پرویز خٹک کی وہ ناکامی جسکے بعد عمران حکومت پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس ملتوی کرانے پر مجبور ہو ئی ۔۔۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) نامور صحافی نصرت جاوید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔حکومتی رعب کے ہوا میں تحلیل ہوجانے کے اس موسم میں یہ کامل خوش گمانی تھی کہ پارلیمان کا مشترکہ اجلاس ہو اور حکومتی اراکین اس میں شریک ہوکر 30کے قریب ایسے قوانین کو منظور کرنے کے لئے غلاموں کی طرح انگوٹھے لگاتے نظر آئیں

جو عوامی مسائل کا کوئی ٹھوس حل فراہم نہیں کرتے۔آئندہ انتخاب میں الیکٹرانک مشینوں کے ذریعے ووٹ ڈالنے جیسے چونچلے نظرآتے خواب دکھاتے ہیں۔گزشتہ کئی ہفتوں سے قومی اسمبلی کے اجلاس محض اس وجہ سے مؤخر ہوتے رہے کیونکہ حکومتی بنچوں پر کورم کو یقینی بنانے والے 86اراکین موجود نہیں ہوتے تھے۔گزرے منگل کے روز قومی اسمبلی میں مختلف سوالات پر دوبار ووٹنگ ہوئی۔ دونوں مرتبہ حکومت اپنی اکثریت ثابت نہ کر پائی۔اس کے باوجود حکومت مصر رہی کہ جمعرات کو پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلاکر 30کے قریب قوانین کو یکمشت منظور کروالیا جائے۔بدھ کے روز مجوزہ اجلاس کے لئے اپنے بنچوں پر اکثریت کو یقینی بنانے کے لئے بھاگ دوڑ شروع ہوئی تو حکومت کو پہلا دھچکا اس خبر کی وجہ سے لگا جو وزیر اعظم کی سپریم کورٹ طلبی کی وجہ سے بریکنگ نیوز بنی۔ذاتی طورپر میں دیانت داری سے سمجھتا ہوں کہ سپریم کورٹ کی جانب سے عمران خان صاحب کو ذاتی طورپر طلب کرنے کا حکم کسی درباری سازش کا ہرگز حصہ نہیں تھا۔ 2014میں وحشیانہ شر کی بدولت قرنان ہوئے بچوں کے والدین کی تسلی کے لئے سپریم کورٹ ایسا فیصلہ کرنے کو فطری طورپر مجبور ہوئی۔ہماری سیاسی تاریخ میں وزرائے اعظم کی سپریم کورٹ میں طلبی مگر دیگر کئی وجوہات کی بنا پر کبھی خیر کی خبر ثابت نہیں ہوئی۔ یوسف رضا گیلانی اور نواز شریف ایسی طلبی کی وجہ ہی سے بالآخر اقتدار سے فارغ ہوئے تھے۔ عمران خان صاحب کے بے تحاشہ حامیوں کو بدھ کے روز وہ بھی اسی راہ کی جانب بڑھتے نظر آئے۔ دریں اثناء فقط اتحادی جماعتیں ہی پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کی بابت اپنے تحفظات کا اظہار نہیں کررہی تھیں۔تحریک انصاف کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے کئی اراکین بھی ناراض تھے۔ان میں سے کم از کم پانچ ایسے افراد کے نام مجھے بھی معلوم ہیں جنہیں وزیر دفاع پرویز خٹک بدھ کے روز رام کرنے کی کوششوں میں مصروف رہے۔ انہیں منانے کی کوششیں مگر ناکام ہوئیں۔ دیگر کئی حکومتی اراکین اسمبلی کے ساتھ بھی ایسا ہی واقعہ ہوا ہوگا۔اسی باعث حکومت بالآخر جمعرات کا اجلاس مؤخر کرنے کو مجبور ہوئی۔بدھ کے روز سامنے آئی خفت کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لیتے ہوئے عمران خان صاحب کو اب حکومتی اراکین اسمبلی سے طویل مشاورت کا عمل شروع کرنا ہوگا۔ان کی مشاورت کے علاوہ اپوزیشن جماعتوں کوبھی تھوڑی عزت دینا ہوگی۔ جمہوری نظام تخت یا تختہ کا رویہ اختیار کرتے ہوئے چلا یا ہی نہیں جاسکتا۔ سیاست ہمیشہ لچک اور درمیانی راستہ ڈھونڈنے کا تقاضہ کرتی ہے۔ اس عمل میں کن فیکون والے معجزے رونما نہیں ہوتے۔