پاک فوج کے ایک ریٹائرڈ کرنل نے قصہ ہی ختم کردیا

لاہور (ویب ڈیسک) نامور مضمون نگار اور پاک فوج کے سابق افسر لیفٹیننٹ کرنل (ر) غلام جیلانی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن یہ باور کر لینا کہ ملک کا وزیراعظم ایسے اندوہ ناک حادثوں سے بے خبر اور بے حس ہے، اس سے بھی زیادہ مذموم حرکت ہے…… ثانیاً جو دس کان کن اس سانحے کی بھینٹ چڑھے

ان میں سات کی میتیں تو افغانستان نے طلب کر رکھی تھیں۔ اگر وہ افغانی ہزارہ وال تھے تو پاکستان میں کیا کررہے تھے؟ ان کے شناختی کارڈ حکومت پاکستان کی طرف سے جاری ہوئے تھے تو پھر افغان حکومت کا میتوں کی واپسی کا مطالبہ چہ معنی دارد؟…… ثالثاً سینکڑوں کی تعداد میں ہزارہ زن و مرد جو سات روز تک منفی 8ڈگری سرد موسم میں دن رات وہاں بیٹھے رہے کیا جان بحق ہونے والوں کے ورثاء تھے؟ ظاہر ہے ایسا نہیں تھا تو کیا باقی خواتین و مرد جان بحق ہونیوالوں سے سے محض اظہارِ یک جہتی کے لئے جمع ہوئے تھے؟…… رابعاً بلوچستان کے وزیراعلیٰ، پاکستان کے وزیر داخلہ اور دوسرے وفاقی وزرا جب بار بار احتجاج کرنے والوں کو باور کراتے رہے کہ ان کے مطالبات تسلیم کئے جائیں گے تو ان کی یہ ضد کہ وزیراعظم آئے اور ان کے سامنے وہی کچھ کہے جو صوبائی وزیراعلیٰ اور وفاقی وزراء کہہ رہے تھے کتنی صائب اور قابلِ اعتناء ضد ہے؟ جب مظاہرین کو یہ بتا دیا گیا تھا کہ وزیراعظم کا یہاں آنا ایک بڑا رسک ہے تو اس پر یقین نہ کرنے کی وجوہات کیا تھیں؟ وہ کون لوگ تھے جو وزیراعظم کی آمد پر اصرار کر رہے تھے؟…… خامساً جب آئے روز بلوچستان میں آرمی کے افسروں اور جوانوں کو زندگیوں سے محروم کیا جا رہا ہو تو ایسے میں تھریٹ پر کان نہ دھرنا آخر دوست کی طرفداری ہے یا دشمن کی؟…… سادساً نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کا فوری طور پر

اکٹھا ہو کر ان ہزارہ مصیبت زدگان سے اظہار یکجہتی کرنا اور ساتھ ہی حکومت کو بے حسی کا طعنہ دینا اور وزیراعظم کو بالخصوص نشانے پر رکھنا کیا مظاہرین کو نظر نہیں آ رہا تھا؟ کیا وہ نہیں دیکھ رہے تھے کہ ملک کی سیاسی فضاء کس قدر چارجڈ (Charged) ہے اور ایک دم مریم صفدر، بلاول بھٹو اور ان کے ساتھ تمام بڑے بڑے اپوزیشن لیڈروں کا اجتماع کس غرض سے ہو رہا ہے؟ کیا وزیراعظم نے بارہا یہ نہیں کہا تھا کہ وہ کوئٹہ ضرور آئیں گے لیکن ان کی آمد کو میتوں کے دفنانے یا نہ دفنانے کے ساتھ مشروط نہ کیا جائے؟ میں سمجھتا ہوں کہ مظاہرین نے اگر آٹھویں روز وہی کچھ کرنا تھا جو حکومت پہلے روز کہہ رہی تھی تو ان لوگوں نے اپنا کیس خود ہی کمزور کر لیا۔ جوں جوں دن گزر رہے تھے پاکستان کا سوادِ اعظم یہ محسوس کر رہا تھا کہ یہ مسئلہ انسانی نہیں سیاسی ہے…… شیعہ سنی جھگڑوں کا ذکر تو حکومت اور خود وزیراعظم نے بہت پہلے کر دیا تھا۔ اصل معاملہ CPEC سے شروع ہوا جو اپوزیشن کے ان زعما تک جا پہنچا جن پر مالی بدعنوانی کے الزام تھے اور جو مفرور ہو کر لندن میں بیٹھے تھے یا پاکستانی قید خانوں میں بند تھے۔ اب PDM کے غبارے سے ہوا نکل چکی ہے اور رہی سہی کسر چند دنوں اور ہفتوں میں پوری ہو جائے گی۔ آپ دیکھتے رہیے، دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کیسے ہوتا ہے……اپوزیشن کا ہدف عوامی میتیں گرانا تھا اور

یہی ہدف بھارت کا بھی تھا۔ لیکن ہم سب نے دیکھا کہ حکومت (اور فوج) نے کس استقلال، برداشت اور صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا۔ اپوزیشن کا ہدف بدامنی تھا لیکن PDM کے تمام جلسوں اور ریلیوں میں ایک واقعہ بھی ایسا رونما نہ ہوا جو بدامنی کا ہوتا، جس میں اپوزیشن کو موقع ملتا کہ اپنے ایجنڈے کی تکمیل کرے۔ بعض ٹی وی چینل تیغ و تفنگ نکال کر بیٹھے رہے لیکن ’تماشا‘ نہ ہوا۔اور ہوتا کیسے جب قوم کی اکثریت یہ جان چکی ہو کہ پاکستان کا اصل المیہ کیا ہے تو پھر اپوزیشن چاہے کچھ بھی کرلے۔ اس کی آرزوئیں پوری نہیں ہو سکتیں۔مچھ سانحے میں حفاظت اور سیاست کا مقابلہ تھا جس میں سیاست ہار گئی اور حفاظت کی جیت ہوئی۔ حفاظت کرنے والوں نے ہی وزیراعظم کو کہا تھا کہ ابھی کوئٹہ جانے کا وقت نہیں …… بلوچستان کی سیاست اور حفاظت ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اس پر کئی کالم لکھے جا سکتے ہیں۔ مجھے کوئٹہ کے قیام کے دوران کئی بار ہزارہ ٹاؤن جانے کا اتفاق ہوا۔ ہزارہ والوں کی زبان فارسی ہے جس کا میں انٹرپریٹر تھا اس لئے لوگوں سے گفتگو کرنے اور معاملات کی تہہ تک پہنچنے میں آسانیاں تھیں۔ میں نے ان ایام میں بھی ایک ہزارہ رہنما سے سوال کیا تھا کہ کوئٹہ میں کوئی پنجابی ٹاؤن، بلوچی ٹاؤن، براہوی ٹاؤن اور پشتون ٹاؤن کیوں نہیں اور ہزارہ ٹاؤن کیوں ہے تو اس نے مجھے ایک عجیب و غریب نظر سے دیکھا تھا…… مجھے لگا تھا کہ اس نے شائد اپنے سینے کا راز میرے سینے میں دیکھ لیا تھا!

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *