پاک فوج کے ایک ریٹائرڈ افسر نے لاڈو رانی کی منافقت بے نقاب کردی

لاہور (ویب ڈیسک) میں ملک کی آرمڈ فورسز بالخصوص آرمی کی قوتِ برداشت کی داد دیتا ہوں کہ وہ اشتعال میں نہیں آتی۔ اس نے حکومتِ وقت کا ساتھ دینا ہوتا ہے۔ اگر ماضی میں فوج اور حکومت کے کرتا دھرتا لوگوں میں اتحاد اور ایکتا کا فقدان تھا تو دونوں فریق

اس کے ذمہ دار ہیں۔پاک فوج کے سابق افسر لیفٹیننٹ کرنل (ر) غلام جیلانی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ سنجیدہ دماغوں میں یہ مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے کہ سیاسیات کو ڈی ملٹرائز کیا جائے۔ اگر آرمی کو اپنے کسی وزیراعظم سے کوئی پرخاش ہے تو وہ ذاتی (Subjective) نہیں،معروضی (Objective) ہونی چاہیے۔ فوج، حکومت کا ایک ماتحت ادارہ ہے لیکن یہ ایسا ”ماتحت“ ہے جو غلام بن کے نہیں رہ سکتا۔ وزیراعظم کو چاہیے کہ وہ اس ماتحت کے تحفظات دور کرے۔ اس کا نقطہ ء نظر سنے، اس پر بحث و مباحثہ کا دروازہ بند نہ کرے اور اپنے اوپر تنقید سننے کا حوصلہ پیدا کرے۔ یہ چلن ساری دنیا میں جاری و ساری ہے۔گلگت بلتستان میں انتخابات کی مہم زوروں پر ہے۔ مریم نواز صاحبہ یہ اعلان کر رہی ہیں کہ وہ لالک جان (نشانِ حیدر) کی سرزمین میں آکر فخر محسوس کررہی ہیں۔ان کو یہ بھی بتانا چاہیے کہ وہ تنظیم جو لالک جانوں کی پرورش کرتی ہے، جس کی گود میں لالک جان پلتے ہیں اور جو لالک جانوں کو جان پر کھیلنے کے قابل بناتی ہے اس کا بھی کوئی والی وارث ہے یا نہیں؟…… کیا اس تنظیم کا سربراہ گردن زدنی ہے؟…… کیا اس کے بارے میں زبان درازی کرکے لالک جانوں کی تخلیقِ نو کا سلسلہ جاری رہ سکے گا؟دوسری طرف بلاول زرداری صاحب ہیں جو یہ دلیلیں دے رہے ہیں کہ ان کی پارٹی اقتدار میں آکر فوج کی تنخواہوں اور پنشنوں میں 100%اضافہ کر دیتی ہے۔ بندہ پوچھے کیا یہ اضافہ پارٹی اپنی جیب سے ادا کرتی ہے؟ کیا گلگت۔بلتستان کے لوگ اتنے ہی کودَن ہیں کہ ان کو معلوم نہیں کہ یہ لوگ (سیاسی لیڈر) اس طرح کی بڑھکیں کیوں لگا رہے ہیں۔ اس خطے میں اعلیٰ تعلیم کی کمی ضرور ہوگی، اعلیٰ عقل و دانش کی کمی ہرگز نہیں۔ میں نے ایک گزشتہ کالم میں عرض کیا تھا کہ فقدانِ تعلیم، فقدانِ دانش کا سبب نہیں ہوتا۔ تعلیم، عقل کو چمکاتی اور صیقل ضرور کرتی ہے لیکن عقل تخلیق نہیں کر سکتی کہ عقل و دانش ایک خداداد صفت ہے جو اعلیٰ تعلیم کی محتاج نہیں …… میں برسوں یہاں آیا گیا ہوں۔ گلگت بلتستان کے اس خطے میں عقل و دانش کی ہرگز کمی نہیں۔ ان کو خوب معلوم ہے کہ لالک جانوں کی تخلیق، مدرسوں کی محتاج نہیں  ؎علم میں دولت بھی ہے، قدرت بھی ہے، لذت بھی ہے۔۔ایک مشکل ہے کہ ہاتھ آتا نہیں اپنا سراغ۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *