پروگرام جرگہ میں پی ٹی آئی کے رہنما کا بڑا اعتراف

کراچی (ویب ڈیسک) سلیم صافی کے نجی ٹی وی چینل پر پروگرام ”جرگہ میں میزبان سلیم صافی سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمدنے کہا کہ سینیٹ الیکشن میں ہوائیں نہیں بدلی تھیں ہم نے الیکشن ایزی لے لیا تھا۔ آصف زرداری نے بہت گہرا کام کیا۔ مریم نواز کہہ رہی تھیں کہ

میرے ٹکٹ چلے ہیں ۔سینیٹ الیکشن میں ٹکٹ نہیں پیسہ چلا ہے۔دس بارہ کی بات آرہی ہے مگر20 لوگوں کو پیسے دیئے گئے ہیں۔انہوں نے 20؍ بندوں سے لین دین کی تھی۔پیسوں کی ادائیگی میں بعض لوگ سستی بات کررہے ہیں ۔ بعض لوگ پانچ سے آٹھ کی بات کررہے ہیں۔تھوڑے دنوں میں بندوں کی معلومات بھی ہوجائے گی کہ کون کون ملوث ہیں۔اگر اس وقت20 بندے نکالے تو ہم گھر جائیں گے۔ملک میں بکنے والوں کی کمی نہیں ہے۔کئی بندے حفیظ شیخ کو ووٹ نہیں دینا چاہتے تھے انہوں نے خاتون کو ووٹ دیا ہے ۔ مگر حفیظ شیخ بطور وزیر خزانہ کام جاری رکھیں گے۔حفیظ شیخ سندھ سے الیکشن لڑنا چاہتا تھا لیکن وزیر اعظم نے کہا کہ اسلام آباد سے الیکشن لڑو۔اسد عمر کو نکالنے میں فوج کا کوئی ہاتھ نہیں تھا۔اگر ہوتا تو میں اسد عمر کا سات مہینے کیس نہیں لڑتا۔حالانکہ باجوہ صاحب نے اس کا ڈنر بھی کیا انہوں نے خود مجھے بتایا کہ میں نے اسد عمر اس کی فیملی کا ڈنر کیا۔پاکستان چلانے کے لئے آئی ایم ایف کے پاس جانا ضروری تھا۔ معیشت دانوں سے ایم این ایز اتنے خوش نہیں ہوتے ہیں۔میری کل دونوں بڑے حضرات سے ملاقات ہوئی ہے۔ میں نام لے کر باجوہ صاحب کی طرف سے یہ بتاتا ہوں ۔ انہوں نے ایک نہیں دو نہیں تین دفعہ کہا کہ شیخ رشیدہم منتخب حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔دنیا میں جو حالات ہیں وہ تقاضا اس بات کا کرتے ہیں کہ پاکستان کی عظیم فوج اپنی منتخب حکومت کے ساتھ کھڑی ہو۔یہ بات اڑائی جا رہی ہے

کہ شاید فوج عمران خان کے ساتھ نہیں ہے۔ 110فیصدمنتخب وزیراعظم عمران خان کے ساتھ فوج کھڑی ہوئی ہے۔سب اپوزیشن کے لوگ بیٹھے ہوئے تھے ۔باجوہ صاحب نے تین دفعہ کہا کہ کل آپ میں سے کوئی منتخب ہوکر آئے گا۔ عمران خان کی جگہ آپ وزیراعظم ہوں گے تو یہ فوج آپ کے ساتھ کھڑی ہوگی۔آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ فوج نے اور ایجنسیوں نے سینیٹ الیکشن میں کوئی رول ادا نہیں کیا۔میں یہ سوچ رکھتا ہوں کہ الیکشن کمیشن پر ہمیں زیادہ نزلہ نہیں گرانا چاہئے۔میں نے کوشش کی ہے کہ معاملہ ٹھنڈا ہو۔مریم اورنگزیب کے ساتھ جو ہوا نہیں ہونا چاہئے تھا۔مریم اورنگزیب کے ساتھ بڑا غلط ہوا اس کی مذمت کرتا ہوں۔مریم اورنگزیب کے ساتھ جو ہوا اگر درخواست ملی تو ضرور کارروائی کروں گا۔ 26 مارچ کواپوزیشن آئین و قانون کو ہاتھ میں نہ لے تو شوق سے آئیں۔سول نافرمانی کی گئی تو قانون حرکت میں آئے گا۔ ڈی چوک پر احتجاج کی اجازت دینے نہ دینے کا فیصلہ وزیراعظم کا ہوگا۔طاہر القادری سے میرے بہت اچھے مراسم ہیں لیکن کوئی رابطہ نہیں ہے۔عمران خان کی ایسی طبیعت نہیں ہے کہ ارکان کو محصور کریں۔16 لوگوں کے خلاف کارروائی کا صوابدید عمران خان کا ہے میں اس پر بات نہیں کرسکتا۔ چیئرمین سینیٹ کاالیکشن صادق سنجرانی جیت جائیں گے۔ پنجاب میں بلا مقابلہ سینیٹ الیکشن ہوا یہ بہت اچھا ہوا۔ووٹ صرف آصف زرداری نے خریدے کوئی ووٹ ٹکٹ نہیں بکا۔اپوزیشن کا اگلا اٹیک پنجاب حکومت پر ہوسکتا ہے۔حکومت اپنی مدت پوری کرلے گی۔ن لیگ اور فضل الرحمن کے مقابلے میں تحریک انصاف بھی کسی سیاسی گروپ سے الیکشن کے لئے اتحاد کرسکتی ہے۔میں نے تو ٹی ایل پی والوں سے خواہش کا اظہار کیا تھا کہ آپ عمران خان سے ملاقات کریں۔ فرانس کے سفیر کو ملک سے نکالنے کا معاملہ اسمبلی میں لے کر جائیں گے اس کی منظوری اسمبلی نے دینی ہے۔کابینہ میں50 میں سے 14 نے ووٹ دیا کہ نواز شریف کو علاج کے لئے ملک سے باہر جانے دیا جائے اس میں میں بھی شامل تھا۔اس کا ایسا زبردست نقشہ کھینچا گیا جیسا حفیظ شیخ کے الیکشن کا کھینچا گیا ہے۔انشاء اللہ آپ جلد سنیں گے کہ ہم نے ایف آئی اے میں زبردست کام کیا ہے۔ٹی ٹی پی ابھر رہی ہے ۔بلوچستان کے معاملات ایف سی اور رینجرز بہتر طور پر سارے مسائل کو دیکھ رہی ہیں۔نیکٹا کا بجٹ کم ہے نیکٹا کو فعال کرنے کی بہت سخت ضرورت ہے ۔ لیکن ادارے بجٹ سے فعال ہوتے ہیں ان کے پاس پیسے ہی نہیں ہیں۔ عمران خان کو اس وقت سب سے زیادہ مسئلہ میڈیا سے ہے ۔ وہ سمجھتا ہے کہ میڈیا قومی اتفاق رائے میں بڑا کردار ادا کرسکتا ہے۔ہمیں ڈائیلاگ کا راستہ کھولنا چاہئے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ سیاستدان بند گلی میں داخل نہیں ہوتا۔ اس کو اپنے دروازے کھلے رکھنا چاہئیں چاہے بات چیت ناکام ہوجائے۔نیب کے کیسز اور منی لانڈرنگ کے علاوہ ہر کیس پر بات چیت ہونا چاہئے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.