پاک فوج کے افسران اور ایجنسیوں کے عہدیدار ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو کس خاص نام سے پکارتےتھے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) سینئر صحافی خالد منہاس اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔پاکستان خفیہ طریقے سے ایٹمی پروگرام کو شروع کر چکا تھا اور ڈاکٹر منیر احمد اس پروگرام کی سربراہی کر رہے تھے۔1974ء میں انہو ں نے پاکستان کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو اس حوالے سے خط لکھا مگر کسی نے

اس خط پر توجہ نہ دی۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پاکستان کے سفیر کے ذریعے دوبارہ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو سے رابطہ کیاتوان کو چیک کیا گیابعدازاں انہوں نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو پاکستان بلا لیا اور غلام اسحق خان، آغا شاہی اور مبشر حسن کی موجودگی میں وزیراعظم کو بریفنگ دی اس پر وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے کہا کہ ان کی بات میں وزن ہے۔پاکستان اس وقت پلوٹونیم سے ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کی کوشش میں مصروفتھا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے انہیں یورینیم سے افزودگی کا راستہ دکھایا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے کہا گیا کہ وہ ہالینڈ میں ہی رہیں اور اس سارے عمل کے حوالے سے معلومات حاصل کر کے پروجیکٹ 706کی رہنمائی کرتے رہیں۔ 1975ء میں یورینکو نے منیر احمد خان سے ملاقاتوں کی وجہ سے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو حساس مقامات پر ڈیوٹی دینے سے فارغ کر دیا، اس موقع پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی زندگی کو بھی خطرات لاحق ہو گئے اور پاکستان چلے آئے۔1976 ء میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ایٹمی پروگرام میں شمولیت اختیار کر لی اور خلیل قریشی کے ساتھ مل کر نیوکلیئر پروگرام کو آگے بڑھایا۔ اس موقع پر اس پروگرام میں پہلے سے موجود سائنسدانوں میں اختلاف پیدا ہو گئے۔ بشیر الدین محمود اس وقت یورینیم ڈویژن کے سربراہ تھے۔ خان اور بشیر الدین محمود ساتھ ساتھ نہ چل سکے اس پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ساری صورتحال سے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کوآگاہ کیا۔ وزیراعظم نے بشیر الدین محمود کی جگہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو یورینیم ڈویژن کا سربراہ بنا دیا اور ان کے ڈویژن کو اس پروگرام سے الگ کر دیا۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا ڈویژن براہ راست فوج کی نگرانی میں کام کرتا رہا۔ ڈاکٹر خان چیف سائنٹسٹ تھے اور آرمی انجینئرز کی مدد سے انہوں نے ویران جگہ کہوٹہ کو اپنی لیبارٹری کے لیے چن لیا اور یوں کہوٹہ کے ریسرچ سنٹر کی ابتدا ہوئی۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی قابلیت کو دیکھتے ہوئے فوجی حلقے انہیں سنٹری فیوج خان کہا کرتے۔ ضیاء الحق نے جب 1983ء میں اس لیبارٹری کا دورہ کیا تو انہوں نے اسے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے نام سے موسوم کر دیا۔ بعدازاں ایٹمی پروگرام پر کام کرنے والے دوسرے سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ پاکستان کے اصل ہیرو وہ ہیں اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان صرف شو مین تھا۔ایمسٹرڈم کی ایک مقامی عدالت نے 1985ء میں ان کی غیر موجودگی میں چار برس کی سزا سنا دی۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ایس ایم ظفر ایڈووکیٹ کے ذریعے اپنا مقدمہ لڑا۔ انہو ں نے یہ ثابت کر دیا کہ جو معلومات ان کے پاس موجود تھی یا انہوں نے جس کے لیے کہا تھا وہ ساری کی ساری فزکس کی پڑھائی کے دوران سلیبس کا حصہ تھی اور وہ تمام طالب علموں کو پڑھائی جاتی ہیں چونکہ پاکستان میں لائبریریز نہیں ہیں اس لیے انہیں کتابوں رسائل اور ریسرچ پیپرز کی ضرورت تھی۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان پر کئی کتابیں لکھی جا سکتی ہیں۔ یہ مضمون اس طوالت کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان اس قوم کا سپوت تھا اور اس نے اپنی زندگی اس قوم پر وار دی۔اس کے خلاف بے شمار پروپیگنڈہ کیا گیا مگر وہ سارے کا سارا ختم ہو ا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہمیشہ قوم کے دلوں میں زندہ رہے اور تا قیامت زندہ رہیں گے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی وجہ سے آج قوم سکھ کی نیند سو رہی ہے۔ الوداع ڈاکٹر عبدالقدیر خان الوداع۔

Comments are closed.