پرویز مشرف نے ایک بار کیا انکشاف کیا تھا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) مریم نواز بینظیر کی طرح ایک متمول سیاسی خاندان کی چشم و چراغ ہیں۔ میاں نواز شریف نے بھی چار بچوں میں سے مریم میں سیاسی صلاحیت دیکھی۔ 2011ء میں مسلم لیگ میں شامل ہوئیں۔ 2013ء میں والد صاحب نے تیسری مرتبہ وزیر اعظم بنتے ہی انہیں یوتھ پروگرام کی چیئر پرسن بنا دیا۔

نامور کالم نگار جاوید حفیظ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ تحریک انصاف نے عدلیہ سے رجوع کیا کہ تقرری میرٹ پر نہیں ہوئی؛ چنانچہ اگلے سال انہیں فارغ کر دیا گیا۔ ڈان لیکس اور پانامہ کی آندھی کے بعد مریم نمایاں لیڈرشپ کی طرف بڑھنے لگیں۔ چند سیاسی مبصروں نے ان کا تقابل بینظیر کے ساتھ کرنا شروع کیا تو مریم کو یہ بات اچھی نہیں لگی اور بیان داغ دیا کہ ہمارے درمیان قدرِ مشترک صرف خاتون ہونا ہے۔ دونوں خانوادوں میں سیاسی مخاصمت عرصے سے ہے گو کہ آج کل سیاسی مصلحت بھٹو فیملی اور شریف خاندان کو پھر قریب لے آئی ہے۔دونوں خواتین نے ابتدائی تعلیم انگلش میڈیم مشنری سکولوں سے شروع کی۔ تعلیمی شعبے میں بینظیر مریم سے خاصی آگے نظر آتی ہیں‘ وہ سکولنگ کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلینڈ چلی گئیں۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کے مباحثوں میں ممتاز رہیں اور یونیورسٹی یونین کی صدر منتخب ہوئیں۔ ان کے مقابلے میں مریم پڑھائی میں کمزور نظر آتی ہیں ان کے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور میں داخلے کے قصّے ڈاکٹر یاسمین راشد سے سنیں تو بات واضح ہو جاتی ہے کہ اس کہانی میں مریم کی تعلیمی قابلیت کم اور میاں صاحب کا سیاسی زور زیادہ نظر آتا ہے۔ میڈیکل کی تعلیم مکمل کرنے کے بجائے مریم نے ایم اے انگلش کیا۔ وہ انگریزی اور اردو‘ دونوں زبانیں روانی سے بولتی ہیں جبکہ بینظیر کو اردو بولنے میں مشکل پیش آتی تھی۔ بینظیر کا خاندان شروع سے ماڈرن اور سیکولر تھا جبکہ شریف فیملی قدامت پسند تھی اور ظاہری

طور پر بہت مذہبی بھی۔زیر بحث دونوں خواتین کے والد وزیر اعظم رہے۔ دونوں نے اپنی صاحبزادیوں کی سیاسی تربیت پر خاص توجہ دی۔ بینظیر نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد مختصر عرصے کے لیے فارن آفس میں کام کیا۔ بھٹو صاحب 1972ء میں شملہ گئے تو بینظیر کو وفد میں شامل کیا۔ اس وقت بینظیر ایک ینگ لڑکی تھیں۔ پھر قید سے باپ بیٹی میں جو خط و کتابت ہوئی اس میں روشن دماغی جھلکتی ہے اور حالات کا مقابلہ کرنے کا بے پناہ حوصلہ بھی۔ بینظیر 1986 میں پاکستان آئیں تو کراچی اور لاہور میں ان کا تاریخی استقبال ہوا۔ وقت کے حکمران کو خاصی پریشانی ہوئی اور پھر اسی قسم کا استقبال 2007ء میں کراچی میں ہوا‘ جو این آر او کے باوجود جنرل مشرف اور بی بی کے درمیان ایک خلیج پیدا کر گیا۔جنرل مشرف نے ایک ٹی وی انٹرویو میں بینظیر کے بارے میں کہا تھا کہ انہوں نے خاوند کا غلط انتخاب کیا (She made a wrong choice of a husband.) لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ مکمل طور پر ماڈرن ہونے کے باوجود بینظیر بھٹو نے آصف زرداری کا خود نہیں انتخاب کیا تھا۔ یہ ایک ارینجڈ (Arranged) شادی تھی۔ دوسری جانب ایک روایت پسند اور مذہبی شریف فیملی کی نور چشم نے اپنے خاوند کا انتخاب خود کیا۔ کہا جاتا ہے کہ بینظیر کی سیاسی زندگی میں مالی بدعنوانی کا ممکنہ عنصر آصف زرداری کی وجہ سے آیا۔ سرے محل اور کوٹیکنا کمپنی سے قیمتی ہار لینے کے الزامات لگے‘ ورنہ بھٹو کی بیٹی شروع میں ایسی نہ

تھی۔ حال ہی میں مزار قائد پر کیپٹن (ر) صفدر کی حرکات دیکھ کر خوف آتا ہے کہ وہ بھی مریم نواز کے لیے سیاسی بوجھ نہ بن جائیں۔بینظیر کی مزاحمتی سیاست بھٹو صاحب کو سزا کے بعد شروع ہوئی۔ انہوں نے یہ فریضہ دلیری سے سرانجام دیا۔ عوام کی ہمدردیاں ان کے لیے بڑھ گئیں اور وہ 1988ء میں وزیر اعظم بن گئیں۔ 1993 میں وہ پھر وزیر اعظم بنیں مگر مالی بدعنوانی کے الزامات ان کا پیچھا کرتے رہے۔ 1999 میں لاہور ہائی کورٹ سے سزا ہوئی، مگر جسٹس قیوم کی فون پر گفتگو لیک ہونے کی وجہ سے سپریم کورٹ نے سرکاری مداخلت کی بنا پر یہ فیصلہ بدل دیا۔ 2007ء میں جنرل مشرف نے بینظیر بھٹو اور زرداری صاحب کے تمام کیس این آر او کے ذریعے ختم کر دیئے۔ محترمہ تو راولپنڈی میں زندگی سے محروم ہوئیں مگر زرداری صاحب صدر مملکت بن گئے۔مریم نواز یوں تو کئی سال سے سیاست میں ہیں لیکن زیادہ نمایاں لیڈر وہ اپنے والد کی سزا کے بعد بنی ہیں۔ وہ خود بھی سزا یافتہ ہیں گو کہ ان کی سزا آج کل معطل ہے لیکن آخری فیصلے تک سیاست سے معطلی کی تلوار ان کے سر پر لٹکتی رہے گی۔ ان کا وہ جملہ لوگ آج تک نہیں بھولے کہ باہر تو کیا میری تو پاکستان میں بھی کوئی جائیداد نہیں۔ عدالت نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا۔ کئی لوگ انہیں حلف نامے میں کمپیوٹر پر کی گئی جعل سازی کی وجہ سے کلیبری کوئین کہتے ہیں‘ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ جاذب شخصیت رکھتی ہیں۔ بینظیر بھٹو کی طرح سر پر دوپٹہ لیتی ہیں

اور سامعین کی جانب بھی محترمہ کے سٹائل میں ہاتھ ہلاتی ہیں۔ 2017ء میں بی بی سی نے مریم نواز کو دنیا کی سو مشہور خواتین میں شمار کیا تھا۔جس طرح مریم نواز کو بینظیر بھٹو سے اپنا تقابلی جائزہ پسند نہیں آیا تھا‘ اسی طرح پیپلز پارٹی کے کئی لیڈر بھی ایسے جائزے کو غیر ضروری اور غلط سمجھتے ہیں۔ جب دو تین سال پہلے یہ موازنہ شروع ہوا تو مولا بخش چانڈیو صاحب نے کہا تھا کہ شریف خاندان کی لاڈلی اور کسی حد تک بگڑی ہوئی بیٹی بینظیر کے سیاسی قد کو نہیں پہنچ سکتی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ بینظیر بھٹو صاحب کی چہیتی بیٹی بھی تھیں اور وہ اس کی صلاحیت کو بھی جانتے تھے۔ اسی لیے ہمارے معاشرے میں جہاں ولی عہد عام طور پر بیٹا ہوتا ہے، بھٹو صاحب نے بیٹی کا انتخاب کیا۔ اسی طرح سب جانتے ہیں کہ میاں صاحب کی جان مریم میں ہے۔ جب ڈان لیکس کا قصہ ہوا تو میاں صاحب نے اپنے دو معتمد مشیروں کی قربانی دے دی مگر مریم کو بچانے پر اصرار کیا۔پاکستان میں اچھا لیڈر بننے کے لیے ضروری ہے کہ مقامی معاشرتی روایات اور اسلامی اوامر اور نواہی کا علم ہو۔ اردو اور مقامی زبانوں پر دسترس ایک اضافی کوالیفکیشن ہے۔ بے نظیر بھٹو نے وزیراعظم بننے کے بعد سر پر دوپٹہ اوڑھ لیا تھا اور وہ مرد حضرات سے ہاتھ ملانے سے احتراز کرتی تھیں۔ کئی بار ہاتھ میں تسبیح بھی نظر آئی‘ جو کچھ لوگوں کو بالکل تصنع اور بناوٹ نظر آئی لیکن بہرحال سیاست کی کچھ مجبوریاں بھی ہوتی ہیں۔بینظیر بھٹو تو دو مرتبہ وزیراعظم منتخب ہو گئیں، مگر مریم نواز کے ایک مرتبہ وزیراعظم بننے کا چانس بھی ففٹی ففٹی سے زائد نہیں۔ بہت سے لوگ ان کی تقریر سننے ضرور آتے ہیں لیکن اس بات کا ادراک ضروری ہے کہ لیڈرشپ میں تقریر کے علاوہ پرفارمنس زیادہ ضروری ہوتی ہے۔ بینظیر نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی ترقی میں کردار ضرور ادا کیا مگر اس کے لیے علاوہ ان کی پرفارمنس واجبی سی رہی۔ کیا مریم پاکستان کے پہاڑ جیسے مسائل کا حل جانتی ہیں اور اس سے قبل کیا وہ مالی بدعنوانی میں شراکت کے الزامات سے بری الذمہ ہو سکیں گی؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *