پاک فوج پر تنقید کرنے والے ضرور پڑھیں

لاہور (ویب ڈیسک) 2005 میں 40 ڈویژن کے جی او سی کے آفس میں میڈیا سے متعلق ہم کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ان کے سپیشل فون کی گھنٹی بج اٹھی۔ دوسری جانب سے انہیں نجانے کیا کہا گیا کہ جنرل صاحب یک دم تن کر کھڑے ہوگئے اور غصے سے کہنے لگے

”اگر میرے کسی بچے کو نقصان پہنچا تو میں بالکل برداشت نہیں کروں گا‘‘۔ نامور کالم نگار منیر احمد بلوچ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ہم نے سمجھا شاید ان کے بچوں کا کسی سے کوئی لڑائی جھگڑا ہوا ہے‘ لیکن کچھ دیر بعد پتا چلا کہ کچھ نام نہاد این جی اوز کے لائے ہوئے لوگ ایک ملٹری فارم پر ڈیوٹی دینے والے آرمی کے جوانوں پر پتھرائو کر رہے ہیں اور جنرل صاحب اپنے یونٹ کے جوانوں کو اپنے بچے کہہ رہے تھے۔ یہ ہے پاک فوج میں ایک سپاہی اور جنرل کا رشتہ، جہاں ایک جنرل اپنے ایک ایک جوان کو اپنے بچوں کی طرح سمجھتا ہے اور ان کا اسی طرح خیال رکھتا ہے۔ وہ ان کے دکھ‘ درد میں شریک ہوتا اور ان کی تکلیف کو خود محسوس کرتا ہے۔اگر کوئی شخص کسی گھر کے باہر کھڑے گارڈ سے یہ کہتا پھرے کہ تم لوگ تو ٹھیک ہو لیکن تمہارے افسر ٹھیک نہیں‘ تو سوچیں کیا ہو گا؟ پاک فوج کی وحدت پر اٹیک کرنے والوں کی سوچ دیکھئے کہ ملک کی سب سے بڑی ڈسپلنڈ فورس کے خلاف چھپ کر نہیں بلکہ سیٹلائٹ پر باتیں کی جا رہی ہیں اور دنیا بھر کو سنایا جا رہا ہے۔ اُس فورس‘ کے ذہنوں کو منتشر کیا جا رہا ہے جو اپنے اعلیٰ افسران کے ہمراہ کبھی مورچوں، کبھی کسی فرنٹ محاذ اور کبھی کسی کمانڈو مشن میں ملکی سرحدوں کی حفاظت کیلئے ہمہ وقت مورچہ زن رہتی ہے۔ کیا ایسے بیانات کے ذریعے عام سپاہیوں کو یہ سبق دیا جا رہا ہے کہ

جن افسران کے حکم سے تم دشمن کے خلاف کسی خفیہ مشن پر جاتے ہو‘وہ حکم دینے والے اچھے نہیں ہیں؟پاکستانی ادارے اپنے ڈسپلن اور نظم و ضبط کی وجہ سے ہی جانے جاتے ہیں۔ ان اداروں میں ایک نوجوان کمیشن حاصل کرنے کے بعد درجہ بہ درجہ متعلقہ تعلیم، تربیت اور کورسز کی بنیاد پر ترقی پاتا چلا جاتا ہے اور اعلیٰ سے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوتا ہے۔ کسی کی زبان، رنگ، نسل، ذات، پات اور برادری اس کی راہ میں حائل نہیں ہوتی۔ اقربا پروری اور دوست نوازی کی جو روایت بعض ملکی اداروں کا خاصہ بن چکی ہے‘ اس کا کوئی عکس بھی ان ڈسپلنڈ اداروں میں نظر نہیں آتا، اس وجہ سے یہ ادارے‘ پاک فوج ہمارے ملک کے ماتھے کا جھومر ہے۔ذرا ایک لمحے کے لیے سوچئے اور غور کیجئے کہ جب آپ کسی ادارے کے اہلکاروں کو ان کے سینئر افسران کے خلاف بھڑکائیں گے تو اس سے کیا مطلب لیا جائے گا؟ 46 برس قبل بھٹو مرحوم کا مزارعوں کو زمینداروں‘ مزدوروں کو کارخانے داروں، سیلزمینوں کو دکاندار کا دشمن بنا نے کا نتیجہ کس نے نہیں دیکھا اورکس نے نہیں بھگتا؟ اگر آپ کے بھرتی کیے گئے‘ لوگوں کو یہ کہہ کر اکسانے کی کوشش کرے کہ تم تو بہت اچھے ہو لیکن تمہارے چیئرمین کا رویہ اچھا نہیں تو کیسا رہے گا؟آج مدینہ کی طرح اسلامی نظریاتی ریاست‘ جو دنیا بھرکے مظلوم مسلمانوں کی آخری پناہ گاہ بن چکی ہے‘ کی حفاظت کے لیے مختلف دروں پرکھڑے ہوئے پہرہ داروں کو اس لئے ورغلایا جا رہا ہے کہ وہ بھی اس درے کو خالی چھوڑ دیں تاکہ چہار اطراف سے دشمن ہم پر جھپٹ پڑے؟ میں وطن عزیز پاکستان کے اندر بھی اور دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھے ہوئے ہر پاکستانی سے درخواست کروں گا کہ وہ خلیج کی تمام عرب ریا ستوں، افریقہ اور جنوبی ایشیا کے مسلم ممالک کا حال دیکھ کر‘ دنیا میں ان کا موجودہ مقام جانچ کر اور ان کی خود مختاری کے باب پڑھ کر‘ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائے کہ اگر پاکستان بھی ان ممالک کی صفوں میں شامل کر دیا گیا تو آپ اور ہم‘ سب کہاں جائیں گے؟ جھگڑا عمران خان سے ہے‘ نیب سے ہے‘ احتساب سے ہے یا جس سے بھی ہے‘اپنی لڑائی‘ اپنے بیانات اور اپنی آلائش زدہ خواہشوں سے پاک فوج کو دور ہی رکھیں۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *