پاک فوج کےایک اعلیٰ عہدے سے ریٹائرڈ افسر کی حیران کن تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) پاک فوج کے ریٹائرڈ افسر لیفٹیننٹ کرنل (ر) غلام جیلانی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔انگریز نہ صرف دوسری یورپی اقوام میں زیرکی اور دانائی کے تناظر میں ایک برتر قوم ہے بلکہ اس قوم نے ایشیائی اقوام کی بعض روایات و اقدار کو بھی سینے سے لگانے میں گریز نہیں کیا……

برصغیر میں اگر آپ افرنگی اقوام کی کامیابیوں کے اسباب تلاش کریں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ ان اقوام میں جس ایک قوم نے ارفع تر فکری صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا وہ برطانوی قوم تھی۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو آپ کو حیرت ہو گی کہ ایک تجارتی کمپنی نے عسکری کمپنی کا روپ کیسے اختیار کیا اور وہ مسلمان قوم جو سینکڑوں برسوں تک ہندوستان کے طول و عرض میں حکمران رہی وہ کس طرح برطانوی قوم کی مطیع و فرمانبردار بن گئی۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کی باقاعدہ تین افواج تھیں جن کو بنگال آرمی، مدراس آرمی اور بمبے آرمی کہا جاتا تھا۔ ان افواج (Armies) کے اپنے اپنے کمانڈر انچیف تھے۔ لیکن ان میں باہمی اتفاق و اتحاد کا عالم یہ تھا کہ ان تینوں افواج نے تاج برطانیہ کے احکامات کی من و عن پیروی کی۔ لیکن 1857ء میں جب دہلی میں برٹش آرمی میں بغاوت پھوٹ پڑی تو اس میں بنگال، مدراس اور بمبئی افواج نے باغیوں کی سرکوبی کے لئے ایک مشترکہ لائحہ عمل اختیار کیا۔ یہی مشترکہ لائحہ عمل تھا جس نے بالآخر انگریزوں کو اس جنگ میں فتح یاب کیا جسے ہم ”پہلی جنگ آزادی“ کا نام دیتے ہیں اور تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ……اگر 1857ء کی یہ جنگ پہلی جنگ آزادی تھی تو 1757ء کی جنگ پلاسی کیا تھی جو سراج الدولہ کی فوج اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے لارڈ کلائیو کی فوج کے درمیان لڑی گئی؟…… اگر بہادر شاہ ظفر مسلمان تھا تو سراج الدولہ بھی تو مسلمان تھا……

اور ذرا اور آگے بڑھیں تو میسور کی وہ جنگ جو سلطان ٹیپو اور انگریزوں کے درمیان 1799ء میں لڑی گئی کیا وہ جنگِ آزادی نہیں تھی؟…… اور وہ جنگ جو 1846ء میں سبراؤں کے مقام میں خالصہ فوج اور انگریزوں (ایسٹ انڈیا کمپنی) کے درمیان لڑی گئی تو کیا وہ جنگِ آزادی نہیں تھی؟…… نجانے ہم 1857ء کی جنگ کو پہلی جنگ آزادی کیوں قرار دیتے ہیں۔ کیا 1857ء کی جنگ میں کوئی سکھ یا ہندو کمانڈر بھی تھا جو انگریزوں کے خلاف لڑا؟…… وہ سارے کے سارے مسلمان کمانڈر تھے۔ ان کے نام تاریخ میں درج ہیں اور میں ان کی تفصیل بتا کر قارئین کا وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا…… اور ہم تو وہ ہیں کہ اگست 1947ء کو بھی تاریخِ آزادی کی جنگ کہتے ہیں۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ جنگ نہ تھی، یہ صرف تحریک تھی۔ اگر جنگ تھی تو اس میں کتنے سپاہی اور آفیسرز مارے گئے؟ کتنوں کا خون بہا اور کتنوں کے کشتوں کے پشتے لگے؟…… وہ تو خدا بھلا کرے ہٹلر کا کہ اس نے دوسری جنگ عظیم میں اتحادیوں کی کمرتوڑ کر رکھ دی اور برٹش آرمی کو ایسی شکست فاش دی کہ وہ اب تک سنبھل نہیں سکی…… اگر دوسری جنگ عظیم میں برطانیہ کو ہٹلر کی نازی افواج کے ہاتھوں شکست کا سامنا نہ ہوتا تو کیا انگریز سونے کی اس چڑیا (ہندوستان) کو آزاد کر دیتا؟میں تو یہ بھی یقین رکھتا ہوں کہ اگر 1857ء کی جنگ میں بہادر شاہ ظفر کی فوج فتح یاب ہو جاتی اور انگریزوں

کو شکست ہوتی تو آج انڈیا اور پاکستان کی سویلین اور فوجی بیس (Base) وہ نہ ہوتی جو ہم دیکھ رہے ہیں۔ ہم آج بھی مغل دور کی فوج ہوتے…… وہی ہاتھی، گھوڑے، تیر، تلواریں، خنجر، نیزے، بھالے، ذرہ بکتریں اور ڈھالیں …… یہ تو انگریز تھا جس نے 1857ء سے لے کر 1947ء تک کے 90برسوں میں خراب و خستہ انڈیا کو جدید انڈیا کی راہوں پر ڈالا، نئی فوج تشکیل دی، نیا مواصلاتی نیٹ ورک قائم کیا، نئے انتظامی ڈھانچے وضع کئے۔ نیا تعلیمی نظام ”عطا“ کیا اور صحت کا نیا تانا بانا بُن کر ہندوستان کو نئی راہوں پر ڈالا…… ہم سے تو آج تک ایم ون (ریلوے لائن) بھی نہ بن سکی…… اگر پاکستانی افواج کو ٹینکوں، بکتر بند گاڑیوں، توپوں، مشین گنوں، میزائلوں، آبدوزوں اور طیاروں سے کسی ملک نے مسلح کیا تو وہ چین ہے…… ہمیں چین کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ وہ ہمارے دکھ سکھ کا سانجھی ہے۔ کرونا وائرس سے حفاظتی تدابیر کا غوغا تو کل جہان میں برپا ہے لیکن ان تدابیر کا ساز و سامان کس نے دیا؟ کون ہے جو آئے روز پرسنل پروٹیکٹو ایکوپ منٹ (PPE) کے جہاز بھر بھر کر پاکستان بھیج رہا ہے؟…… عمران خان نے سمندر پار بسنے والے ثروت مند پاکستانیوں سے مدد کی اپیل کی ہے، دنیا کے دوسرے مخیر اور دولت مند ملکوں اور اداروں سے بھی درخواست کی ہے۔ لیکن اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے یہ دیکھنے کے لئے ہمیں نہ زیادہ انتظار کرنے کی ضرورت ہے اور نہ زیادہ امیدیں لگانے کی!(ش س م)

Sharing is caring!

Comments are closed.