پرویز خٹک کے بھائی لیاقت خٹک پھٹ پڑے ،

کراچی (ویب ڈیسک)ممبر صوبائی اسمبلی خیبرپختونخوالیاقت خٹک نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی میں جانے کا فیصلہ میرا نہیں میرے بیٹے نے پارٹی ورکرز کے کہنے پر فیصلہ کیا ہے، ممبر صوبائی اسمبلی خیبرپختونخوا لیاقت خٹک نے کہا کہ ہمارا کوئی خاندانی تنازع نہیں ہے ، جب میں منسٹر بنا تو غیر سیاسی لوگ مداخلت کر رہے تھے

میں نے سیکرٹری سے بات کی وہ بھی میری بات سننے کو تیار نہیں تھے کچھ تحفظات کی بناء پر میں نے میٹنگ بلائی جس کے مینٹس میرے پاس موجود ہیں اس میں سیکرٹری نہیں آئے میری بعد میں اُن سے ملاقات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ میری مجبوری ہے میں کچھ نہیں کرسکتا، جو میرے بطور صوبائی ممبر حلقے کے فنڈز تھے وہ بھی کچھ اور لوگوں نے تقسیم کیے تمام محکموں میں خاص طور پر پبلک ہیلتھ، سی ایم ڈبلو میں کہا گیاکہ یہ فنڈ کوئی اور استعمال کرے گا۔میں نہیں جانتا میرے ساتھ کون ناانصافی کررہا تھا۔میں نے وزیراعظم سے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعہ درخواست کی کہ پانچ منٹ کے لیے مجھ سے مل لیں لیکن کسی نے نہیں سنا ایک دفعہ وزیراعظم عمران خان سے شاہ فرمان کے فون پر بات ہوئی انہوں نے کہا کہ مجھے افسوس ہے آپ کے ساتھ ناانصافی ہوئی، وزیراعلیٰ محمود خان اسلام آباد آئے شاہ فرمان موجود تھے کہا گیا ازالہ کریں گے لیکن اس کے بعد انہوں نے دوبارہ پوچھنے کی زحمت نہیں کی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں میزبان سلیم صافی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔لیاقت خٹک نے کہاکہ میں نے ضمنی انتخاب میں کبھی ٹکٹ نہیں مانگا نہ خواہش تھی میرے پاس علاقے کے لوگ آئے تھے کہ الیکشن لڑیں میں نے ان کو دو وجوہات کی بناء پر انکار کیا کیوں کہ جمشید کے ساتھ میرے ذاتی تعلق تھے چونکہ ان کا انتقال ہوگیا تو میں نے کہا کیا یہ اچھا لگے گا کہ میرا بیٹا الیکشن لڑے ۔پیپلز پارٹی میں جانے کا فیصلہ میرا نہیں میرے بیٹے نے پارٹی ورکرز کے کہنے پر فیصلہ کیا ہے ۔جہاں تک پیپلز پارٹی پر الزامات کی بات ہے وہ آج تک عدالت میں ثابت نہیں ہوئے ہیں۔ تحریک انصاف کا پچھلا دور بہتر تھا لیکن آج تمام ذیلی دفاتر ڈیولپمنٹ کے اداروں میں انتہا کی بدعنوانی ہے میں چاہتا تھا اس بدعنوانی سے آگاہ کروں۔ صوبائی اسمبلی سے ابھی تک مستعفی نہیں ہوا ہوں اپنے ساتھیوں سے مشاورت کر رہا ہوں جو سب کا فیصلہ ہوگا اس پر عمل کروں گا مجھے جب نوٹس ملے گا تو تفصیلاً جواب دوں گا ابھی تک کوئی نوٹس نہیں ملا ہے۔ اگلا الیکشن میرا بیٹا لڑے گا جو پارٹی کا فیصلہ ہوگا اس کے مطابق ہوگا جو نوشہرہ کے ورکرز ہیں انہی کی مشاورت سے فیصلہ کریں گے ۔بھائی کی مرضی ہے وہ جس پارٹی میں چاہے رہے۔

Comments are closed.