پرویز مشرف اور انکی کابینہ کے وزراء نے کس مصیبت سے جان چھڑانے کے لیے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو قربانی کا بکرا بنایا تھا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔دسمبر 1974ء میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان صرف 38 برس کی عمر میں اپنی بیگم اور دو کم سن بیٹیوں کے ہمراہ کراچی آئے جہاں ان کا باقی خاندان مقیم تھا۔ وہاں سے اسلام آباد آکر انہوں نے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو سے ملاقات کی۔

اس پہلی ملاقات میں انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کو قائل کر لیا کہ پاکستان کے لئے ایٹمی پروگرام ضروری ہے اور وہ اس سلسلے میں معاونت فراہم کر سکتے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان بتاتے ہیں اس ملاقات میں ذوالفقار علی بھٹو نے خاصی دلچسپی ظاہر کی اور اس مشورے پر عمل کا وعدہ کیا۔ اگلے برس ڈاکٹر عبدالقدیر خان دوبارہ پاکستان آئے اور ایک بار پھر ذوالفقار علی بھٹو سے ملاقات کی۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی اس حوالے سے تڑپ اور لگن ذوالفقار علی بھٹو کو قائل کر گئی اور انہوں نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے کہا وہ اٹامک انرجی کمیشن جا کر دیکھیں اس حوالے سے کتنا کام ہوا ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے جائزہ لیا تو ان کے علم میں یہ بات آئی اتنے بڑے پراجیکٹ میں ابتدائی نوعیت کا کام بھی نہیں ہوا۔ انہوں نے اس بارے میں بھٹو کو سب کچھ بتا دیا۔ذوالفقار علی بھٹو کو یہ سن کر بڑی تشویش اور افسوس ہوا ان کی تشویش میں اس وقت مزید اضافہ ہو گیا جب ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے انہیں بتایا حالات ساز گار نہ ہونے کیو جہ سے وہ 15 جنوری 1976ء کو اپنی فیملی سمیت ہالینڈ واپس چلے جائیں گے بھٹو انہیں کسی قیمت پر واپس نہیں جانے دینا چاہتے تھے۔ انہوں نے باقاعدہ ان سے درخواست کی وہ واپس جانے کا فیصلہ بدلیں اور پاکستان میں رہ کر ایٹمی پروگرام کے سلسلے میں ملک و قوم کی مدد کریں۔ اس وقت ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا شمار دنیا کے بڑے سائنسدانوں میں ہوتا تھا۔ پھر ان کی فیملی بھی غیر ملکی تھی۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اس حوالے سے اپنے قریبی دوستوں کو جو کچھ بتایا اس کا لب لباس یہ ہے کہ ہالینڈ کو چھوڑ کر پاکستان میں رہنا ان کی فیملی کے لئے ایک بہت مشکل فیصلہ تھا۔ پھر وہاں ان کی جو تنخواہ اور مراعات تھیں پاکستان میں اس وقت ان کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ مگر اس کے باوجود ان کی اہلیہ نے ان کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا اور پاکستان کی تقدیر بدلنے کا آغاز ہوا۔ انہیں سب سے پہلی مزاحمت کا سامنا ان لوگوں کی طرف سے کرنا پڑا جو اس وقت پاکستان اٹامک انرجی کمیشن میں موجود تھے۔ انہوں نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا راستہ روکنے کی ہر ممکن کوشش کی، مگر وہ بھی اپنی دھن کے پکے تھے۔ تمامتر رکاوٹوں اور مشکلات کے باوجود انہوں نے صرف چھ ماہ کے قلیل عرصے میں جولائی 1976ء کے ایک دن کہوٹہ میں یورینیم افزودگی اور ایٹم بنانے کے تاریخی عمل کا آغاز کر دیا۔ یہ وہ پہلی اینٹ تھی، جس پر ایٹمی پروگرام کی وہ شاندار عمارت کھڑی ہوئی جس کا چہرہ 30 مئی 1998ء کو دنیا نے پاکستان کے ایٹمی تجربات کی شکل میں دیکھا۔ ایک شخص نے وہ معجزہ کر دکھایا جو قوموں کی زندگی میں انقلاب برپا کر دیتا ہے۔ اس لئے بجا طور پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو محسنِ پاکستان کہا جاتا ہے۔ آج اگر پاکستان کے پاس ایٹمی قوت نہ ہوتی تو بھارت پاکستان کے ساتھ بھی وہی سلوک کرتا جو وہ خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ روا رکھے ہوئے ہے۔قوم تو اپنے اس عظیم محسن کو تا ابد خراجِ عقیدت پیش کرتی رہے گی مگر ملال یہ ہے کہ ہم نے پچھلے بیس برسوں میں اپنے اس عظیم ہیرو کے ساتھ جو سلوک کیا ہے، وہ تو لوگ دشمنوں کے ساتھ بھی نہیں کرتے بجائے اس کے ہم اپنے اس ہیرو کا دفاع کرتے جنرل پرویز مشرف اور ان کے رفقاء نے اپنی جان چھڑانے کی خاطر ایک بے بنیاد پروپیگنڈے کی بنیاد پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو عملاً محبوس کر دیا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان اس دوران کالم لکھ کر اپنے دل کی بھڑاس نکالتے رہے۔ مگر وہ آزادی سے سانس لینا بھول گئے۔ قوم ان کی فکر و دانش سے فائدہ اٹھا سکتی تھی مگر اسے اس حق سے محروم کر دیا گیا۔ سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے سچ کو کبھی سامنے نہیں آنے دیا اور یک طرفہ پروپیگنڈے کے ذریعے قوم کے محسن کی کردار کشی کی جاتی رہی۔ آج وہ اپنے آخری برسوں کی ایک مشکلات بھری زندگی گزار کے رخصت ہوئے ہیں، تو قوم ان کے سامنے شرمندہ ہے۔ اشکبار آنکھوں سے انہیں رخصت کر رہی ہے ندامت کا یہ احساس لئے کہ اپنے سب سے بڑے محسن کو وہ بنیادی حقوق بھی نہیں دے سکی جو ہر آزاد پاکستانی کا حق ہے۔ شاید اس لئے انہوں نے یہ شعر کہا ہے۔گزر تو خیر گئی ہے تیری حیات قدیر۔۔ستم ظریف مگر کوفیوں میں گزری ہے۔۔

Comments are closed.