پاک فوج کے ریٹائرڈ کرنل کی خصوصی تحریر ، مہنگائی کم کرنے کا سادہ سا فارمولا بھی بتا دیا

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار و پاک فوج کے ریٹائرڈ افسر لیفٹیننٹ کرنل (ر) غلام جیلانی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔کوئی بھی میڈیا چینل آن کرو سب سے بڑی اور بُری خبر یہی چل رہی ہو گی کہ مہنگائی نے غریب عوام کا بھرکس نکال دیا ہے۔……اپوزیشن کے لیڈر، خواتین ہوں یا مرد،ل

مبے لمبے بھاشن ڈلیور کرتے نظر آئیں گے کہ موجودہ حکومت نے غریب غربا کا جینا دوبھر کر دیا ہے اور ان کے بال بچوں کے منہ سے خشک روٹی کا نوالہ تک چھین لیا ہے وغیرہ وغیرہ…… اگر غربت اور مفلسی کا کوئی مرثیہ لکھا جا سکتا ہے تو اس کے لئے پاکستان کا موجودہ ماحول نہایت ہی سازگار ہے۔ابھی کوئی اپوزیشن رہنما تقریر فرما ہی رہا ہوتا/ہوتی ہے کہ بریکنگ نیوز چلنے لگتی ہے کہ حکومت کی طرف سے پٹرول مہنگا کر دیا گیا ہے۔اِدھر یہ بریکنگ نیوز ختم ہوتی ہے تو اگلے لمحے پھر وہی لیڈر اور لیڈرانی عوام کی حالت ِ زار پر ٹسوے بہا رہی ہوتی ہے۔یہ مناظر دیکھ کر مجھے دو طرح کے سوال ذہن میں آتے ہیں۔ ایک یہ کہ کیا حکومت واقعی اتنی بے بس ہے کہ قیمتوں کو کنٹرول نہیں کر سکتی اور دوسرے یہ کہ اگر بے بس ہے تو غریب عوام سڑکوں پر کیوں نہیں آتے؟حکومت کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ تیل کی عالمی منڈی میں چونکہ قیمتیں بڑھ گئی ہیں اس لئے پاکستان میں بھی اس کے اثرات نظر آتے ہیں،لیکن دنیا کے ممالک میں تو اتنا مالیاتی دم خم ہے کہ وہ اس طرح کے جھٹکے برداشت کر سکتے ہیں لیکن پاکستان ایسا نہیں کر سکتا۔کیوں نہیں کر سکتا اس کا جواب ہر برسر اقتدار حکومت کے پاس یہی ہوتا ہے کہ وہ جب آئے تھے تو خزانہ خالی تھی، وہ کیا کریں؟ لیکن دو چار سوال تو ہر غریب آدمی، اپنے حکمرانوں سے کر سکتا ہے

مثلاً:(1) قوتِ خرید کس کی کم ہوئی ہے؟ غریب کی یا امیر کی؟……ظاہر ہے اس کا جواب یہی ہو گا کہ غریب کی ہوئی ہے…… لیکن امیر کی قوتِ خرید کم نہیں ہوئی بلکہ بڑھی ہے۔سڑکوں پر چمکتی دمکتی نئی نکور کاریں، بڑے بڑے شہروں میں بڑی بڑی مارکیٹوں میں سامانِ آرائش و زیبائش کی بھرمار،ہر دوسرے تیسرے روز لذیذ کھانوں کے ریستورانوں کا افتتاح، صبح و شام اپوزیشن کے دھواں دھار جلسے، تمام ٹی وی چینلوں پر کمرشلز کے میلے، زرق برق لباس پہنے شادی ہالوں میں عورتوں اور مردوں کا ہجوم…… یہ سارا کچھ کیا غربت کی نشانیاں ہیں؟بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں تو آئے روز اضافہ ہو رہا ہے،لیکن کیا کاروں اور موٹر سائیکلوں کی فروخت میں بھی کوئی قابل ِ ذکر کمی ہوئی ہے؟ سرکار جو اعداد و شمار جاری کرتی ہے ان کے تناظر میں دیکھا جائے تو گاڑیوں کی تعداد بڑھی ہے اور بہت بڑھی ہے۔اور اگر ایسا ہے تو مہنگائی کہاں ہے؟ کوئی دکاندار اگر مہنگی اشیاء فروخت کر رہا ہے تو خریدار لینے پر مجبور نہیں،بلکہ یہ سودا دست بدست ہے۔وہ مہنگا مال خریدتا ہے تو جو کچھ بیچتا ہے وہ بھی مہنگے داموں بیچتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے۔لیکن اس طبقے کے لئے بھی بدعنوانی کے دروازے کون کھول رہا ہے؟حکومت تو ستّو پی کر سوئی ہوئی ہے اور گزشتہ تین سردیوں میں بھی دھنیا اور ستّو نوشی سے باز نہیں آئی!…… بجلی چوری کا دھندا بند نہیں ہو رہا۔بجلی کی لائنوں کے نقصانات (Line Losses) کم نہیں ہو رہے۔ یہ تو اس وقت کم ہوں گے

جب حکومت مہنگائی کے سیلاب کے آگے کوئی بند باندھے گی۔دن رات شادیاں ہو رہی ہیں۔غریب ہو یا امیر شادی اخراجات میں کمی کرنے پر راضی نہیں۔ ہر غریب خاندان کے ہاں 8،10بچوں کا جمگھٹا موجود ہے۔سفید پوش لوگوں کی مثالیں دی جاتی ہیں کہ وہ لوگ مارے جا رہے ہیں اور ان کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔لیکن میرے خیال میں اب پاکستان میں سفید پوشوں کا قحط پڑ چکا ہے۔ان کی جگہ سیاہ پوشوں نے لے لی ہے یا سرخ پوش آ گئے ہیں …… سیاہ پوش اور سرخ پوش کے مفاہیم آپ خود نکال لیں، مجھے بتانے کی ضرورت نہیں۔میں تو یہ سوچتا ہوں کہ اپوزیشن کے وہ سیاست دان جو آج مہنگائی کا رونا رو رہے ہیں وہسچ مچ نہیں رو رہے۔ وہ صرف لوگوں کو دکھانے کے لئے رو رہے ہیں۔ مطلب ہے کہ موجودہ حکومت کو چلتا کرو، اس کی جگہ ہم آ کر سب ٹھیک کر دیں گے۔ لیکن کیا کسی اپوزیشن لیڈر نے یہ پروگرام بھی دیا ہے یا یہ تفصیل بھی بتائی ہے کہ وہ یہ مہنگائی کیسے کنٹرول کرے گا۔وہ مسلم لیگ (ن) ہو یا پیپلزپارٹی میرے حساب سے ان کی باتیں اس لئے قابل ِ اعتماد نہیں کہ خود ان کی جیبیں بھری پڑی ہیں۔ذرا حساب لگایئے ایک عوامی جلسے میں کتنا خرچہ اٹھتا ہے اور یہ خرچہ کون اٹھاتا ہے؟کیا اپوزیشن لیڈر ایسا خرچہ کرتے ہیں؟ اگر نہیں تو جو لوگ اُن کی پشت پناہی کرتے ہیں اور انہیں سٹیج پر سجا کر پاکستان کے غریب عوام کے سامنے لاتے ہیں، ان کے پاس اتنا پیسہ کہاں سے آتا ہے؟

ان کے لیجر اور ان کے کھاتے چیک کریں۔کتنا نقصان نکلتا ہے اور کتنا نفع بنتا ہے۔میں سمجھتا ہوں جب تک یہ جمہوری نظام قائم ہے، ایسا ہوتا رہے گا۔لوگ آج سرمایہ کاری کریں گے جیت گئے تو ”پو بارہ“ اور ہار گئے تو ”تین کانے“۔ یہ تین کانے زیادہ سے زیادہ پانچ سال بعد ”پو بارہ“ ہو جائیں گے۔یہ بات وہی ہے جس کے بارے میں شاعر مشرق نے کہا تھا:جہاں میں اہل ِ ایماں صورتِ خورشید جیتے ہیں ۔۔۔اِدھر ڈوبے، اُدھر نکلے، اُدھر ڈوبے، اِدھر نکلے۔۔۔جمہوریت(یا کسی بھی طرزِ حکمرانی) کے یہ اہل ِ ایماں، آج اگر ایک طرف ڈوبتے ہیں تو کل دوسری طرف طلوع ہو جاتے ہیں۔مہنگائی کا رونا، بیچ میں ہی رہ گیا اور میں کس طرف نکل آیا ہوں؟اس مہنگائی کی گنگا میں جو تاجر ہاتھ دھو رہے ہیں ان کو کب اور کون پکڑے گا؟ کیا آج کی حکومت میں یہ دم خم(Will) ہے کہ ان میں کسی دو چار کو پکڑ کر ٹانگ دے تاکہ دوسروں کو عبرت ہو؟……آج تک کتنے لوگ ٹانگے گئے ہیں؟مہنگائی کے ذمہ داروں کو قابو کرنا کوئی مشکل بات نہیں، پولیس اور تھانے کس کے کنٹرول میں ہیں؟ آج اگر کوئی بڑی مچھلی پکڑی بھی جاتی ہے تو کل اس کی ضمانت لینے والا کون ہوتا ہے؟ کیا اس مرض کا کوئی علاج عمران خان نے اپنے گزشتہ تین سالہ دور میں کیا ہے؟ پولیس اور تھانے کیا کر رہے ہیں؟ عدالت تک جاتے جاتے ہر ملزم کے ہوش ٹھکانے لانے کے لئے کیا ہفتے کی شام کوئی ایکشن نہیں کیا جا سکتا؟اتوار کا سارا دن ”خالی“ ہوتا ہے۔اتوار کی ان نیک ساعتوں

، میں ان ملزموں کو مزہ چکھایا جا سکتا ہے۔لیکن اس کے لیے دم خم (Will)کی ضرورت ہے۔ پی ٹی آئی جو مینڈیٹ لے کر آئی تھی وہ بری طرح پٹ چکا ہے اور اس ناکامی کا سہرا کسی دوسرے کے سر نہیں باندھا جا سکتا، صرف عمران خان ذمہ دار ہے۔ اگست 2023ء زیادہ دور نہیں،لیکن مہنگائی کے مارے جو غریب غربا یہ امید لے کر کسی اور پارٹی کو آگے لائیں گے وہ پی ٹی آئی سے بھی بدتر رول ادا کرے گی۔مہنگائی کا یہ طوفان جو آج برپا ہے،یہ اپوزیشن کے لیے ایک سنہری دور تھا (اور اب بھی ہے) سوال یہ ہے کہ کیا کسی بھی اپوزیشن رہنما نے یہ نسخہ عوام کے سامنے رکھا ہے کہ وہ مہنگائی کے جن کو واپس بوتل میں کیسے ڈالے گا؟اس کا منشور اس سلسلے میں کیا ہے؟اور اس نے اس پر کوئی پمفلٹ چھاپ کر غریب غربا میں تقسیم کیوں نہیں کیا تاکہ لوگوں کو معلوم ہو کہ ان کا متبادل لیڈر جو2023ء میں آئے گا وہ مہنگائی کو کیسے کنٹرول کرے گا؟……کیا بیش قیمت گاڑیاں ایک سال تک کے لئےBan نہیں کی جا سکتیں؟ …… گزشتہ تین سالوں میں کئی کاریں بنانے والے کارخانے ساون کی کھمبیوں کی طرح کیوں اُگ آئے ہیں؟…… کیا خواتین کے لئے کاسمیٹک (اشیائے زیبائش) پر ایک سال کی پابندی نہیں لگائی جا سکتی؟…… کیا ہم نئے فوڈ ریستورانوں کے افتتاح ایک سال کے لئے بند نہیں کر سکتے؟…… کیا ہفتے میں دو دن کی بجائے چار دن تک گوشت کا ناغہ نہیں کیا جا سکتا؟……کیا فروٹ کی درآمد (افغانستان وغیرہ سے) ایک سال کے لئے بند نہیں کی جا سکتی؟…… کیا نئی کاروں کی ساخت اور فروخت پر ایک سال کی پابندی نہیں لگائی جا سکتی؟…… صرف ایک سال……لیکن کیا حکومت میں یہ دم خم (Will) ہے؟…… اس کا جواب کون دے گا؟