پاک فوج کے سابق افسر کی معلومات سے بھر پور تحریر

 لاہور (ویب ڈیسک) میرے بیٹے کے سسرال میں چار ڈاکٹر ایسے ہیں جو شکاگو، ملواکی اور وسکانسن (امریکہ) میں اعلیٰ سطحی ہسپتالوں میں کورونا کے مریضوں کی دیکھ بھال اور علاج کرتے رہے ہیں۔ میرے نواسے کا سسرال بوسٹن(امریکہ) میں ہے اور وہ بھی اسی پیشہ ء طب سے وابستہ ہے۔ اسی طرح

پاک فوج کے سابق افسر لیفٹیننٹ کرنل (ر) غلام جیلانی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔برمنگھم اور پیرس میں کئی قریبی عزیز میڈیکل شعبے میں (بطور سندیافتہ ڈاکٹرز) کام کر رہے ہیں۔ ان سے گاہے بگاہے فون پر اس موضوع پر طول طویل باتیں ہوتی رہتی ہیں …… یہ کہانی دراز ہے…… عرض یہ کرنی ہے کہ جو کچھ کالم میں لکھ رہا ہوں وہ کوئی اٹکل پچو اور سنی سنائی باتیں نہیں ہیں بلکہ ان کو امریکہ اور یورپ کے ان مستند ڈاکٹروں کی آراء کی سپورٹ حاصل ہے جن کے شفاخانوں میں روزانہ درجنوں مریض داخل ہوتے  اور درجنوں انتقال کر جاتے ہیں۔ ان ممالک میں انتقال کرنے والوں کی تعداد (اس کرونائی مرض کی وجہ سے) کیوں زیادہ ہے،یہ ایک الگ موضوع ہے جس کے بارے میں اپنے ایک گزشتہ کالم میں مختصراً ذکر کر چکا ہوں۔ اب آگے جو کچھ عرض کر رہا ہوں وہ نہ صرف مغربی دنیا کے اطبّا کے مشوروں کا نچوڑ ہے بلکہ پاکستان اور مشرقی دنیا کے پیشہ ور ڈاکٹر حضرات و خواتین کی Findings بھی یہی ہیں۔پہلا سوال یہ ہے کہ یہ کیسے معلوم کیا جائے کہ کورونائی نزلہ و زکام اور معمول کے موسمی نزلہ و زکام اور الرجی میں کیا فرق ہے؟…… اس کا جواب یہ ہے کہ اگر آپ سال میں بالعموم آتی جاتی سردیوں گرمیوں میں نزلہ و زکام کا شکار ہوتے رہے ہیں تو آج کے نزلہ و بخار سے زیادہ پریشان نہ ہوں۔ یہ کورونائی فلُو نہیں ہوگا۔ جو علاج آپ پہلے کرتے رہے ہیں،

وہی آج بھی کریں اور خواہ مخوا کورونائی خوف کا شکار نہ ہوں …… ہاں اگر تین سے پانچ دن گزرنے کے بعد بھی بخار نہ اترے بلکہ شدت اختیار کر جائے تو پھر ڈاکٹر سے رجوع کریں اور اس کو بتائیں کہ آپ فلاں فلاں دوائیاں کھا چکے ہیں۔ وہ ڈاکٹر جو کچھ تجویز کرے، اس پر عمل کریں۔ لیکن گھر آکر اپنے آپ کو قرنطینہ ضرور کرلیں۔ قرنطینہ کے دوران وہ تمام احتیاطی تدابیر بھی عمل میں لائیں جو ڈاکٹر بتائے اور جس کو ہمارا میڈیا بھی بالعموم بتاتا رہتا ہے۔دوسرا سوال یہ ہے کہ کون لوگ کورونا کا زیادہ شکار ہوتے ہیں؟…… اس کا جواب یہ ہے کہ اگر آپ شوگر کے مریض ہیں، اگر بلڈ پریشر (ہائی یا لو) کا شکار ہیں، اگر سینے کے عمومی امراض کا شکار ہیں اور چار پانچ دن تک معمول کی ادویات کھانے کے بعد بھی علامات میں کمی نہیں آئی تو سب سے پہلے کسی ماہرِ امراضِ سینہ سے چیک کروائیں کہ آیا آپ کو کورونا ہے یا معمول کی سینے اور سانس کی کوئی تکلیف ہے…… برسبیل تذکرہ پچھلے دنوں میری ایک عزیزہ کو یہی علامات ہوئیں تو میں نے گوگل پر تلاش کرکے انہیں بتایا کہ مسلم ٹاؤن (لاہور) میں زمان چیسٹ کلینک میں چلے جائیں۔ (اس کا فون نمبر0304-4287733ہے۔ اور لینڈ لائن کا نمبر042-35864817ہے) وہ عزیزہ وہاں گئی اور مجھے فون کرکے بتایا کہ وہ ان سے خاصی مطمئن ہیں۔ ان کی تشخیص یہ تھی کہ مجھے کورونا نہیں۔ دوائی انہوں نے تجویز کر دی (آج ہی ان سے میں نے فون کرکے پوچھا ہے تو بتایا گیا ہے کہ ان کو ایک ہفتے کی دوائی کھانے سے 80% افاقہ ہوا ہے)۔ میں نے ڈاکٹر صاحب سے بھی بات کی اور معلوم ہوا ہے کہ وہ آرمی کے ایک ریٹائرڈ ڈاکٹر ہیں۔ اور ان کا بیٹا بھی اس شعبے (Pulmonology) میں پروفیسر ڈاکٹر ہے۔ میں عزیزہ کی مکمل صحت یابی کے لئے دعاگو ہوں۔ تاہم مجھے ایک روحانی اور نفسیاتی سکون کا بھی احساس ہو رہا ہے کہ میری ذرا سی کاوش (Effort) سے اللہ کریم نے ایک مریض کو افاقہ عطا کیا!تیسرا سوال یہ ہے کہ کورونا سے بچنے کی احتیاطی تدابیر کیا ہیں؟…… یہ اتنا گھسا پٹا سوال ہے کہ پاکستان کے بچے بچے کو معلوم ہے کہ ماسک پہننا، سماجی فاصلہ رکھنا اور 20سیکنڈز تک بار بار ہاتھوں کو صابن سے مل مل کر دھونا اس مرض کی احتیاطی اور اساسی تدابیر ہیں …… قارئین محترم! آپ کو کورونا ہے یا نہیں۔یہ احتیاطی تدابیر ضرور اختیار کریں۔ یہ نہ سمجھیں کہ فلاں شہر یا فلاں گاؤں والوں نے تو ان پر عمل نہیں کیا لیکن ان میں کوئی ”کورونا شورونا“ نہیں ہے…… یہ ایک ایسی عارضی حماقت ہو سکتی ہے جس کا انجام دائمی موت ہے!!!

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *