پاک فوج کے ریٹائرڈ افسر کی خصوصی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) بظاہر دیکھا جائے تو انڈیا اور چین کے حالیہ مسلسل سٹینڈ آف کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی۔ دونوں ملکوں کی عسکری قوت کا موازنہ کریں تو انڈیا، چین کے مقابلے میں ہر لحاظ سے کمزور ہی نہیں بلکہ حقیر عسکری قوت ہے۔ انڈیا کی سالانہ معیشی نشوونما، ملٹری بجٹ، ساز و سامان اور

بین الاقوامی تجارت کا حجم اس قابل نہیں کہ وہ چین کے ساتھ کسی زیادہ مدت تک لڑائی لڑ سکے۔ پاک فوج کے ریٹائرڈ افسر اور مشہور مضمون نگار لیفٹیننٹ کرنل (ر) غلام جیلانی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔دونوں ملکوں کے وارسٹیمنا میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ دونوں کا عسکری ماضی بھی اس حقیقت کا شاہد ہے کہ انڈیا، زیادہ دیر تک چین کے مقابل نہیں ٹھہر سکتا۔ 1962ء کی لڑائی کے علاوہ دو تین برس پہلے سکم کی سرحد پر جو کشیدگی پیدا ہوئی تھی، اس میں بھی چین کا پلڑا انڈیا سے کہیں زیادہ بھاری تھا۔یہ بھی مان لیتے ہیں کہ امریکہ نے انڈیا کے ساتھ کوئی (غیر تحریری) معاہدہ کیا ہوا ہے کہ اگر چین نے اس پراٹیک کیا تو امریکہ اس کی مدد کو آئے گا۔ چنانچہ میرے خیال میں تمام اشاریئے (Indicators) انڈیا کے خلاف ہیں۔ لیکن اس کے باوجود اپریل / مئی 2020ء سے انڈیا، لداخ میں اپنی عسکری قوت کا زبردست ڈھنڈورہ پیٹ رہا ہے……دوسری طرف چین بھی زیادہ کھل کر سامنے نہیں آ رہا۔ ایسے لگتا ہے کہ وہ بھی، لڑائی تو دور کی بات ہے، کوئی درمیانی یا معمولی درجے کی جھڑپ (Skirmish) بھی مول لینے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ 15جون کو چین نے انڈیا کے جو 20فوجی ایک جھڑپ میں مار دیئے تھے اس کے بعد انڈیا کی مسلسل بڑھکوں کے باوجود چین بالکل پُرسکون اور خاموش ہے…… ایسا کیوں ہے؟…… اس سوال کا کوئی واضح جواب تو مجھے نہیں مل سکا۔ البتہ چند اندازے اور امکانی تجزیئے ہیں جو میں، قارئین کے سامنے رکھنا چاہوں گا۔

پہلی بات یہ ہے کہ تقریباً دس برس سے چین نے (ماسوائے 15جون کے خونریز لیکن عاجل اور مختصر معرکے کے بعد سے) بھارت کے خلاف کوئی ایسا اقدام نہیں اٹھایا جو قابل ذکر ہو…… بہت سے قارئین کو معلوم ہے کہ انڈیا اور چین کے درمیان تین مقامات ایسے ہیں جن کی ملکیت متنازعہ ہے۔ انڈیا اور چین تقریباً ایک ہی وقت میں آزاد ہوئے لیکن روز اول ہی سے یہ دو طرفہ سرحدی تنازعے چل رہے ہیں۔ پہلا تنازعہ مشرقی سیکٹر میں ہے جس میں 90,000 مربع کلومیٹر کا علاقہ متنازعہ ہے۔ اور وہ انڈیا کے کنٹرول میں ہے۔ اس کا نام اروناچل پردیش ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ چین 1948ء میں اپنے قیام کے فوراً بعد اس حصے پر لشکرکشی کر دیتا۔ لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ تبت کا پورا علاقہ برطانیہ نے 1947ء میں یہاں سے نکلتے ہوئے انڈیا کو ’سونپ‘ دیا تھا اور کہا تھا کہ تاریخی اعتبار سے تو یہ علاقہ چین کا ہے لیکن تقریباً 100سال سے یہ ایک خود مختار علاقہ بنا ہوا ہے اور اس پر دلائی لامہ کا قبضہ ہے…… ہم دلائی لامہ کی بحث میں نہیں پڑتے…… صرف یہ بتانا چاہتے ہیں کہ چین نے پہلے تبت کو اپنے کنٹرول میں لانے کا بندوبست کیا اور اس کے بعد اروناچل پردیش والے علاقے کی طرف متوجہ ہوا جس پر انگریز نے اپنے دورِ حکومت میں قبضہ کر لیا تھا اور اسی لئے یہ علاقہ 1947ء سے لے کر آج تک متنازعہ چلا آ رہا ہے…… مغربی سیکٹر میں دیکھیں تو اقصائے چین کا علاقہ ہے۔ اس پر بھی انڈیا نے 1947ء میں قبضہ کر لیا تھا۔

اس کا رقبہ 33000مربع کلومیٹر ہے۔ چین نے 1962ء کی لڑائی میں اس کو انڈیا سے واپس لے لیا اور لڑائی بند کرنے کا جو معاہدہ ہوا اس کی رو سے اقصائے چین پر چین کا تسلط تسلیم کر لیا گیا۔ ان دو علاقوں (مشرقی اور مغربی) کے درمیان ایک تیسرا علاقہ بھی متنازعہ ہے جس کو ہم وسطی سیکٹر یا علاقہ کہہ سکتے ہیں اور یہ نیپال کے مغربی حصے کا علاقہ ہے۔ اس کا رقبہ 2000مربع کلومیٹر ہے۔ انڈیا اور نیپال کے درمیان یہ سیکٹر آج بھی متنازعہ ہے۔1962ء میں انڈوچائنا وار کے بعد ایک عارضیلڑائی بندی لائن کھینچ دی گئی تھی جس کو لائن آف ایکچوئل کنٹرول (LAC) کہا جاتا ہے۔ اس LAC پر 13،14 مقامات ایسے ہیں جن کی ملکیت کے بارے میں طرفین (انڈیا، چین، نیپال) ایک صفحے پر نہیں۔ یہی وجہ ہے کہلڑائی بندی لائن کو LOC نہیں بلکہ LAC کہا جاتا ہے۔ ایسٹرن اور مڈل سیکٹروں (اروناچل پردیش اور نیپال کا مغربی علاقہ) کو چھوڑ کر چین نے سارا فوکس مغربی سیکٹر (اقصائے چین اور لداخ) پر لگایا ہوا ہے۔مئی جون 1999ء میں انڈو پاک کارگل وار کے بعد چین نے لداخ کے تمام علاقے کو متنازعہ ڈکلیئر کر دیا تھا لیکن حال ہی میں تو اس کو بڑے تواتر سے متنازعہ ہونے کا ببانگ دہل اعلان کر دیا ہے۔ جب سے گزشتہ برس اگست میں انڈیا نے جموں کشمیر اور لداخ کی خصوصی حیثیت ختم کرکے ان علاقوں کو انڈین یونین کا باقاعدہ حصہ بنا دیا تو تب چین کے کان کھڑے ہوئے۔ انڈیا نے ان علاقوں کی خصوصی حیثیت تو 2019ء میں ختم کی لیکن چین، اس سے

بھی پانچ سال پہلے CPEC کا ڈول ڈال چکا تھا۔ قراقرم ہائی وے (KKH) اور CPEC کے ریل اینڈ روڈ نیٹ ورک کو جو خطرہ انڈین مقبوضہ لداخ سے تھا اس کا ذکر آگے آ رہا ہے!دوسری بات جو میں قارئین کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں وہ چین کے سٹرٹیجک پہلوؤں کو محیط ہے۔ میں نے پہلے بھی کئی بار اپنے کالموں میں یہ وضاحت کی ہے کہ انڈیا، چین کا بڑا دشمن نہیں۔ چین کا اصل اور بڑا حریف امریکہ ہے۔ امریکہ، جاپان میں ہے، جنوبی کوریا میں ہے۔ تائیوان میں ہے (اگرچہ کھل کر سامنے نہیں آتا لیکن بالواسطہ اس کی ہمہ جا نہیں سپورٹ تائیوان کو حاصل ہے) آپ کو یاد ہوگا 1960ء میں کیوبا میں سوویت یونین کے جوہری میزائلوں کے سوال پر دنیا کی یہ دو سپرپاورز (امریکہ اور سوویٹ یونین) ایٹمی لڑائی کے دہانے پر پہنچ کر واپس آئی تھیں۔ امریکہ نہیں چاہتا تھا کہ کیوبا کی شکل میں اس کا کوئی قریبی ہمسایہ، سوویت یونین کا صحافتی یا حمائتی یافتہ ہو کر اس کی بغل میں بیٹھا رہے۔ اسی طرح چین بھی، تائیوان کو اپنا حصہ سمجھتا ہے لیکن اس جزیرے پر جو حکومت قائم ہے، وہ چین سے برسرِ پرخاش ہے اور امریکہ کے ساتھ گھی کچھڑی ہے۔ تاہم چین جب بھی چاہے، تائیوان پر قبضہ کر سکتا ہے۔ لیکن وہ اس انتظار میں ہے کہ یہ جزیرہ خود چین کے سایہ ء عاطفت میں آ جائے…… علاوہ ازیں ساؤتھ چائنا سمندر کا جھگڑا بھی امریکہ اور چین کے مابین باعثِ نزاع ہے۔ بحرالکاہل کے مغربی ساحل پر امریکہ کے سٹیک چند در چند ہیں۔ چین اس سمندر (Sea) پر اپنا حق تصور کرتا ہے اور تاریخی حوالوں سے ثابت ہے کہ یہ ساؤتھ چائنا سی (South China Sea)صدیوں سے چین کی عملداری کا سمندر ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.