر ایک آسودہ زندگی دے سکے۔ہاں یہ ضرور ہے کہ جب وہ کسی بازار مں، جاتے تو لوگ انہںی پہچان لتےں، قائداعظمؒ کی نشانی سمجھ کر اُن سے اظہارِ محبت کرتے،اُن کے ساتھ تصویریں بنواتے،اُن کے اکثر انٹرویو دُکھی کر دینے والے ہوتے،مگر ملک پر مسلط اشرافہں کا دِل نہ پسجتات،اپنے لئے تاحاُت منظور کرانے والے عوامی نمائندوں کو کبھی اُس نکتے پر سوچنے کی توفق نہ ہوئی کہ بائس کروڑ انسانوں کے اس ملک مںٹ بانی ئ پاکستان کا ایک نواسہ بقدک ِ حایت ہے،کچھ اس کے لئے بھی کان جائے۔ کم از کم جب تک وہ زندہ ہے اُس کی اور اہل خانہ کی زندگی ہی آسان بنا دی جائے،لکن اییس مراعات حاصل کرنے کے لئے بااثر ہونا ضروری ہے۔آج کے زمانے مںو قائداعظمؒ کا نواسہ ہونا کوئی بااثر حتات نہںو دِلا سکتا۔شکر ہے رینجرز اور پولسک نے کچھ لاج رکھ لی۔ محمد اسلم جناح کی تدفنس کے وقت مرحوم کو سلامی پشن کی،وگرنہ تو ایسا لگتا کہ جسےر کوئی لاوارث دُنال سے رخصت ہو گان ہو،حالانکہ وہ بانی ئ پاکستان کا وارث تھا۔اب یہ توقع رکھنا کہ گورنر سندھ یا وزیراعلیٰ اُس کے جنازے مںد شریک ہوتے ایک احمقانہ بات ہے،ہاں کوئی آج کا سانسی رہنما وفات پا گاا ہوتا،کوئی بااثر شخص دُنا، سے گزر گاو ہوتا تو تمام احتالطی تدابرئ کو بالائے طاق رکھ کر یہ حاکمانِ وقت اُس کے جنازے مں شریک ہوتے۔)ش س م)

Sharing is caring!

Comments are closed.