پرانے لاہور کی کچھ باتیں :

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار واصف ناگی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔کرشن چندر نے لاہور کے بار ےمیں کہا تھا ’’لاہور کا ذکر تو کجا اس کافر ادا شہر کے بارے میں سوچتا بھی ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔‘‘لاہور واقعی ایک ایسا شہر تھا۔ جس کا ہرکوئی اسیر ہو گیا۔ دوسرے شہروں اور دیہات سے

آنے والے اپنے اپنے علاقوں کو بھول کر لاہور ہی کے ہو کر رہ گئے۔ اس لئے تو ناصر کاظمی نے کہا تھا؎شہر لاہور تیری رونقیں دائم آباد۔۔۔تیری گلیوں کی ہوا کھینچ کے لائی مجھ کو۔۔لاہور کے بارے میں بہت سے لوگوں نے لکھا اور لکھتے رہیں گے۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ تب یہ شہر وہ لاہور نہیں رہے گا بلکہ عجیب و غریب لوگوں کا ایک بے ہنگم اور بے حس شہر ہو گا۔مگر حقیقت یہ ہے کہ 1970ء تک یہ لاہور وہی لاہور رہا جو قیام پاکستان کے وقت تھا پھر اس شہر میں یک دم ایسی تبدیلی آنا شروع ہوئی ۔ وہ لوگ جنہوں نے اس شہر کو پچاس ستر برس پہلے دیکھا تھاوہ اس پرانے لاہور کو یاد کرتے اور دل ہی دل میں بہت کڑھتے ہیں۔ ہمیں اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے یہ اعزاز حاصل ہے کہ ہم نے شہر لاہور کے ان قدیم ریلوے اسٹیشنوں کا ذکر کیا۔ جن کی تاریخ کے بارے میں کسی نے کبھی قلم نہیں اٹھایا۔ حتیٰ کہ ریلوے والوں کے پاس بھی ان اسٹیشنوں کی ہسٹری نہ تھی۔ خیر لاہور کےکچھ مرکزی ریلوے اسٹیشن کا ذکر ہم اس کالم میں کریں گے اور کچھ تذکرہ بنک آف بنگال کی خوبصورت لال اینٹوں والی عمارت کا اوربھوانی جنکشن کا بھی کریں گے۔لاہور کی پرانی تہذیب، ثقافت اور روایات کو زندہ رکھنے کیلئےکسی نے کچھ نہیں کیا۔ اس شہر بے مثال کیلئے تو ایک بہت بڑا فورم بنانا چاہئے تھا جہاں لوگ اکٹھے ہوتے اور پرانی نسل کے لوگ نئی نسل کو بتاتے کہ لاہور کیا تھا اور کیا ہو گیا۔

جس طرح مولانا چراغ حسن حسرت نے کہا تھا کہ لاہور بجلی کا بٹن دبانے سے نہیں بن گیا۔ لاہور ایک تہذیب ایک وضع کا نام ہے۔ زمینوں کا کاروبارکرنےوالوں نے اس کا حلیہ بگاڑ دیا۔ لاہور کا بڑا ریلوے اسٹیشن جسے لاہوریئے وڈا سٹیشن پنجابی میں کہتے ہیں۔ پچھلے پچاس برس میں اس ریلوے اسٹیشن کی ہر اچھی بات ختم ہو گئی ہے وہ ریلوے اسٹیشن جہاں کبھی گاڑیوں، اسٹیم اور ڈیزل انجنوں کی ایک مخصوص خوشبو آتی تھی اب صرف آلودگی سے بھری بو آتی ہے۔البتہ بک اسٹال اب بھی موجود ہیں۔ ہر پلیٹ فارم پر بڑے خوبصورت ویٹنگ رومز ہوا کرتے، اب تو یہ ریلوے اسٹیشن کم اور کسی انتہائی پسماندہ اور گندے علاقے کا لاری اڈا لگتا ہے۔ کبھی یہاں باوردی بیرے ہواکرتے تھے جو پگڑی پہنے سفید یونیفارم میں بہت اچھے لگتے تھے۔ سوچیں 1950ء میں یہ ریلوے اسٹیشن کس قدر خوبصورت اور معیاری تھا کہ ہالی وڈ کی مشہور فلم ساز کمپنیPandros Berman نے اپنی فلم بھوانی جنکشن کی تمام فلم بندی کے لئے ریلوے اسٹیشن اور گڑھی شاہو کے تاریخی پل کا انتخاب کیا تھا۔ گڑھی شاہو کا پل2000ء میں گرا دیا گیا تھا، حالانکہ بڑا تاریخی اور مضبوط پل تھا۔ اس فلم میں اپنے دور کی سپر اسٹار ایوا گارڈنر اور ا سٹیورٹ گرمینجر نے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ اس فلم کے ہدایت کار جارج کیوکر تھے جو اپنے دور کے بہت بڑے ہدایت کار تھے ادھر فلم کے یونٹ کا لاہور آنے کا اعلان ہوا۔ ادھر لاہوریوں کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا

ہر کوئی ایوا گارڈنر کو دیکھنےکو تڑپ رہا تھا۔ایوا گارڈنر کا خوبصورت سویٹ آج بھی ایک ہوٹل میں موجود ہے۔ ہم اس خوبصورت سویٹ میں کئی مرتبہ گئے ہیں اور یہاں ایوا گارڈنز کے نام کا ایک باغ بھی ہے۔ لاہور اسٹیشن کا پلیٹ فارم نمبر 1اور 2فلم کی شوٹنگ کے لئے موزوں قرار پایا۔ البتہ پلیٹ فارم نمبر 1اور 2پر لاہور اسٹیشن کے نام کی جگہ بھوانی جنکشن لکھ دیا گیا۔ ایک ہزار لاہوریوں نے اس فلم میں بطور قلی، ٹھیلے والا، مسافر، چائے والا، فقیر، سادھو اور ہجوم کے طور پر کام کیا تھا چالیس کے قریب اس فلم کے اسسٹنٹ ڈائریکٹرز تھے جن میں بعض بعد میں نامور پاکستانی ہدایت کار بنے اداکارہ نیلو نے بھی اس فلم میں پہلی مرتبہ کام کیا تھا۔پلیٹ فارم نمبر 1اور 2پر جو سائونڈ سسٹم تھا۔ وہ فلم کی ضروریات کے مطابق نہیں تھا چنانچہ ہالی وڈ والوں نے اپنا سائونڈ سسٹم لگایا اور بعد میں انہوں نے پاکستان ویسٹرن ریلوے (اب پاکستان ریلوے) کو بطور تحفہ دے دیا۔ جو برس ہا برس تک کام کرتا رہا۔ اس فلم نے لاہور اسٹیشن کو مزید خوبصورت اور صاف ستھرا بنا دیا تھا مگر بعد میں ہمارے لوگوں نے پھر اس اسٹیشن کو تباہ کر دیا۔ لاہور کا ریلوے اسٹیشن کوئی معمولی ریلوے اسٹیشن نہیں یہ پاکستان کا سب سے بڑا ریلوے اسٹیشن ہے اور اس کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ تحریک پاکستان کے سب سے زیادہ رہنما ہندوئوں اور سکھوں کے اور گورے حکمران (گورنرز) لیفٹیننٹ گورنر اس ریلوے اسٹیشن پر آئے تھے۔ بلکہ قائداعظم، ایوب خاں، ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو، نواز شریف، فیروز خاں نون، محترمہ فاطمہ جناح، گاندھی، مولانا ابوالکلام آزاد، سر سید احمد خاں، بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان، ماسٹر تارا سنگھ، اور کئی بھارتی اداکار بھی اس ریلوے اسٹیشن پر آئے مگر ریلوے والوں کے پاس اس کی تاریخ کہاں؟ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ریلوے والے ہر اس پلیٹ فارم پر ان شخصیات کے نام اور تصاویر لگاتے جو اس ریلوے اسٹیشن کے مختلف پلیٹ فارموں پر آئے تھے۔ ارے وہ پہلا اسٹیم انجن ہی یہاں رکھ چھوڑتے جو پہلی مرتبہ 1860ء میں یہاں سے چلایا گیا تھا اور امرتسر گیا تھا۔

Comments are closed.