پاک فوج کے ریٹائرڈ افسر کے انکشافات

لاہور (ویب ڈیسک) نامور مضمون نگار لیفٹیننٹ کرنل (ر) غلام جیلانی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔جہاں تک ایم آئی کا تعلق ہے تو اس کے افسروں سے روابط کا سلسلہ تو میرے تفویض کردہ امورِ کار کا ایک حصہ تھا۔ چنانچہ کہا جا سکتا ہے کہ میں اگر واقفِ درونِ خانہ نہیں تو بیرونِ در کے

اسرار اور آب و ہوا سے بے خبر بھی نہ تھا۔ISI اور MI کی ایجنسیاں کسی راہ چلتے کو پکڑ کر خواہ مخواہ گاڑی میں نہیں ڈالتیں۔ ایسے مشکوک لوگوں سے انٹرایکشن کے اور بھی راستے ہیں جن کو ان سطور میں ڈسکس نہیں کیا جا سکتا۔ اگر گم اور لاپتہ لوگوں کی باتوں پر یقین کر لیا جائے تو ان کی ’داستانِ گمشدگی‘ کی تفاصیل میڈیا پر اول تو آتی نہیں۔ اور اگر آ بھی جائیں تو یہ یکطرفہ الزام ہوتا ہے کہ: ”مجھے فلاں جگہ سے پکڑا گیا، آنکھوں پر کالی پٹی باندھ دی گئی، ایک نامعلوم سیف ہاؤس میں منتقل کر دیا گیا، صبح و شام و شب پوچھ گچھ کا سلسلہ جاری رہا اور آخر ایک دن ’بے گناہی‘ ثابت ہونے پر فلاں چوک میں پھینک کر یار لوگوں نے واپسی کی راہ لی“…… اللہ اللہ خیر سلّا!بندہ پوچھے اگر انٹیلی جنس والوں نے اتنا ’کچا‘ کام ہی کرنا تھا تو پکڑنے کی کیا ضرورت تھی اور پھر زندہ چھوڑنے کی کیا تُک تھی؟…… کیا ہم آئے روز یہ نہیں دیکھ رہے کہ لڑکی گم کی جاتی ہے، اس سے ظلم کیا جاتا ہے اور پھر زندگی سے محروم کر دیا جاتا ہے …… ایسا کیوں کیا جاتا ہے؟…… خوف یہ ہوتا ہے کہ پکڑے گئے تو ۔۔گمشدہ اور لاپتہ لوگوں کا کیس عدل و انصاف کے بالا ایوانوں تک بھی سنا جاتا ہے۔بہ فیضِ میڈیا یہ باور کر لیا جاتا ہے کہ ان افراد کو فوج اُچک کر لے جاتی ہے، پوچھ گچھ کرتی ہے اور پھر چھوڑ جاتی ہے!……

کاش ایسا الزام لگانے والوں کو فنِ جاسوسی کی ابجد سے بھی کوئی واقفیت ہوتی!…… قارئینِ محترم! جاسوسی (Espionage) ایک قدم فن ہے۔ میں جب پہلی بار ISI کی لائبریری میں گیا تھا تو لائبریری آفیسر ایک خاتون تھیں۔ میں نے ان سے پوچھا: ”تازہ ترین جاسوسی کتاب کون سی آئی ہے؟…… وہ مجھے ایشو کر دیں“۔ وہ یہ سن کر مسکرائیں۔ ایک شیلف کی طرف اشارہ کیا جس میں تقریباً 15،20کتابیں رکھی تھیں۔ میں نے ان پر ایک اچٹتی سی نگاہ ڈالی اور پوچھا: ”ان میں سے زیادہ باوثوق اور دلچسپ کتاب کون سی ہے؟“ انہوں نے بتایا کہ یہ گزشتہ ہفتے ڈپلومیٹک بیگ سے لائی گئی کتابیں ہیں۔ میں نے صرف ان کا سرورق اور پس ورق ہی پڑھا ہے۔ آپ چونکہ اس لائبریری میں نووارد ہیں اس لئے آہستہ آہستہ ”چند ماہ“ بعد آپ کو سمجھ آ جائے گی کہ کون سی کتاب زیادہ ’باوثوق‘ ہے اور کون سی زیادہ ’دلچسپ‘……اس اخباری کالم کی Space بالکل مختصر ہے اور اجازت نہیں دے رہی کہ قارئین کو بتاؤں کہ گمشدہ اور لاپتہ ہونے والے افراد کی اصل حقیقت کیا ہے۔ میڈیا کو معلوم ہی نہیں کہ یہ کام نہ تو ISI کرتی ہے اور نہ MI…… لیکن یہ کام کون لوگ کرتے ہیں؟ کیا IB اس میں ملوث ہوتی ہے، کیا FIA یا کیا کوئی اور ’معمولی قسم‘ کی جاسوسی تنظیم جس کا واسطہ قطعاً ISI یا MI سے نہیں ہوتا۔ یہ ’کارستانیاں‘ کون کرتی یا کرتا ہے اس کی خبر پانے کے لئے آپ کو اس فن پر درجنوں کتابیں پڑھنی پڑیں گی!

Comments are closed.