پاک فضائیہ کے بارے میں بی بی سی کی ایک خصوصی رپورٹ

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان کے بانی محمد علی جناح نے تیرہ اپریل 1948 کو رائل پاکستان ایئرفورس رسالپور کا دورہ کیا تو اس موقع پر کہا تھا: ’پاکستان کو جتنا جلدی ہو سکے اپنی ایئرفورس کو قائم کرنا چاہیے۔‘انھوں نے مزید کہا کہ یہ فضائیہ بہت ہی مستعد اور دنیا کی بہترین فضائیہ ہونی چاہیے

اور اسے پاکستان کے دفاع میں بری اور بحری کے ساتھ اہم مقام پر کھڑا ہونا چاہیے۔نامور بھارتی صحافی جگل پروہت بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔انڈین ایئرفورس، جسے دنیا کی چوتھی بڑی ایئرفورس مانا جاتا ہے، اسے پاکستان پر عددی برتری یقینی طور پر حاصل ہے۔ انڈین ایئرفورس کے پاس طیاروں کے 31 سکواڈرن ہیں۔ ہر سکوڈارن میں 17 یا 18 لڑاکا طیارے ہوتے ہیں، جبکہ اس کے حریف پاکستان ایئرفورس کے پاس 11 سکواڈرن ہیں۔لیکن اس عددی تقابل سے اصل کہانی واضح نہیں ہوتی۔ اس کے لیے ہمیں پس منظر کو بھی سمجھنا ہوگا۔رائل پاکستان ایئرفورس اپنی ابتدائی تاریخ کی تلخ یادوں کو کچھ اس طرح بیان کرتی ہے۔ ‘انھوں (انڈیا) نے برطانیہ کے ملک سے جانے کے وقت ہمیں دفاعی سازو سامان، طیاروں اور ہتھیاروں کے جس چھوٹے سے حصہ کا وعدہ کر رکھا تھا، ہمیں اس سے بھی محروم رکھا گیا۔‘آخر میں ہمیں انڈیا سے ناکارہ پرزوں سے بھرے صندوق ملے، جن کا کوئی استعمال نہیں ہو سکتا تھا۔اس نوزایدہ فضائیہ کے سفر کا آغاز اس وقت ہوا جب اس نے سنہ 1947 میں کشمیر میں انڈیا اور پاکستان کی لڑائی میں فوجیوں اور ان کے سازوسامان کو وہاں پہنچانا شروع کیا۔پھر سنہ 1965 اور سنہ 1971 کی لڑائیوں میں انڈین ایئر فورس اور پاکستان ایئر فورس، دونوں نے بہت بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ دونوں فضائیہ کے پرانے افسران اپنی اپنی بہادری اور مہارت کے جو قصے سناتے ہیں، ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ملکوں کی فضائیہ نے ان لڑائیوں میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

آج پاکستان ایئر فورس کا سب سے کارآمد ہتھیار دو طیارے ہیں۔ امریکہ سے حاصل کردہ ایف سولہ اور کچھ عرصہ پہلے منظر عام پر آنے والا چینی مدد سے تیار کردہ جے ایف 17 تھنڈر۔ پاکستان ایک ففتھ جنریشن طیارہ بھی تیار کر رہا ہے لیکن اس کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہیں۔ایف 16 دراصل ایک انجن والا وہ لڑاکا طیارہ ہے جو پاکستانی فضائیہ کے نشان اور مخصوص رنگ میں پہلی مرتبہ سنہ 1982 میں نظر آیا تھا۔ اس کے مقابلے میں جے ایف 17 کی تیاری کا مقصد ایک ایسا طیارہ بنانا تھا جو ہلکا ہو، ہر موسم میں، دن رات میں ایک لڑاکا طیارے کا کام کر سکے۔ یہ طیارہ کامرہ میں قائم پاکستان ایروناٹیکل کامپلیکس اور چین کی چینگڈو ایئرکرافٹ انڈسٹری کے تعاون سے بنایا گیا۔کہا جاتا ہے کہ آنے والے برسوں میں پاکستان ائیر فورس میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا طیارہ ایک انجن والا یہ فائیٹر ہو گا۔ ان برسوں میں آہستہ آہستہ یہ فرانس سے حاصل کیے جانے والے میراج طیاروں کی جگہ لے لے گا۔پاکستان ایئرفورس اپنی طیارہ سازی میں خود انحصاری کی پالیسی پر گامزن ہے اور ایک جدید طیارہ جے ایف 17 تھنڈر بنانے کی کوشش کر رہا ہے پاکستان ایئر فورس کے پاس صرف تین اڈے ہیں جو کہ پشاور، لاہور اور کراچی میں ہیں۔ اس کے علاوہ اس کے پاس راولپنڈی میں ایئر ڈیفنینس کمانڈ کا مرکز ہے اور سٹریٹیجیک کمانڈ سینٹر ہے جو اسلام آباد میں ہے، تاہم پاکستانی فضائیہ کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس فضائی ریڈاروں کا ایک پورا جال ہے اور اپنے طیاروں

اور دیگر سازو سامان کی دیکھ بھال اور مرمت کی سہولیات کے علاوہ ایک بڑا انتظامی مرکز بھی ہے۔پاکستانی فضائیہ کے ارتقا کی وضاحت کرتے ہوئے ، ایئر کموڈور (ریٹائرڈ) قیصر طفیل کا کہنا تھا: ‘میرے خیال میں اب تک تین ادوار سے گزر چکی ہے۔ پہلا دور وہ تھا جس میں پاکستان (برطانوی) عملداری سے ایک جمہوریہ بنا۔ اس وقت پاکستان ائیر فروس پہلے سے استعمال شدہ (سیکڈ ہینڈ) آلات استعمال کر رہی تھی۔ اس کے بعد دوسرا دور وہ تھا جب پاکستان سینٹو اور سِیٹو کا رکن بنا۔ یہ دور سن 1965 تک جاری رہا جب انڈیا کے خلاف لڑائی میں امریکی فضائی طاقت کی ایک بڑی کھیپ ہمیں ایف 86 سیبر اور ایف 104 سٹار فئیمر طیاروں کی شکل میں ملی۔ اس وقت امریکہ کہ ساتھ تعاون کا یہ عالم تھا کہ پی اے ایف کا ہر دوسرا پائلٹ امریکہ سے فضائی تربیت لے رہا تھا۔’’اور پھر تیسرا دور اس وقت شروع ہوا جب پاکستان پر پابندیاں لگنا شروع ہوئیں۔ اس دور نے ہمیں موقع دیا کہ ہم اپنی صلاحیتوں میں تنوع لے کر آئیں، اور یہ کوشش آج بھی جاری ہے۔’پاکستان کی مشرقی سرحد کے اِس پار بیٹھی، انڈین ایئر فورس سمجھتی ہے کہ پاکستان ائیر فورس وقت کے ساتھ تبدیل نہیں ہوئی ہے۔انڈین ایئر فورس سے وائس چیف آف سٹاف کے عہدے سے ریٹائر ہونے والے ایئر مارشل ایس بی ڈِیو کہتے ہیں کہ ‘پی اے ایف ہمارے برابر پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کے ہواباز زیادہ برے نہیں ہیں، لیکن میرا خیال ہے کہ پی اے ایف کو مالی مشکلات کا سامنا ہے۔اگر اس رقبے پر نظر ڈالیں جس کا دفاع انہیں کرنا ہوتا ہے، ان کے پاس ایواکس ( ایئربورن وارننگ اینڈ کنٹرول سِسٹمز) کی ایک بڑی تعداد موجود ہے، تاہم ان کا یہ نظام کتنا فعال ہے، میں اس بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہ سکتا۔ دن بدن پاکستانی فضائیہ اپنی صلاحیتوں اور فضائی طاقت کے لیے چین کی جانب مُڑ رہی ہے۔’فائیٹر پائلٹ اور عسکری تاریخ کے ماہر ایئر وائس مارشل (ریٹائرڈ) ارجن سبرامنیم اس سے اتفاق نہیں کرتے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ صرف بالاکوٹ والے حملے کی بنیاد پر پاکستانی فضائیہ کو کمزور سمجھنا غلط ہو گا۔ ان کے بقول ‘میرے خیال میں انڈیا نے جس طرح کا فضائی اٹیک کیا ہے، اس سے دنیا کی بہترین فضائیہ کو بھی بچنے میں مشکل ہوتی۔ (بی بی سی کی یہ رپورٹ کچھ سال قبل شائع ہوئی )

Sharing is caring!

Comments are closed.