پاک فوج کے ایک سابق افسر نے بڑی سازش بے نقاب کرتے ہوئے افواج پاکستان کو حیران کن مشورہ دے دیا

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان کی یہ ایک بڑی سٹرٹیجک کامیابی ہے کہ وہ اب تک کسی وار کے پھندے میں گرفتار نہیں ہوا۔ لیکن میرے ذہن میں جو سوال رہ رہ کر اٹھتا ہے وہ یہ ہے کہ تمام جدید اور ترقی یافتہ ممالک ایک عرصے سے جو سٹیٹ آف دی آرٹ ہتھیار بناتے رہے ہیں

اس کی گلوبل کھپت دن بدن کم ہوتی جا رہی ہے۔ پاک فوج کے سابق افسر اور نامور کالم نگار لیفٹیننٹ کرنل (ر) غلام جیلانی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔امریکہ، فرانس، برطانیہ، اٹلی، سویڈن، جنوبی افریقہ اور چین کو بڑی شدت سے ایسے ’گاہکوں‘ کی تلاش ہے جو ان کے دفاعی کارخانوں کی مصنوعات کو خرید کر ان کی ورک فورس کو بے روزگار ہونے سے بچائیں …… کبھی آپ نے سنایا کہیں پڑھا ہے کہ امریکہ نے فرانس کو، فرانس نے برطانیہ کو، برطانیہ نے روس کو اور روس نے امریکہ کو کوئی ایسے ہتھیار فروخت کیے ہوں جن کی تعداد اور حجم قابلِ ذکر ہو؟پاکستان کی LOC اور چین کی LAC پر آئے دن انڈیا کی طرف سے ترک تازیاں اور جارحیتیں ہوتی رہتی ہیں، ہم آئے روز انڈین ہائی کمشنر کو اپنے ہاں وزارت خارجہ میں طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کراتے رہتے ہیں اور آئے روز ہماری سرحدوں (مشرقی اور مغربی دونوں) پر ہمارے آفیسرز اور جوان وطن پر جان نچھاور کرتے رہتے ہیں۔ اس کا مطلب کیا ہے؟…… وہ گِدھ جن کو دنیا سپرپاورز کا نام دیتی ہے وہ تاک لگائے بیٹھے ہیں۔ ان کے ہتھیاروں کے گودام ’نکونک‘ بھر چکے ہین، انہیں خالی کرنے کے لئے صرف عرب ریاستیں ہی ٹارگٹ نہیں جو ایک دوسرے سے برسرِ پرخاش تو ہیں، برسرِ پیکار نہیں۔ اور جب تک پیکار نہ ہو ہتھیاروں کی کھپت کا سکیل بہت ’آہستہ خرام‘ رہتا ہے۔ ان گِدھ ممالک کی نظریں پاکستان، انڈیا اور چین پر ہیں۔ اگر ہماری Loc یا مغربی سرحد اور انڈو چائنا LAC پر کوئی بڑی پیشرفت ہوتی ہے تو یہ گِدھ فوراً آسمان سے اتر کر ہمارے بے جان جسموں پر آ بیٹھیں گے…… ان سے پوچھیں، یورپ کے کسی شہر یا خطے میں گزشتہ 75برسوں (1945ء تا حال) سے لڑائیوں کاوہ سلسلہ کیوں رکا ہوا ہے جو 17ویں صدی سے لے کر وسط 20ویں صدی تک جاری و ساری رہا تھا۔پاکستان کو ہر قیمت پر لڑائی سے گریز کرنا چاہیے۔ غنیم کے خلاف ہر طرح کی تیاریاں کرنا ایک بات ہے، وہ ہمیں ضرور کرنی ہیں لیکن جہاں تک ہو سکے مغربی گِدھوں کو پاکستانی (یا ہندوستانی) جسموں پر منڈلانے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ اسی میں پاکستان کا خوشحال مستقبل پوشیدہ ہے!

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *