پاک فوج کے ریٹائرڈ کرنل کا وزیراعظم عمران خان کے لیے اہم مشورہ

لاہور (ویب ڈیسک) عمران خان نے وارننگ دی ہے کہ چین اور امریکہ آپس میں اب اتنا آگے بڑھ چکے ہیں کہ اسی طرح کی کشیدگی جنم لے رہی ہے جو 1947ء میں امریکہ اور روس میں تھی۔ اور ساتھ ہی عمران خان نے یہ بھی کہہ دیا کہ پاکستان کسی ”بلاک سسٹم“ میں شریک نہیں ہوگا۔

نامور کالم نگار لیفٹیننٹ کرنل (ر) غلام جیلانی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ کولڈ وار کے دوران دو بلاک بن گئے تھے ایک مشرقی بلاک کہلاتا تھا جس میں کمیونسٹ روس اور چین شامل تھے اور دوسرا مغربی بلاک کہ جس میں سارا مغربی یورپ شامل تھا۔ اس بلاک سسٹم کے فوائد بھی تھے (اور ہیں) اور نقصانات بھی…… لیکن جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو اس نے مغربی بلاک کی طرفداری کرکے خود کو پہلے دو نیم کیا اور پھر بچے کھچے پاکستان کی سلامتی کو بھی داؤ پر لگا دیا۔لیکن پاکستان اس حقیقت کا اعتراف کرے یا نہ کرے اسے بالآخر کسی نہ کسی بلاک میں تو شامل ہونا پڑے گا۔ کولڈ وار کی دوسری قسط کا آغاز ہوا تو پاکستان کے لئے غیر جانبدار رہنا مشکل ہو جائے گا۔ دنیا کو معلوم ہے کہ 20ویں صدی میں یورپ کا واحد ملک جو غیر جانبدار رہا وہ سوئٹزرلینڈ تھا۔ آج سوئٹزر لینڈ کی حیثیت ایک اور طرح سے مسلم ہے لیکن تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو معلوم ہو گا کہ سوئٹزرلینڈ نے بھی ”نہ نہ“ کرتے ہوئے مغربی بلاک کی طرف داری میں ایک خاموش اور بے آواز کردار ادا کیا تھا!پاکستان آج ایک دو راہے پہ کھڑا ہے۔ اس کے مسائل بے حد و حساب ہیں جن کو ہم صبح و شام میڈیا پر دیکھتے اور سنتے رہتے ہیں۔ لیکن میرے نقطہ نظر سے پاکستان کے بے شمار مسائل کی والدۂ ماجدہ اس کی ناقابلِ کنٹرول آبادی ہے۔ اس کی طرف کوئی دھیان نہیں دے رہا۔ گزشتہ سات عشروں میں حکومتیں آتی جاتی رہیں،

وقفے وقفے سے سب نے ”بآواز بلند“ اس عفریت کے پاؤں میں بیڑیاں ڈالنے کی کوششیں کیں لیکن یہ ایک ایسا آسیب ہے جو ہمارے قابو میں ہونے کے باوجود بے قابو ہے۔ اس کو نہ تو کسی کولڈ وار کی پرواہ ہے اور نہ کسی بلاک پالیٹکس میں شمولیت کا خوف ہے۔ کارکنانِ قضا و قدر بھی بے بس ہیں کہ پاکستان کی مین سٹریم آبادی کی دعاؤں کا خیال کریں یا بہبود آبادی کے محکمے کی ان دواؤں کا کہ جن کو کوئی پوچھتا نہیں۔ کاش کوئی مولوی صاحب کسی خطبہء جمعہ میں اِس سلگتی چنگاری کا احساس بھی نمازیوں کو دلائیں کہ جو ایک طویل عرصے سے سلگ سلگ کر پاکستان کے لکڑیوں کے پورے ’ٹال‘ کو ختم کر رہی ہے۔ اب یہ ’ٹال‘ اس قدر نڈھال اور بے حال ہو چکا ہے کہ خدا ہی اس وبال کو ٹالے تو ٹالے، ہم پاکستانی اس جنجال کو گلے میں ڈال کر دھمال ڈال رہے ہیں …… تفنن برطرف! خدارا عمران خان اس طرف بھی توجہ دیں اور ریاست مدینہ ہی کا کوئی ایسا حوالہ قوم کو دیں کہ جس سے پاکستان کی آبادی کنٹرول میں آ سکے۔صحت کارڈ اور احساس کارڈ اور نجانے کیا کیا کارڈ آئے روز دکھائے اور سنوائے جاتے ہیں کاش کسی روز ”آبادی کارڈ“ بھی کہیں نظر آئے! …… میری درخواست ہے کہ انسٹی ٹیوٹ آف سٹرٹیجک سٹڈیز میں ایک سمینار ایسا بھی منعقد کروائیں جس میں دنیا بھر کے ماہرینِ انسدادِ کثرتِ آبادی کو بلوائیں اور اپنے ”غریب مزدوروں، کسانوں اور دستکاروں“ کو اُن سے ملوائیں۔ اور ان کو سمجھائیں کہ آبادی اور اقتصادیات میں ایک صحت مند تناسب کس طرح پیدا کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کو اپنی بڑھتی ہوئی آبادی کو کنٹرول کرنے کا جو چیلنج آج درپیش ہے اس کا مداوا اگر آج ہی نہ کیا گیا تو آنے والا کل ہماری پاکستانی قوم کے لئے آفتِ جاں بن جائے گا۔

Comments are closed.